آؤ روئیں (Syed Israr Ahmed سیّد اسرار احمدؒ)

آؤ روئیں اور خوب روئیں اس بات پر نہیں کہ ہماری خواہشات پوری کیوں نہیں ہوتیں، بلکہ اس لیے کہ ہم اپنی خواہشات کے کیسے غلام ہیں !!!

برما و فلسطین ہوں یا شام و عراق، نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر ہماری ماؤں اور بہنوں کی آہ و فغاں سے دھرتی لرزتی رہی، ہمارے جوانوں کی لاشوں کو درندے بھنبھوڑتے رہے، لیکن ابابیلیں اتریں نا آسمان نے خاموشی کا قفل توڑا، آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ امت پر ظلم و ستم کی سیاہ رات ختم کیوں نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ ڈیڑھ ارب کی مسلم آبادی میں کوئی سے دو ہاتھ بھی ایسے نہیں کہ جو دعا کے لیے اٹھیں تو اللہ انہیں خالی ہاتھ نہ لوٹائے !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ ہمارا مظلوم ہونا اللہ پرثابت کیوں نہیں ہوتا، بلکہ اس بات پر کہ ہمارا ظالم ہونا خود ہم پر ثابت نہیں ہوتا، ہم ایسے الفاظ کے ماہر بن چکے ہیں جو ہمارے ہاتھوں ہمارے ہی معاشروں میں پھیلے ظلم و فساد کے گورکھ دھندے کو عین حق و انصاف کا روپ دے سکیں !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ ہماری قومی خدمت رنگ کیوں نہیں لاتی، بلکہ اس بات پر کہ ہم نے اپنی شخصی لوٹ مار کو قومی خدمت کا خوبصورت عنوان دے رکھا ھے !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ ہماری بے گناہی پر بھی دکھ و آلام ہمارا نصیب کیوں بنتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم میں سے ہر آدمی کو ایسے قانونی نکتے ہاتھ آ گئے ہیں جو ہمارے جرائم کو بے گناہی کا سرٹیفکیٹ عطا کر دیتے ہیں !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں۔ اس بات پر نہیں کہ دنیادار اور بے دین لوگوں کے ہاتھ قیادت کیوں اور کیسے آ گئی، بلکہ اس بات پر کہ ہم نے فضائل و مسائل کا وہ انبار جمع کر رکھا ھے جو ہماری بے دینی کو دینی کمال کا شاندار کریڈٹ دے دیتا ہے !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ ہم باریک بیں و نکتہ چیں، دوسروں کی ہر بڑی اور چھوٹی غلطی کی تشہیر کو اپنا نصب العین بناتے رہے اور پھر بھی وہ بجائے نقصان اٹھانے کے اللہ کے خزانوں میں حصہ دار بنتے رہے، بلکہ اس بات پر کہ ہم دوسروں کے مچھر چھاننے کے ماہر بنے اور اپنے سموچے اونٹ نگل گئے !!!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں ، اس بات پر نہیں کہ ہم چوکوں اور شاہرا ہوں پر اللہ و رسول کے نام کے ڈنکے بجاتے رہے پھر بھی تبدیلی کی ہوائیں نہ چل سکیں، بلکہ اس لیے کہ ہم نے اپنی تنہائیوں میں پاکبازی کے رسمی چوغے اتار پھینکے اور نہاں خانہ دل کو خدا کی خشیت و انابت اور تعلق مع اللہ سے مزین نہیں کیا!!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ ہم کافروں کی بربادی کی بددعائیں کرتے رہے اور وہ تہہ در تہہ نعمتوں کی فراوانیوں سے لطف اندوز ہوتے رہے، بلکہ اس بات پر کہ ہم نے انہیں خیرخواہی اور محبت سے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا، اور انہیں نفرت و حقارت سے دھتکارتے رہے !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ آخری رسول کے امتی ہوکر بھی دنیا میں ذلت و رسوائی ہمارا مقدر کیوں بنی، بلکہ اس لیے کہ ہم نے امتی ہونے کا پاس نہ رکھا اور تمام تر بد اعمالیوں اور سرسے پاؤں تک گناہوں میں لتھڑے ہوکر بھی پیغمبر عالی مقام کو اپنا یقینی سفارشی سمجھا!!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ جلسوں اور کانفرنسوں میں دھواں دھار تقریریں ہمارا شاندار ماضی لوٹانے میں ناکام و نامراد رہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم اپنی بے عملی اور خود فریبی کو عمل کا شاندار کریڈٹ دیتے رہے !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ ہم فقہی مسائل اور ظواہر کے اہتمام میں دن رات گھلتے رہے اور پھر بھی عبادتیں حبط اعمال کا شکار ہوئیں، بلکہ اس لیے کہ اپنی نماز و عبادات کے ساتھ حسد و کبر، حج و عمروں کیساتھ عجب و ریا اور روزہ و زکوٰۃ کے ساتھ جھوٹ و ظلم جمع کرتے رہے !!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس بات پر نہیں کہ جنت کا یقین رکھ کر بھی دنیا ہمارے لیے جہنم بنی رہی، بلکہ اس لیے کہ جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک ہمارے کردار و گفتار سے ظاہر نہیں ہو سکی!!!

آؤ روئیں اور خوب روئیں، اس لیے نہیں کہ دین و مذہب کے عنوان سے مجلسیں، خانقاہیں اور بیٹھکیں سجا کر بھی خیر کی کوئی رمق نہ مل سکی، بلکہ اس لیے کہ ہم نے دین کو محض بحث و مباحثے کا عنوان بنائے رکھا اور عمل سے بے بہرہ رہے !!!

آؤ کہ آج اپنے حال پر رو لیں قبل اس کے کہ رونے پر مجبور کر دئیے جائیں، آج امتحان کی آزادی ہے، آج موقعہ ہے کہ جو چاہے فریب دیتے پھریں، مگر جب امتحان کی مدت ختم ہو گی تو ہم اپنے آپ کو بالکل بے بس پائیں گے۔ وہ دن کہ جب لکھے ہوئے طومار لپیٹ کر رکھ دیے جائیں گے، اور ہم سب پر سے فریب کا یہ پردہ اور نمائشی تقوے کا یہ لباس اتر چکا ہو گا جس کو ہم آج پہنے ہوئے ہیں، ہم میں سے ہر شخص اپنی اصل صورت میں نمایاں ہو جائے گا جو فی الواقع ہماری ہے، مگر امتحان کی آزادی سے فائدہ اٹھا کر آج ہم اس کو چھپائے ہوئے ہیں۔

ہماری یہ اصل صورت اللہ کے سامنے آج بھی عریاں و برہنہ ہے مگر آخرت کی دنیا میں وہ تمام لوگوں کے سامنے نمایاں ہو جائے گی،

آؤ کہ اپنا احتساب آج کر لیں ، آو کہ دعوت الی اللہ کو اپنا نصب العین کر لیں !!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *