اسلام ، اسلام ازم اور مغرب (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

[یہ ابو یحییٰ صاحب کی اس تقریر کا متن ہے جس کا انگریزی ترجمہ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں پڑھا گیا، ادارہ]

انسان اس دھرتی پر کتنے عرصے سے آباد ہے، یہ بات کچھ قطعیت کے ساتھ تو نہیں بتائی جا سکتی، لیکن معلوم انسانی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر انسانوں کی تاریخ باہمی تصادم اور خونریزی سے عبارت ہے۔ پوری انسانی تاریخ کا احاطہ کرنا تو اس مختصر گفتگومیں ممکن نہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہابیل و قابیل سے شروع ہونے والے تنازعات نے پہلے قبائلی جھگڑوں اور پھر بادشاہوں اور خاندانوں کی حکومت کی شکل میں قوموں کے درمیان مستقل جنگ وجدل کی شکل اختیار کر لی۔ اگر ہم جدید تاریخ کی بات کر لیں تو چھوٹے بڑے تنازعات کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے آتی ہے ۔

دورِ جدید کی تاریخ کے دو مراحل گزر چکے ہیں۔ دورِ جدید کی تاریخ کا پہلا مرحلہ وہ تھا جب اقوامِ عالم قومی ریاستوں کی بنیاد پر تقسیم تھیں۔ اس دور میں مغرب کی اقوام علم و فن اور ٹیکنالوجی سے مسلح ہوکر اپنے ممالک سے نکلیں اور پوری دنیا پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ بعد میں جنگ عظیم اول اور دوم کے نتیجے میں سامراجی ممالک کی قوت ختم ہوگئی۔ نوآبادیاتی ریاستیں ایک ایک کر کے آزاد ہوگئیں ۔ تاہم اس کے بعد اقوام عالم ایک نئی کشمکش کا شکار ہوگئیں۔ یہ کشمکش نظریاتی بنیادوں پر تھی جس میں جدید دنیا کے اہم اور طاقتور ترین ممالک، کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد پر، امریکہ اور سوویت یونین کے زیر سایہ، دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ یوں بیسویں صدی کا نصفِ آخر دو عظیم سپر پاورز کی باہمی چپقلش سے عبارت رہا۔ یہ وہ دور تھا جب بظاہر غیر جانبدار کہلائے جانے والے ممالک بھی کسی نہ کسی اعتبار سے دو سپر پاورز سے متعلق تھے۔ ان ممالک کی یہ کشمکش صرف نظریاتی بنیادوں تک محدود نہ تھی بلکہ اس عرصے میں دنیا ایٹمی جنگ کی شکل میں اپنی مکمل فنا کے خطرے سے دوچار رہی۔ اس کے علاوہ سپر پاورز کی پراکسی وار اور دیگر ممالک کی باہمی جنگ وجدل میں انسانی خون مسلسل بہتا رہا۔ دورِ جدید کی تاریخ کا یہ دورسو ویت یونین کے خاتمے کے ساتھ تمام ہوا۔

کمیونزم کے زوال کے نتیجے میں سوویت یونین ختم ہوا تھا، دنیا نہیں۔ چنانچہ سرد جنگ کے فاتح اہل مغرب کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ اب دنیا کے معاملات کس اصول پر چلیں گے؟ اقوام عالم کی نئی صف بندی کن اساسات پر ہو گی؟ نیا عالمی نظام کن بنیادوں پر استوار ہو گا؟ ان سوالات کے نتیجے میں بہت سے جوابات سامنے آئے مگر جس نقطۂ نظر نے دنیا بھر کے اہل علم و دانش کی توجہ حاصل کی وہ سیموئل پی ہنٹنگٹن کے شہرۂ آفاق مضمون ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ میں پیش کیا گیا۔ یہ مضمون 1993 میں ’فارن افیئرز‘ نامی جریدے میں شایع ہوا۔ بعد میں مصنف نے اسی عنوان سے ایک کتاب میں اپنے نقطۂ نظر کو تفصیلی دلائل کے ساتھ موید کر کے پیش کیا۔

اس کتاب کی ا شاعت پر قریباً ربع صدی کا عرصہ گزرچکا ہے اوراس دوران میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بین اقوامی سیاست میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے اس کی سب سے بہتر تفہیم بلاشبہ اسی خاکے کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے جو ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ کتاب اپنے صفحات کے اعتبار سے تو بے حد ضخیم ہے مگر مرکزی خیال کے اعتبار سے بہت مختصر۔ یعنی سرد جنگ کے بعد کی دنیا ثقافتی بنیادوں پر تقسیم ہو گی اور یہی تقسیم مستقبل کی جنگ و امن کے سلسلے میں فیصلہ کن ہو گی۔

یہ کتاب ایک خاص نقطۂ نظر کی تنقید میں لکھی گئی تھی جو سرد جنگ کے خاتمے اور کمیونزم کے خلاف مغرب کی کامیابی کے بعد مغربی حلقوں میں بڑا مقبول ہوا تھا۔ یعنی آزاد، جمہوری اور سرمایادارنہ مغربی معاشرہ انسانی فکری ارتقا کی آخری حد ہے۔ جس کے بعد دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ یہی اقدار مبنی برحق ہیں۔ دنیا انہیں قبول کر رہی ہے۔ اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اس عمل کے نتیجے میں ایک عالمی آفاقی تہذیب وجود میں آجائے گی جس کا امام مغرب ہو گا۔ اس نقطۂ نظر کی نمائندہ کتاب 1989؁ء میں شایع ہونے والی فرانسس فوکویاما کی کتاب “The End of History” تھی۔

مصنف نے اس نقطۂ نظر کو رد کرتے ہوئے اہل مغرب پر یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرد جنگ کے بعد بین الاقوامی تصادم ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی اساسات بدل گئی ہیں۔ پہلے یہ تصادم قومی اور نظریاتی بنیادوں پر ہوتا تھا اور اب تہذیبی بنیادوں پر ہو گا۔ مصنف واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ مغرب کا ٹکراؤ ممکنہ طور پر چین اور مسلم دنیا سے ہو گا۔

آج ہم دورِجدید کے تیسرے دور میں سانس لے رہے ہیں۔ بہت سے حلقے ہنٹنگٹن کی اس رائے سے نہ اس وقت متفق تھے اور نہ آج ہیں۔ مگر دنیا کو دیکھنے کا ایک تناظر یہ ہے کہ کیا ہونا چاہیے اور دوسرا یہ کہ درحقیقت کیا ہورہا ہے۔ پہلے زاویے سے دیکھاجائے تو ہم میں سے کوئی بھی ہنٹنگٹن سے اتفاق نہیں کرنا چاہے گا۔ دوسرے زاویے سے جب ہم پوسٹ نائن الیون دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس سے اختلاف کرنا آسان نہیں ہے۔ القاعدہ کا 23 فروری 1998 کا افغانستان سے جاری کیا ہوا وہ فتویٰ ہو جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہوئے فوجی اور سویلین کا قتل جائز قرار دیا گیا یا پھر نائن الیون کا واقعہ ہو، امریکہ کا افغانستان اور پھر عراق پر حملہ ہو یا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا معاملہ ہو، یا القاعدہ، طالبان اور اب داعش کی مغربی طاقتوں سے مسلسل جنگ ہو، سب اس بات پر شاہد ہیں کہ مسلم تہذیب اور مغربی تہذیب کلی نہ سہی مگر جزوی طور پر حالت جنگ میں ہیں۔ اس جزوی جنگ کے نتیجے میں لوگوں میں دوریاں پیدا ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ ایک طرف مسلم ممالک کے عوام میں مغربی ممالک کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف بعض مغربی ممالک میں برقنی اور اسکارف پر پابندی، اسلامو فوبیا کے فروغ، مسلمان مخالف سیاستدانوں کی مقبولیت اور مسلم ممالک کے لوگوں کو معقول وجوہات کے باوجود مغربی ممالک کے ویزہ نہ ملنے کا عمل اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔

یہ صورتحال بتاتی ہے کہ یہ جزوی تصادم اسلام اور مغرب کے مکمل تصادم میں بدل سکتا ہے، اگر ہم نے صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ یہ طالب علم ایک مسلمان اوراسلام کے ایک نمائندے کی حیثیت سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اسلام کا نقطہ نظر سامنے رکھے۔ اوریہ واضح کرنے کی کوشش کرے کہ اسلام کی اصل تعلیم عالمی تصادم کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ فرد، معاشرے اور تمام انسانیت کے لیے خیر و فلاح کا پیغام ہے۔

اس طالب علم کے نزدیک یہ اسلام اور مغرب کی جنگ نہیں بلکہ اسلام کے نام پر بیسویں صدی میں متعارف کرائی جانے والی دین کی ایک سیاسی تعبیر یعنی سیاسی اسلام یعنی اسلام ازم اور مغرب کے بعض سیاسی گروہوں کی جنگ ہے جن کے مفادات جنگ اور تصادم سے وابستہ ہیں۔ اسلام ازم کی فکر کو بیسویں صدی کے ربع اول میں قبل از تقسیم ہندوستان میں مولانا مودودی اور مصر میں حسن البنا نے متعارف کرایا تھا۔ بعد میں مصر کے سید قطب نے اس فکر کو اپنے قلم سے مزید طاقت بخشی تھی۔

اس فکر کا بنیادی خیال یہ تھا کہ اسلام کل دنیا میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے آیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ پہلے اپنے معاشروں میں اور پھر پوری دنیا میں اسلام کو سیاسی طور پر غالب کر دیں۔ اس فکر کے پیش کرنے والوں کے نزدیک مسلم ممالک میں جو اشرافیہ حکمران ہے وہ سیکولر ازم کی علمبردار، مغربی تہذیب سے متاثراور انھی کے مفادات کی نگہبان ہے۔ چنانچہ ان کو اقتدار سے ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کرنا کرنے کا بنیادی کام ہے۔ ابتدا ہی میں اس فکر کے حاملین کا ٹکراؤ اپنے ملک کی قیادت سے ہو گیا۔ خاص کر مصر اور دنیائے عرب اس تصادم کا بڑا میدان تھی۔ پاکستان میں خوش قسمتی سے مولانا مودودی نے جمہوری راستہ اختیار کر لیا تھا اس لیے وہاں یہ ٹکراؤ فکری اور سیاسی میدان تک ہی رہا۔ پاکستا ن میں اسلام کو ریاستی سطح پر نافذ کرنے کے لیے دستوری جدوجہد کے ذریعے بہت سی تبدیلیاں اور ترامیم کی گئیں۔ یوں پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر سے قبل یہ ایک دستوری جدوجہد ہی رہی۔

1979 میں جس وقت سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تو امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک اور اسلامی ممالک کے اتحاد نے اپنی پراکسی جنگ لڑنے کے لیے اسلامسٹ فکرکو نہ صرف فروغ دیا بلکہ عملی طور پر انھیں ہر ممکن سہولت ، جنگی تربیت، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی۔ مغرب کی سیاسی قیادت نجانے اس بات سے کیوں انجان بن گئی کہ وہ افغانستان کرائے کے سپاہی نہیں بھیج رہے بلکہ اسلام ازم کی فکر کو ایک نرسری فراہم کر رہے ہیں جس کا آخری ہدف پوری دنیا پر اسلام کا سیاسی غلبہ قائم کرنا ہے۔ جن کے نزدیک مغربی سیکولر نظام ہو یا مسلم آمرانہ اور جمہوری حکومتیں سب ہی حکومت سے معزول کیے جانے کے قابل ہیں۔ چنانچہ یہ کچھ افراد کو طاقت دینے کا عمل نہیں تھا بلکہ ایک عالمی سیاسی غلبہ کی دعویدار فکر کو طاقتور بنانے کے ہم معنی تھا۔افغانستان کی فکر ختم ہوگئی مگر یہ نظریہ زندہ تھا۔ چنانچہ یہی وہ نظریہ ہے جو ایک کے بعد دوسری تنظیم اورایک کے بعد دوسرے لیڈر کی شکل میں آج بھی ظاہر ہو رہا ہے۔

اسلام ازم کی اس فکر پر عالم اسلام میں بہت طاقتور علمی اور فکری تنقیدیں ہو چکی ہیں۔ مگر زمینی حالات کی بنا پر ان تنقیدوں کو اپنی تمام تر صحت کے باوجود مسلمانوں کی فکری قیادت میں زیادہ قبولیت نہیں ملی۔ اس کا سبب پچھلی دو صدیوں میں مسلم ممالک پر مغربی ممالک کی تاریخ ہے۔ جبکہ اس صورتحال کو پیچیدہ بنانے میں کشمیر اور فلسطین کے سیاسی تنازعات نے اہم کردار ادا کیا ہے جو عام مسلمانوں میں اینٹی مغرب خیالات کے فروغ کا اہم سبب ہیں۔ ایسے میں اہل مغرب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کے لیڈر ہونے کی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے جلد از جلد سیاسی تنازعات کے خاتمے کے لیے کوشش کریں۔ جبکہ دوسری طرف ضروری ہے کہ اب عام لوگوں تک اسلام کا اصل پیغام قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی روشنی میں پہنچایا جائے تاکہ اسلام کا امن او رمحبت پر مبنی روشن چہرہ لوگوں کے سامنے نمایاں ہو۔

قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی ہے۔ امتحان یہ ہے کہ کون غیب میں رہتے ہوئے اللہ پروردگار پر ایمان لاتا ہے اور اس کے احکام پر اپنی آزادانہ مرضی سے عمل کرتا ہے۔ یہاں ہر شخص کو اختیار ہے کہ ایمان لائے یا انکار کر دے۔ قرآن مزید وضاحت کرتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ اس پہلو سے دیکھیں تو اسلام ایک دعوت ہے۔ یہ کوئی جبر نہیں ہے۔ یہ اپنی مرضی سے خدا کے حکم کے سامنے جھک جانے کا نام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کو بن دیکھے اس کے سامنے جھک جانے کا نام ہے۔ یہ اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہوجانے کا نام ہے۔ اسلام دوسروں پر دین ٹھونسنے کا نام نہیں۔ یہ دوسروں کی خیر خواہی کے جذبے سے ان تک ان کے رب کا پیغام پہنچانے کا نام ہے۔ جو لوگ ایمان لائیں قرآن مجید ان کے سامنے اپنے نفس کے تزکیہ کا ہدف رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کو یہ بشارت دیتا ہے کہ جس شخص نے تزکیہ نفس کا راستہ اختیار کیا وہ جنت کی ابدی کامیابی کے حقدار ہیں اور جو نفس کو آلودہ کریں گے ان کے لیے آخرت کی نامرادی ہو گی۔

اس تزکیہ نفس کا جو راستہ دین بیان کرتا ہے وہ ایمان وعمل صالح کے کچھ مطالبات ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ ان مطالبات کا بنیادی خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کے ساتھ اور مخلوق خدا کے ساتھ اپنا تعلق درست بنیادوں پر استوار کر لے۔ یہ درست بنیادیں عدل، احسان اور انفاق ہیں۔ قرآن مجید ان تین چیزوں کو اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور تین چیزوں یعنی بدکاری، حق تلفی اور ظلم سے رکنے کا حکم دیتا ہے۔ چنانچہ اسلام کی تعلیمات ایک طرف فرد کو آنے والی دنیا میں کامیابی کی بشارت دیتی ہیں اور دوسری طرف دنیا میں انسانیت کے لیے فلاح و بہبود کا سامان ہیں۔ اس لیے کہ دنیا میں ہمیشہ فساد کی وجہ یہی رہی ہے کہ لوگ عدل، احسان، دوسروں کی مدد سے گریزاں رہتے ہیں اور بدکاری، ظلم اور حق تلفی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

اسلام نے اپنے پیروکاروں کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق افراد کی ذاتی زندگی سے ہے۔ یہ مطالبات انسان کے جسم کی پاکیزگی اور خور ونوش کی پاکیزگی کے حوالے سے ہیں۔ یہ احکام خدا کی عبادت اور اس کے بارے میں درست نقطہ نظر رکھنے کے حوالے سے ہیں۔ یہ احکام مخلوق خدا کے ساتھ عدل و احسان کے تقاضے پورا کرنے کے حوالے سے ہیں۔ یہ احکام بدکاری سے رکنے اور عفت کے فروغ کے حوالے سے ہیں ۔

تاہم انسان چونکہ ایک سماجی وجود ہے اس لیے قرآن مجید نے انسان کی معاشرتی حیثیت کو ملحوظ رکھ کر بھی کچھ احکام دیے ہیں۔ چنانچہ ایک فرد جب شوہر بنتا ہے تو اس حیثیت میں کچھ ذمہ داریاں اس پر عائد ہوجاتی ہیں۔ والدین اور اولاد کے تعلق کی شکل میں کچھ اور ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں۔ قرابت داروں سے معاملہ کرتے ہوئے کچھ ذمہ داریاں اس پر عاید ہوتی ہیں۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *