اداروں کے دور میں بڑے آدمی (Abu Yahya ابویحیٰی)

ہمارے ہاں بڑے آدمیوں کی کمی کا اکثر شکوہ کیا جاتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے قانون کے مطابق بڑے آدمی ہر دور میں پیدا ہوتے ہیں ۔ آج کے دور میں بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔ ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاں بڑے آدمی پیدا نہیں ہو رہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ بڑے آدمی بہت چھوٹے لوگوں کے درمیان پیدا ہو رہے ہیں۔ چنانچہ یہ چھوٹے لوگ کبھی کسی بڑے آدمی کا اعتراف کرتے ہیں نہ اس کی قدر دانی کرتے ہیں ۔ بلکہ الٹا لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ اورجب تک اسے قبر میں نہ دفنا دیں، اس کی بڑائی کا اعتراف نہیں کرتے ۔ یوں ایک بڑا آدمی مرنے کے بعد ہی بڑا آدمی بن پاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں بڑے آدمی کو نمایاں ہونے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ وہ کسی طرح نمایاں ہو بھی جائے تو اتنا بدنام ہو چکا ہوتا ہے کہ نہ اس کا کوئی ساتھ دیتا ہے، نہ اس کی خدمات کبھی نمایاں ہوپاتی ہیں ۔

ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم اداروں میں جی رہے ہیں ۔ اب معاشرے میں تبدیلی بڑے آدمی نہیں بلکہ ادارے لاتے ہیں۔ بلکہ بڑے آدمی کو بھی ادارے ہی وہ مواقع دیتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ کوئی نمایاں خدمت سرانجام دے پاتے ہیں۔ سر دست ہم یہ ادارہ جاتی سپورٹ صرف کھلاڑیوں کو دیتے ہیں ۔علم و دانش میں تو حال یہ ہے کہ کسی بڑی صلاحیت کے شخص کے سامنے پہلا مسئلہ باعزت روزگار حاصل کرنا ہوتا ہے۔

علم و دانش کی دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا بڑا آدمی ہمیشہ مختلف سوچتا ہے ۔ وہ اپنے زمانے سے آگے کا انسان ہوتا ہے ۔ ایسا آدمی نہ تواخباروں میں روایتی صحافیانہ کالم لکھ سکتا ہے اور نہ کسی سیاست زدہ درسگارہ میں پڑھا سکتا ہے ۔چنانچہ بہت سے بڑے لوگ بڑا کام کرنے کے بجائے معاشی تقاضوں کے ہاتھوں اپنی صلاحیتوں کو گنوا بیٹھتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *