اعتقاد کی سند ( Professor Aqil پروفیسر عقیل)

Download PDF

 میں چند دن قبل اپنے دوست سے ملنے گیا ۔ کافی دنوں بعد ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے پتے میں کافی عرصے سے درد ہے ۔ اور وہ ایک دن پتے کا آپریشن کرانے کے لئے ہسپتال میں بھی ایڈمٹ ہو گیا تھا کہ کسی صاحب نے کہا کہ کلونجی ہر مرض کی دوا ہے اور یہ بات قرآن و حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے ۔ چنانچہ اللہ کا کلام کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ بس تم صبح سے سات دانے کلونجی کے کھانا شروع کر دو۔ میرے دوست نے ہسپتال سے کوچ کیا اور کلونجی کے دانے کھانا شروع کر دئیے ۔

میں نے اس سے پوچھا:

“کیا تم نے ٹیسٹ کروایا کہ پتے میں پتھری ہے یا نکل گئی؟”۔

اس نے کہا: ” دیکھو بھئی مجھے اللہ پر یقین ہے کہ اب وہ پتھری نہیں ہو گی اور اعتقاد کا تقاضا ہے کہ میں ٹیسٹ نہ کراؤں ورنہ تواعتقاد اور توکل کس بات کا؟

میں نے اس سے پوچھا: ’’کیا تم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ تمہارا اعتقاد درست بھی ہے یا نہیں ؟‘‘

اس نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے پھر پوچھا: ’’اچھا یہ بتاؤ کلونجی میں شفا ہے ۔ یہ بات قرآن میں کہاں لکھی ہے ؟‘‘

وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ کہنے لگا اچھا حدیث میں بیان ہوئی ہو گی۔ میں نے اسے بتایا کہ ایسی کوئی بات کسی صحیح حدیث میں میرے علم کے مطابق بیان نہیں ہوئی ہے کہ کلونجی پتے کی پتھری کا علاج ہے ۔ کلونجی کے بارے میں جو حدیث بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے :

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بیماری ایسی نہیں سوائے موت کے جس کی شفاء کلونجی میں نہ ہو۔‘‘( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1271)

یہ سن کر وہ کہنے لگا:” دیکھو اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کلونجی میں ہر مرض کی دوا ہے سوائے موت کے۔ تو تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ پتے کی پتھری کا علاج نہیں ہے ؟

میں نے کہا : ’’ اچھا چند احادیث سنو‘‘

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھنبی (Mushroom) آنکھوں کے لئے علاج ہے عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہو موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے ۔( مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2934)

ایک اور حدیث ہے :

عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی ہر صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھالے تو اس دن کوئی زہر اور جادو اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 424)

’’اگر کلونجی عمومی طور پر ہر مرض کی دوا ہوتی تو نبی کریم کھنبی کو آنکھوں کے علاج کے لئے کیوں تجویز کرتے اور عجوہ کو زہر اور جادو کے لئے کیوں تریاق قرار دیتے ۔‘‘

’’لیکن اس حدیث میں تو کہا گیا ہے کہ کلونجی ہر مرض کی دوا ہے سوائے موت کے ۔‘‘ اس نے پھر استفسار کیا

میں نے اسے سمجھایا:

” دیکھو بعض اوقات حدیث میں ایک بات مختصر بیان ہوتی ہے اور اس سے پہلے یا بعد میں کیا بات تھی وہ اکثر بیان کرنے والا نہیں بیان کرتا۔ جس کی بنا پر غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے ۔ درج ذیل حدیث تمہاری اس بات کا جواب ہے کہ کلونجی ہر مرض کی دوا ہے :

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شفا تین چیزوں میں ہے پچھنے لگوانا، شہد پینا یا آگ سے داغ لگوانا، اور اپنی امت کو داغ لگوانے سے منع کرتا ہوں ۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 659)

یہاں دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شفا اگر ہے تو تین چیزوں میں اوریہاں کلونجی کا ذکر نہیں کیا۔

Posted in Uncategorized, ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to اعتقاد کی سند ( Professor Aqil پروفیسر عقیل)

  1. anonymous says:

    may Allah reward you for writing such an important article. i feel this is one of the biggest issues in our muslim ummah, that they often rely on one or few ahadith, and use their apparent interpretation to deduce principles in various aspects of their life. Ahadith must be properly understood in the light of Quran and Sunnah, before one can give a ruling. Jazak-Allah for highlighting it.

  2. Muhammad Ilyas says:

    I hope professor will change his viewpoint about hadith on kalwanji.I believe there is absolutely no problem in understanding this saying of Prophet by taking it as it is.

    • Abu Yahya says:

      اس حدیث کو ایز اٹ از لینے میں جو قباحت ہے وہ سب اس آرٹیکل میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اگر آپ کو اس میں کوئی مسئلہ محسوس نہیں ہوتا تو آپ کو یہ رائے اختیار کرنے کا پورا حق ہے اور شاید یہی حق دوسرے کو بھی حاصل ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

  3. Amy says:

    I’ll have a little disgreement with the author here because i believe i would take this Hadith as it is and believe (tawwakul & eateaqad) that there is a cure for every malady in klonjii. The medical science and research somehow, maybe, is lacking in proving it or still behind to find it’s all-cure properties. But offcourse, i’ll use my best judgement to not just rely on it ONLY. I think i’ll listen to my doctor and if surgery is not an aviodable option, why not do both (use klonjii along with what my doctor suggests).
    I have complete faith in this Hadith of Prophet pbuh but God has given us “common-sense” and enough sense to use our judgement, not to cloud it with just our mere imaginations or lack of knowledge.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *