انتخاب اوراستعمال (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

قرآن مجید میں کئی جگہ یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا پیغام پہنچانے کے لیے انتخاب کرتے ہیں۔ یہ انتخاب انبیا و رسل کا بھی ہوتا ہے، فرشتوں کا بھی ہوتا ہے اور افراد اور گروہوں کا بھی ہوتا ہے ۔

تاہم قرآن وحدیث پر تدبر سے ایک دوسری حقیقت بھی سامنے آتی ہے ۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات صالحین کے بجائے کمتر چیزوں اوربرے لوگوں کو بھی اپنے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ یہ استعمال کسی خیر کے کام کے لیے بھی ہوتا ہے اور کبھی دین کی نصرت و تائید کے لیے بھی ۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مچھر یا اس سے حقیر چیزوں کو استعمال کر کے بھی اپنے مدعا کو بیان کرتا ہے ۔ یا ایک صحیح روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد رجلِ فاجر سے بھی کر دیتے ہیں ۔

پہلی چیز کے لیے ہم نے انتخاب کا لفظ استعمال کیا ہے اور دوسری کے لیے استعمال کا۔ پہلی چیز کا تعلق چونکہ تشریعی امور سے ہے اس لیے قرآن مجید میں اس کا باقاعدہ اعلان کر کے واضح کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری کا تعلق تکوینی امور سے ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کا نظام چلانے کے لیے بہت سے انتظامی فیصلے کرتے ہیں جس میں بعض چیزیں ویسے نہیں ہوتیں جیسے بظاہر ہونی چاہییں ۔ ان میں سے بعض چیزوں کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف میں واقعہ موسیٰ و خضر میں کھولی ہے ۔ تاہم تفصیل سے اس پر قرآن مجید میں بات نہیں کی گئی ہے۔ البتہ تاریخ میں اور اپنی عملی زندگی میں بارہا ایسے مظاہر سامنے آتے رہتے ہیں ۔

اس معاملے کو ایک عملی مثال سے سمجھیں ۔ دنیا کا ہر مذہبی شخص چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم خدا کے نام پر کھڑا ہوتا ہے ۔ یہی معاملہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور گروہوں کا ہے۔ ہر شخص خدا کانام لیتا ہے۔ بزعم خویش خود کو خدائی فوجدار سمجھتا ہے۔ اپنے نقطہ نظر کو آخری حق اور اپنے فرقے کو فرقہ ناجیہ قرار دیتا ہے۔ ہر ہر مسلمان، یہودی، عیسائی ، ہندو، قادیانی، شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث وغیرہ کو یہی یقین ہوتا ہے کہ وہ خدا کی نمائندگی کر رہا ہے ۔

اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ بیک وقت سب کے سب لوگ حق پر ہوں ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر گروہ سے کچھ نہ کچھ خیر بھی پھوٹ رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور مشرکین مکہ حرم اور زائرین حرم دونوں کی خدمت کرتے تھے۔ یا پھر انیسویں صدی میں جب الحاد کا ظہورہوا تو اس کے خلاف وجود باری تعالیٰ کے حق میں سب سے بڑھ کر مدلل دلائل مسیحی اہل علم نے پیش کیے جو بہت بڑی خدمت تھی۔ چنانچہ اس طرح کے خیر کی یہی توجیہ کی جا سکتی ہے کہ کچھ لوگوں کا انتخاب ہوا اور اور کچھ لوگ استعمال ہورہے ہیں ۔

یہ بات اگر واضح ہے تو دین کے نام پر کھڑے ہر شخص کے لیے ایک سخت خوفناک صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے دل میں خدا کا معمولی سا بھی خوف ہے تو اس پر یہ سوچ کر لرزہ طاری ہوجاتا ہے کہ اس کے ذریعے سے کرایا جانے والا دینی کام انتخاب کے اصول پر ہورہا ہے یا استعمال کے اصول پر۔ وہ اگر انتخاب کے اصول پر کھڑا ہے تو اپنا اجر اپنے رب سے پائے گا۔ اور اگر وہ استعمال کے اصول پر کھڑا ہے تو یہ طے ہے کہ قیامت کے دن ذلت و رسوائی کے سوا اس کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔ چاہے وہ خود کو کتنا ہی نیک سمجھے ۔ چاہے اس کے پیروکار اسے کتنی ہی عزت و توقیر کا مقام عطا کریں ۔

تاہم ایک ذریعہ ایسا ہے کہ قیامت سے قبل ہی ہر شخص اپنے بارے میں یہ جان سکتا ہے کہ اس سے ظہور پذیر ہونے والا خیر انتخاب کے اصول پر پھیل رہا ہے یا استعمال کے اصول پر۔ یہ طریقہ ہے کہ اپنا بے رحمانہ احتساب کرنا۔ اپنے پیدائشی فرقے ، اپنے موجودہ نقطہ نظر کو حق کا معیار بنانے کے بجائے اس سچائی کو معیار سمجھنا جو خارج میں موجود ہے۔ سچائی کی یہ تلاش ہی انسان کو وہ انکساری دیتی ہے کہ انسان اپنی غلطی کو فوراً مان لیتا ہے ۔ وہ اپنی اصلاح فوراً کر لیتا ہے ۔ اپنے فکر و عمل کی دنیا میں مسلسل بہتری لاتا ہے ۔

ایسے شخص کو اپنا مذہب تبدیل کرنا پڑے تو وہ بڑے حوصلے سے یہ کام کر لیتا ہے۔ اسے فرقہ چھوڑنا پڑے تو اطمینان کے ساتھ اسے چھوڑ دیتا ہے ۔اپنے نقطہ نظر کی غلطی ماننی ہوتو بلا جھجک مان لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ استعمال کے اصول پر خدا کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، ان کے سامنے وقت کا پیغمبر بھی آ کر کھڑا ہوجائے تو وہ اپنی رائے اور نقطہ نظر نہیں بدلتے ۔ وہ دلیل اور سچائی کو بے معنی نکتہ آفرینی سے چٹکیوں میں اڑانے کو اپنے علم و فن کی معراج سمجھتے ہیں۔ وہ حق اور سچ کے متعلق ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں ہوتے کہ وہ ان کے سوا کہیں اور بھی ہو سکتا ہے ۔

مسلمانوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ مذہب کی تبدیلی جیسے بہت مشکل عمل سے گزرنے سے بچالیے گئے ہیں۔ وہ پیدا ہی دین حق پر ہوئے ہیں ۔ تاہم ہر مذہبی مسلمان کسی نہ کسی فرقے اور خاص نقطہ نظر سے ضرور وابستہ ہوتا ہے۔ یہیں پر اس کا امتحان ہوتا ہے ۔ اس پر لازم ہے کہ وہ سچائی کی تلاش کو خود پر لازم کر لے ۔ یہ نہ کرسکے تو جب سچائی چل کراس کے سامنے آئے تو پہلے لمحے میں اسے رد کرنے کے بجائے اس پر اور اس کے دلائل پر پوری سنجیدگی سے غور کرے ۔ جو لوگ یہ کریں گے اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کا انتخاب کر کے ان کے ذریعے سے انسانیت تک سچائی پہنچائیں گے۔ اور آخرت میں وہ جنت کی سرفرازی اور عزت سے ہمکنار ہوں گے۔ جبکہ وہ لوگ جو اندھے اوربہرے بن کر ہر سچائی کا سامنا کرتے ہیں، وہ اس دنیا میں تواستعمال کیے ہی گئے ہیں ، کل قیامت کے دن بھی وہ استعمال ہوں گے ۔ ۔ ۔ جہنم کی رونق بڑھانے کے لیے ۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *