اپنا نقطہ نظر ( Abu Yahya ابویحییٰ )

 

دور جدید میں مسلمانوں کی تربیت میں یہ بات شامل ہو چکی ہے کہ اس دنیا میں دو نقطہ نظر ہوتے ہیں ۔ ایک اپنا نقطہ نظر اور دوسرا غلط نقطہ نظر۔اس تربیت کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی بات کو سننے ، سنجیدگی سے لینے ، اس کے دلائل پر غور کرنے ، اپنی غلطی کو ماننے ، حتیٰ کہ اپنی غلطی کے امکان کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے ۔

پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہنے کا سبب صرف یہی نہیں کہ انسان

دوسروں کی بات سنتا نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اسے پہلے دن سے یقین دلا دیا جاتا ہے کہ تم ہی ٹھیک ہو اور باقی سب غلط ہیں۔ حالانکہ اکثر ایسے لوگوں کا علم بالکل معمولی ہوتا ہے ۔ وہ علم و تحقیق کی روایت سے سرے سے واقف ہی نہیں ہوتے ۔ وہ زمینی حقائق سے آخری درجے میں لاعلم ہوتے ہیں ۔ ان کا کل سرمایہ جہالت پر مبنی اعتماد ہوتا ہے ۔

اس انذاز فکر میں سکون تو بہت ہے کہ انسان اپنی بات کی کمزوری سامنے آنے پر جس اذیت کا شکار ہوجاتا ہے، غلطی نہ مان کر انسان اس سے جان چھڑا لیتا ہے ۔ مگر اس سطحی اور وقتی سکون کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نہ صرف سچائی سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ اپنی غلطی کی اصلاح کے بعد دنیا میں ترقی اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا جو عظیم موقع مل سکتا تھا، وہ اسے کھو دیتا ہے۔ اپنی غلطی مان لینے کے بعد وقتی تکلیف ہوتی ہے ، مگر اس کے بعد جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ ایسی روحانی اور فکری ترقی ہوتی ہے کہ اس کی سرشاری زندگی بھر نہیں جاتی۔ مگر بدقسمتی سے لوگ اپنے تعصبات کے پیچھے اس طرح اندھے ہوتے ہیں کہ وہ ہمیشہ لذت اعتراف سے محروم رہتے ہیں ۔

اعتراف خدا کی دنیا میں لامحدود ترقی کا راستہ ہے ۔ مگر ایک متعصب اور ڈھیٹ آدمی یہ موقع ہمیشہ کے لیے کھودیتا ہے ۔

——***——

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to اپنا نقطہ نظر ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *