اعتباریت کا بحران (Abu Yahya ابو یحییٰ)

Download PDF

ہمارے ہاں جن لوگوں کو معاشرے میں لکھنے اور بولنے کی بنا پر کوئی نمایاں مقام حاصل ہے، ان میں سے بیشتر کا پسندیدہ شغل یہ ہے کہ اپنے سے مختلف خیالات کے کسی شخص کو نشانہ بنا کر اس پر بے جا تنقید کی گولہ باری کی جائے۔ ہم اس رویے کی وجوہات پر بحث نہیں کرنا چاہتے، صرف اس چیز کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ جو لوگ افکار کے بجائے افراد کو ہدف تنقید بناتے ہیں وہ اپنی آخرت اور دوسروں کی دنیا خراب کرتے ہیں ۔

ایسے لوگوں کی آخرت اس طرح خراب ہوتی ہے کہ وہ تنقید کے جوش میں اکثر دوسروں کی نیت کو زیربحث لے آتے ہیں۔ بدگمانی سے کام لیتے ہیں۔ اپنی کم علمی یا جہالت کے باوجود پورے اعتماد سے دوسروں کے بارے میں فیصلے دیتے ہیں۔ ان کو بدنام کرتے اور ان پر جھوٹے الزام و بہتان لگاتے ہیں۔ ان میں سے ہر رویہ آخرت کی جوابدہی کو لازم کر دیتا ہے ۔

دوسروں کی دنیا وہ اس طرح خراب کرتے ہیں کہ جس معاشرے میں ہر نمایاں شخص کو وجہ بے وجہ ہدفِ تنقید بنانے کا سلسلہ عام ہوجائے وہاں سب لوگوں بشمول تنقید کرنے والے کی اعتباریت آخر کار ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں تنقید کرنے والے بھی ہمیشہ جوابی تنقید کا ہدف بنتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو گمراہ قرار دیتے ہیں کچھ اور لوگ پہلے ہی ان کو گمراہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ جو دوسروں کے خلاف مہم چلاتے ہیں ، ان کے خلاف بھی آخر کار مہم چلتی ہے۔

ایک عام آدمی اس صورتحال سے متوحش ہو جاتا ہے۔ خاص کر دین کے نام لیوا یہ کام کریں تو وہ خود دین ہی سے برگشتہ ہو جاتا ہے۔ ایسی باتوں سے اکثر لوگوں میں منفی انداز فکر پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ ہر شخص اور ہر چیز کو سازش اور برائی کے پہلو سے دیکھتے ہیں۔ معاشرے میں بدگمانی جنم لیتی ہے اور اعتبارختم ہو جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ دنیا میں کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ یوں یہ ناقدین اپنی آخرت اور دوسروں کی دنیا کی خرابی کا کام سرانجام دیتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to اعتباریت کا بحران (Abu Yahya ابو یحییٰ)

  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    اس روئیے سے پاک محض چند لوگ ہیں معاشرے میں اور ان لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ یہ لوگ آخر دم تک اس روئیے سے باز رہنے کی کوشش میں رہیں اور اللہ تعالی بھی انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ الحمد للہ ، اللہ تعالی نے آپ کو بھی اس روئیے سے پاک رکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *