اسلامی زندگی اوراسلامی نظام (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

قرآن مجید اپنے آغاز ہی میں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے شروع میں اپنا تعارف یہ کراتا ہے کہ وہ متقیوں اورانسانوں کے لیے ہدایت ہے۔ یہ بات مختلف اسالیب میں ان گنت مقامات پر دہرائی گئی ہے۔ قرآن مجید اپنی اس ہدایت کا نتیجہ دنیا کی ا صلاح اور آخرت کی فلاح کی شکل میں بیان کرتا ہے۔ یعنی اس کی بات مان کر دنیا کے معاملات ٹھیک ہوجاتے ہیں اور انسانوں کو آخرت کی ابدی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

آخرت کا معاملہ تو قیامت کے دن ہی معلوم ہو گا لیکن دنیا کے بارے میں بڑی حد تک یہ بات واضح ہے کہ مسلمانوں اور اہل پاکستان کے اجتماعی معاملات کسی پہلو سے بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ جبکہ قرار داد مقاصد سے لے کر ختم نبوت کی آئینی ترمیم تک اورقصاص و دیت سے لے کر حدود تک، نماز صلوٰۃ سے لے کر نفاذِ زکوٰۃ تک دستوری سطح پر تبلیغی تحریکوں سے لے کر جہادی تحریکوں تک، داڑھی سے لے کر پردے تک، مسجدوں سے لے کر مدارس تک اسلام کا جو غلغلہ اس ملک میں ستر برسوں سے مچا ہوا ہے اس کا کوئی عشر عشیر بھی دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا۔

سوال یہ ہے کہ اسلام کے نام پر اس درجہ ہنگامہ آرائی اور جدوجہد کے باوجود کیوں ہمارے انفرادی اور اجتماعی معاملات خراب ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ خدا کی نصرت کے بجائے ہم ہر جگہ ذلت و رسوائی، غربت و مہنگائی، بدامنی اور بداخلاقی کا دور دورہ دیکھ رہے ہیں۔

ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب قرآن مجید کی روشنی میں بالکل واضح ہے۔ قرآن مجید نے جس چیز کو ہدایت کہا اور جسے اسلامی زندگی کے عملی راستے کے طور پر ہمیں دکھایا، وہ ہماری مذہبی فکر میں بالکل غیر اہم ہو چکا ہے۔ اس لیے کہیں زیر بحث بھی نہیں آتا۔ قرآن مجید کے بتائے ہوئے اس راستے کو ہم نے قرآن کی آیات اور اسوہ حسنہ کی روشنی میں اپنی کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ میں جمع کر دیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی محبت اور بندگی کے جذبے سے سرشار ہو اور اپنے ہر تعصب اورعقیدت کو خدا کی مرضی کے سامنے ہیچ سمجھے۔ انسان دوسرے انسانوں کے حوالے سے عائد ہونے والے فرائض اور ذمہ داریوں میں آخری درجہ میں حساس ہو اور لوگوں کے ساتھ احسان اور عدل کو زندگی بنالے۔ یہ منکرات اور فواحش سے بچ کر ایک پاکیزہ زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اور سب سے بڑھ کر انسان ان چیزوں کا ہدف اپنی ذات اور اپنے اخلاقی وجود کو بنائے نہ کہ دوسروں پر ٹھونسنے اور نافذکرنے کی دھن میں لگا رہے ۔

اس کے برعکس ہماری مروجہ مذہبی فکر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس میں جو کچھ بھی دین ہے اس کا نشانہ ہمیشہ دوسروں کو بنایا جاتا۔ ہر بولنے اور لکھنے والے کی انگلی دوسروں کی طرف اٹھی رہتی ہے۔ اس فکر میں اپنے تعصبات اور اپنے گروہ سے ہٹ کر حق کہیں نہیں پایا جاتا نہ اپنے دائرے سے باہر کسی سچائی کا ساتھ دینا جائزہے۔ اس فکر میں اسلام حکومتی اور دستوری سطح کے کچھ اقدامات کا یا اپنے ظاہر میں داڑھی، پردہ، پائنچے کو درست رکھنے اور عمامہ پہننے کا نام ہے ۔

ستر برس میں ہم نے اس مروجہ اسلام کا آخری ممکنہ عروج دیکھ لیا ہے۔ ہمارا دستورجتنا اسلامی ہو چکا ہے، اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ جتنے مرد وخواتین داڑ ھی پردہ اختیار کرسکتے تھے کر چکے۔ اب مغربی یلغار کے بعد ان کا تناسب معاشرے میں ہر حال میں کم ہوتا چلا جائے گا۔ جتنی لڑ کیاں پردہ کریں گی اس سے دس گناہ زیادہ دوپٹہ اتاریں گی اور جتنے مرد باشرع داڑھی رکھیں گے اس سے دس گنا زیادہ لوگ داڑھیاں کٹوائیں گے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہمیں قرآن مجید کی بتائی ہوئی اسلامی زندگی پر عمل کرنا ہے یا اسلامی نظام کے اس تصور پر جو دستور اور فرد کے ظاہر کی تبدیلی کو ہدف بناتا ہے۔ ہمیں خدا خوفی کے اس تصورکو اختیار کرنا ہے جو عدل و احسان کے نبوی ماڈل پر قائم ہے یا اسلام پسندی کے اس ماڈل پر قائم رہنا ہے جو احتجاج اور نعرہ بازی کو اسلام سمجھتا ہے۔ ہمیں فلاح آخرت کا متلاشی وہ انسان چاہیے جو اپنے احتساب اور اپنی بہتری کی کوشش میں مشغول رہتا ہے یا پھر وہ جو دوسروں پر اسلام ٹھونسنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ہمیں انسانیت کے وہ ہمدرد چاہئیں جو پوری خیرخواہی سے ان کی اصلاح اور ہدایت کے خواہشمند ہوں یا وہ خدائی فوجدار چاہئیں جو انسانیت کوا پنوں اور غیروں کے خانے میں تقسیم کیے رکھیں۔ ہمیں وہ حکیم داعی چاہئیں جو گہری بصیرت کے ساتھ لوگوں کو دعوت دین دیں یا پھر وہ خدائی فوجدار چاہئیں جو اندھے راہ دکھانے والو ں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں فرقہ پرست دیندار چاہئیں یا پھر خدا پرست بندے چاہئیں جو رب کی مرضی کو اپنے تعصب اور خواہش پر غالب رکھیں۔

ہم نے ستر برس ایک تجربہ کر کے دیکھ لیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مزید تباہی سے پہلے قرآن مجید کے اصل پیغام کی طرف لپکیں۔ اگر ہم نے اس پیغام کو اختیار کر لیا تو پھر دنیا اور آخرت کی کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ ورنہ اپنی تباہی سے ہم زیادہ دور نہیں رہ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سماجی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *