انسانی پالوشن ( Abu Yahya ابویحییٰ )

جدید تمدن کا ایک بہت بڑا مسئلہ پالوشن (Pollution) ہے ۔ یہ مسئلہ صنعتی انقلاب کے بعد پیدا ہوا ہے ۔ جب انسان کی بنائی ہوئی مشینوں سے نکلنے والا دھواں اور مختلف قسم کے کیمیکل وغیرہ نے ہوا، مٹی اور پانی کو مختلف قسم کی آلودگیوں یا پالوشن سے بھردیا ہے ۔ یہ آلودگیاں انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہیں ۔ اس خطرے پر قابو نہ پایا گیا تو کرہ ارض پر انسان کا مستقبل بہت تاریک ہوجائے گا۔ چنانچہ دنیا بھر میں آلودگیوں کو کم کرنے اور قابو میں رکھنے کے لیے شعور سازی اور قانون سازی کی جا رہی ہے۔

انسانی معاشروں کے لیے آلودگی کی ایک اور قسم بھی شدید نقصان کا باعث ہے ۔ یہ آلودگی خارج کے بجائے انسانوں کے اندر پیدا ہوتی ہے ۔ یہ آلودگی منفی انداز فکر سے پیدا ہوتی ہے اور انسان کے اندر نفرت اور مایوسی کی شکل میں اپنا ظہور کرتی ہے ۔

مایوسی کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ انسان سے عمل کا جذبہ چھین لیتی ہے ۔ وہ اسے خود غرض اور مفاد پرست بنا دیتی ہے ۔ ایسا شخص دن کی روشنی میں کھڑا ہو کر اندھیرا دیکھتا ، ساحل سمندر پر گھٹن محسوس کرتا اور دریا کے کنارے پیاس سے تڑپتا رہتا ہے ۔ جبکہ نفرت انسان سے ہمدردی، خیرخواہی، نرمی اور رحم جیسی اعلیٰ صفات چھین لیتی ہے ۔ نفرت کا مریض آگ اگلتا، فساد پھیلاتا، عداوت اور جھگڑے میں اپنی توانائیاں خرچ کرتا اور نتیجتاًمعاشرے کو ظلم و فساد سے بھردیتا ہے ۔

انسان کی زندگی امید اور محبت کی آکسیجن پر منحصر ہے ۔ نفرت اور مایوسی کے مریض ان دونوں سے محروم ہوتے اور دوسروں کو محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ خود پالوشن کا شکار ہوتے ہیں اور صحافت، دانشوری اور مذہب کے نام پر معاشرے میں بھی اسی پالوشن کو پھیلاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی باتوں پر توجہ دینے کا نتیجہ نفسیاتی مریض بننے کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا۔

_____***_____

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to انسانی پالوشن ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. kausar Moin says:

    I am regular qari of your magazine. your all subject very very informative. I am passing all good massage to all our friends/relative through net. Because this very good infromation
    should read .

    Kausar Moin (male)

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *