انقلابی اور تدریجی تبدیلی (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہیں ۔ وہ جو چاہیں لمحہ بھر میں ایک انقلابی تبدیلی کے ذریعے سے کرسکتے ہیں ۔ مگر اپنی اس طاقت کے بالکل برعکس انھوں نے اس کائنات میں جو طریقہ رائج کر رکھا ہے وہ انقلابی تبدیلی کا نہیں بلکہ تدریجی تبدیلی ہے ۔ مثلاً انسان ، جانور، نباتات حتیٰ کہ زمین اور سورج بھی ایک تدریجی تبدیلی سے گزر کر اپنے کمال کو پہنچتے ہیں ۔ ہاں اس کائنات میں انقلابی تبدیلی کا طریقہ بھی رائج ہے ۔ مگر انقلابی طریقہ صرف اس بات کا تعارف کراتا ہے کہ انقلابی تبدیلی ہمیشہ تباہ کن ہوتی ہے ۔ جیسے زلزلہ، سونامی، طوفان اور سیلاب سب انقلابی تبدیلی لاتے ہیں ، مگر یہ تبدیلی تباہی کی نوعیت کی ہوتی ہے ۔

ان دونوں طرح کے ماڈل میں اللہ نے یہ نمونہ رکھا ہے کہ تعمیری تبدیلی ہمیشہ تدریجی ہوتی ہے اور انقلابی تبدیلی تباہ کن ہوتی ہے۔ انسانی معاشرے بھی اس کے گواہ ہیں ۔ دنیا کی تاریخ میں انسانیت پر سب سے زیادہ اثر مغربی تہذیب نے پیدا کیا ہے ۔ مگر خود مغربی تہذیب کئی صدیوں کے تدریجی عمل کے بعد اس مقام تک پہنچی ۔ اس کے برعکس سوویت انقلاب کی تبدیلی نے آدھی دنیا کو متاثر کیا۔ مگر اس انقلاب کے آغاز ، استحکام اور خاتمہ تک کروڑوں لوگ مارے گئے ، سو ویت یونین ٹوٹ گیا اور صرف ستر برس میں اس نظریہ کی موت واقع ہوگئی۔

ان سارے حقائق کے باوجود پاکستان میں بار بار انقلابی تبدیلی کی بات ہوتی ہے ۔حالانکہ ہماری قوم سے زیادہ انقلاب شاید ہی کسی نے دیکھیں ہوں ۔ پچاس کی دہائی میں سیاسی قیادت کی ناپختگی اور نااہلی کی وجہ سے ملک میں ایک مستقل بحران جاری تھا۔ اس کے بعد ایک انقلاب آیا۔ بظاہر ملک میں تیزی سے ترقی ہوئی، مگر اس عشرہ انقلاب میں مشرقی پاکستان میں جو لاوا پکا اس کی بنا پر جلد ہی ملک ٹوٹ گیا۔

یہی معاملہ ستر کے عشرے میں ہوا جب بھٹو صاحب کو اس دور کے سب سے بڑے ولن کے طور پر پیش کیا گیا۔ دھاندلی کے الزام لگے ۔ پھر ایک اور انقلاب جو پھر ایک عشرہ جاری رہا، مگر جب یہ انقلاب رخصت ہوا تو ملک منشیات، ناجائز اسلحہ، تخریب کاری ، فرقہ واریت، لسانی اور صوبائی عصبیت کی دلدل میں دھنس چکا تھا۔ نوے کی دہائی میں میاں صاحب اور بی بی صاحبہ پر کرپشن اور نا اہلی کے الزام لگا کر ان کی حکومتوں کو بار بار رخصت کیا گیا۔ پھر مشرف صاحب کا انقلاب آیا۔ مگر جب مشرف صاحب کا یہ دور حکومت ختم ہوا تو انتہا پسندی اور دہشت گردی پاکستان کی شناخت بن چکے تھے ۔

ٍ بے نظیر صاحبہ نے صدر مشرف کو ہٹانے کے لیے شراکت اقتدارکا ایک تدریجی طریقہ اختیارکرنا چاہا۔ وہ اگر اس تدریجی طریقے میں کامیاب ہوجاتیں تو پاکستان کو کبھی زرداری صاحب کا وہ بدترین دور نہ دیکھنا پڑتا ، مگر بدقسمتی سے ایک انقلابی تحریک کے ذریعے سے جب مشرف صاحب کو ہٹایا گیا تو جو ہوا وہ اتنی پرانی بات نہیں کہ لوگوں کو یاد دلانا پڑے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بار بار کے تجربات کے بعد پاکستانی قوم سیکھتی کیوں نہیں ہے ۔ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ تدریجی تبدیلی سے آنے والے لوگ جس سسٹم سے آتے ہیں وہاں اپوزیشن اور میڈیا دونوں کا یہ حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ ان کی غلطیاں بیان کریں ۔ اقتدار چونکہ بڑی خرابیاں پیدا کرتا ہے، اس لیے خرابی تو بہرحال ہوتی ہے ، مگر اپوزیشن اور میڈیا اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ یوں حکمران اور شیطان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ جبکہ انقلابی طریقے سے آنے والے لوگ نہ اپوزیشن برداشت کرتے ہیں نہ اختلاف رائے ، نہ میڈیا کو آزادی دیتے ہیں نہ صحافیوں کو۔ چنانچہ ان کی بڑی سے بڑی خرابی پر پردہ پڑا رہتا ۔ یہ پردہ دس سال بعد جب اٹھتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور ملک کو اس کے سنگین تنائج بھگتنے پڑتے ہیں ۔

اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ زرداری صاحب کے دور کے عیوب جب بیان ہوتے رہے تو پانچ سال بعد ہی عوام نے ایک اصولی انداز میں انھیں اقتدار سے رخصت کر دیا۔ یہی تدریجی طریقے کی خوبی ہوتی ہے کہ خرابی کے حد سے بڑھنے سے پہلے ہی اس کی جڑ ختم کر دی جاتی ہے ۔

اس وقت ملک میں جو کچھ ہورہا وہ ایک دفعہ پھر ناسمجھی کی کہانی ہے ۔ ہم کسی صورت موجودہ حکمرانوں کے غلط رویوں کے حامی نہیں ۔ مگر ان کی خرابیوں کو بنیاد بنا کر کسی انقلابی طریقے سے تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی تو تاریخ کا بے لاگ فیصلہ ہے کہ اس طریقے نے پاکستان کو پہلے بھی نقصان پہنچایا ہے اور آئندہ بھی پہنچائے گی۔ اس وقت اگر کوئی اصلاح چاہتا ہے تو اس کے لیے درست راستہ یہ ہے کہ الیکشن کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی جائے اور اقتدار کی مدت چار سال مقرر کی جائے تاکہ عوام کو جلد احتساب کا موقع ملے ۔ اس کے علاوہ ہر دوسرا راستہ تباہی کی طرف جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

3 Responses to انقلابی اور تدریجی تبدیلی (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. sajjal says:

    MashaAllah Sir bhot khoob tajzia pesh kia ap ne. Kaash humari awam ye haqiqat smaj jaey.

  2. Amy says:

    Agreed! Jazak Allah khair

  3. Muhammad Usman says:

    hamara ravya yeh hai k” main khud jab tabdeli la sakta hon to kesi k sath ta’won q karon”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *