اسلام ازم کیا ہے؟ (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

ہمارے ہاں دانشورانہ حلقوں میں مختلف فکری اصطلاحات کے مفہوم اور استعمال کے حوالے سے ایک بحث جاری ہے۔ ایسی ہی ایک اصطلاح اسلام ازم اور اسلامسٹ ہیں۔ اس عاجز کی توجہ اور زندگی کا اصل مقصد ایمان و اخلاق کی اس دعوت کو زندہ کرنا ہے جس پر اصلاً انسانوں کی نجات موقوف ہے، اس لیے یہ فقیر کوشش کر کے ان فکری مباحث سے دور ہی رہتا ہے۔ لیکن اب اس بنیاد پر ہمارے ہاں لوگوں کے نقطہ نظر سے بڑھ کر پروردگار کے نزدیک لوگوں کی ایمانی حیثیت بھی زیر بحث آ رہی ہے ، اس لیے یہ عاجز ضرورت محسوس کرتا ہے کہ علمی طور پراس اصطلاح کا مفہوم واضح کر دیا جائے ۔

اسلام ازم یا اسلامسٹ مسلمانوں کی بنائی ہوئی کوئی اصطلاح نہیں۔ دراصل بیسویں صدی میں مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کے احیاء کی دو بنیادی تحریکیں اٹھیں یعنی سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کی جماعت اسلامی اور شیخ حسن البنا ء کی اخوان المسلمون۔ ان تحریکوں نے احیائے اسلام کے تصور کو ایک فکری اساس عطا کی اور دنیا بھر کے اسلام پسند عناصر کو متاثر کیا۔ اہل مغرب نے اس فکر اور اس سے پیدا ہونے والی عملی تحریکوں یا ایکٹوازم کو جب سمجھنے کا عمل شروع کیا تو اپنی فکری روایت کے مطابق اس مظہر کو اصطلاحات کے دائرے میں لانا چاہا۔ چنانچہ اس کے لیے چند اصطلاحات استعمال کی گئی جو درج ذیل ہے ۔

Political Islam, Radical Islam, Islamic Revivalism, Islamicdamentalism, Extremism , Islamo-Fascism, Islamic Fun Jihadism

جن لوگوں کے لیے یہ اصطلاحات ایجاد کی گئی تھیں، ان کا تو خیر ان اصطلاحات کو پسند کرنے کا کوئی سوال نہیں تھا، مسلمانوں کے عام فکری حلقوں نے بھی بالعموم ان اصطلاحات کو قبول نہیں کیا۔ البتہ اسلام ازم اور اسلامسٹ کی اصطلاح کو مسلمانوں کے فکری حلقوں نے اس پہلو سے قبول کر لیاکہ اصلاً اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اسلام کی تعلیم انفرادی کے ساتھ ساتھ زندگی کے اجتماعی پہلوؤں میں بھی رہنمائی کرتی ہیے ۔ ظاہر ہے کہ یہ تصور مغربی فکر سے متاثر ہو کر مذہب کو صرف ذاتی زندگی کے محدود سمجھنے والے اقلیتی مسلمانوں کے برعکس بیشتر مسلمانوں کی رائے ہے ۔

تاہم اسلامسٹ کی تعبیر کو قبول کرنے سے ہمارے ہاں ایک کنفیوژن پیدا ہو گیا ہے۔ کیونکہ اسلام کی تعبیر کو اجتماعی زندگی میں بھی رہنما ماننے والے بھی دو گروہ ہیں ۔ ایک وہ جواجتماعی سطح پر دین کے نفاذ کو دین کا نصب العین سمجھتے ہیں اورخیال کرتے ہیں کہ ایک قلیت کا اقتدار پر قابض ہوکر اپنے فہم دین کو اجتماعی طور پر نافذ کرنا بالکل درست ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر پوری دنیا پر مسلمانوں کا غلبہ قائم کرنا ان کی مشن اسٹیٹمنٹ کا حصہ ہے ۔

جبکہ دوسرا گروہ ہے جو دین کی تعلیمات کو اجتماعی پہلوؤں سے متعلق مانتے ہوئے یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ نہ یہ دین کا نصب العین ہے کہ ایک عام فرد اجتماعی سطح پر دین کے نفاذ کی جدو جہد کرے نہ کسی اقلیت کا بالجبر اپنا نقطہ نظر باقی مسلمانوں پر ٹھونس دینا درست ہے ۔ وہ فطری طریقے سے اجتماعی سطح پر دین کے ظہور کے قائل ہیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی علاقے میں جب نماز پڑھنے والے لوگ جمع ہوجاتے ہیں تو ایک مسجد خوبخود بن جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس ضرورت کو سامنے رکھتے ہیں اور باقی لوگ تائید اور مدد کر دیتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ لوگوں کو نماز میں  دلچسپی ہو۔ اگر نماز سے دلچسپی نہیں تو مسجد سے بھی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر اسلام کا شعور رکھنے والے لوگ کسی معاشرے میں موجود ہیں تو پھر اجتماعی سطح پر اسلامی قوانین کا ظہور خوبخود ہو گا۔ اگر یہ نہیں ہو رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کا درست شعور ہی نہیں ہے۔ ایسے میں اوپر سے اسلام ٹھونسے سے منافقت کے سوا کچھ اورجنم نہیں لے گا۔

جو پہلا گروپ ہے اس میں سے کچھ لوگ اجتماعی سطح پر نفاذ اسلام کو دین کا نصب العین تو سمجھتے ہیں لیکن اس میں جبر کے قائل نہیں۔ وہ اس کے لیے جمہوری طریقے اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس پہلو سے وہ دوسرے گروہ سے قریب ہیں ۔ تاہم دین کی سیاسی تعبیر ان کے لیے نصب العین کی حیثیت رکھتی ہے۔ یوں گویا یہ دو شاخیں ہوگئیں ۔ دونوں میں مشترک یہ چیز ہے کہ اسلام کو اجتماعی طور پر نافذ کرنا فرد کا نصب العین ہے۔ جس کو پورا نہ کرنے پر اسے قیامت کے دن جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔ ان میں سے ایک گروہ جبر کا اور دوسری جمہوریت کا قائل ہے۔ اہل مغرب اسلامسٹ کی اصطلاح ان دونوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ اصطلاح غلطی سے ان تمام لوگوں کے لیے استعمال کر دی جاتی ہے جو دین کی تعلیم کو فرد کے ساتھ اجتماعی پہلو سے بھی متعلق اور قابل عمل مانتے ہیں ۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصلاً یہ اصطلاح دین کی سیاسی تعبیر کے حاملین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ تعبیر پہلے مسلم معاشروں اور پھر پوری دنیا میں دین کے سیاسی غلبے کی علمبردار ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے مرحلے میں تو یہ کام جمہوری طریقے سے ممکن ہے، مگر دنیا پر مسلمانوں کا غلبہ جنگ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس فکر کی آخری منزل دنیا سے ایک فیصلہ کن ٹکراؤ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مغرب اس فکر کے حاملین کو جمہوری طریقے سے بھی غالب آتا دیکھ کر خائف ہوجاتے ہیں ۔

اس کے برعکس دوسرا گروہ ہے جو چاہتا ہے کہ اسلام کا حکم ہر اس جگہ چلے جہاں پروردگار نے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے ۔ چنانچہ معیشت، معاشرت ، سیاست اور ہر پہلوئے زندگی پر وہ اسلام کی بادستی کا قائل ہے ۔ لیکن اس کے لیے وہ تعلیم و تربیت کا طریقہ درست سمجھتا ہے۔ باقی دنیا کے معاملے میں بھی وہ ٹکراؤ کہ بجائے دعوت کو درست راستہ سمجھتا ہے ۔

چنانچہ یہاں نہ جبر کا کوئی سوال ہے، نہ ایک عام فرد پر وہ غیر فطری ذمہ داری عائد کی جاتی ہے کہ نفاذ اسلام کے لیے لازماً کسی جماعت میں شامل ہو جاؤ یا پھر اپنی جماعت بنا کر یہ کام کرو۔ نہ دنیا سے وہ غیر ضروری ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے جو کمزوری کی موجودہ حالت میں مسلمانوں کے لیے انتہائی تباہ کن ہے ۔ اس طبقے کو اردو میں اسلام پسند تو کہا جا سکتا ہے، مگر جس مفہوم میں اہل مغرب اسلامسٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، وہ ان کے لیے موزوں نہیں۔ اہل علم و دانش کو اس بنیادی فرق کو سمجھ کر مکالمہ کرنا چاہیے۔ ورنہ کنفیوژن بڑھتا رہے گا۔ اسی طرح یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس دوسرے گروہ کو کسی پہلو سے پہلے گروہ سے کم مخلص یا مغرب سے متاثر سمجھنا ایک ظلم ہے جس کی جواب دہی روز قیامت کرنا ہو گی۔

نوٹ: اس موضوع پر مغربی اہل علم کا نقطہ نظر جاننے کے لیے جن کتابوں کا مطالعہ مفید رہے گا ان میں سے دو اہم کتابیں درج ذیل ہے ۔ دلچسپی رکھنے حضرات ان کا مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

Islamism: A Documentary and Reference Guide by John Calvert

The Failure of Political Islam by Olivier Roy

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to اسلام ازم کیا ہے؟ (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. anonymous says:

    excellent point …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *