ایدھی صاحب :باعث فخر باعث ندامت (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

ایدھی صاحب جیسی ہستی کا وجود کسی بھی قوم کے لیے باعث فخرہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کا کام کسی بھی ریاست کے لیے باعثِ ندامت ہے۔ انہوں نے ساری زندگی جو کام کیا یعنی خدمت خلق اور جس طبقے کے لیے کیا یعنی غریب ترین لوگ، یہ کام اور یہ لوگ اصلاً ریاست کی ذمہ داری تھے۔ یہ کام اگر کسی فرد واحد ہی نے کرنا ہے تو پھر ریاست کا کیا فائدہ؟ لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر اسے ٹیکس کیوں دیں اور کیوں کچھ لوگوں کو اقتدار میں پہنچائیں ؟

ایک مہذب ریاست میں عام شہریوں کے حوالے سے حکومت پر تین کاموں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ ایک امن و امان، دوسرا روزگار اور بنیادی ضروریات کی فراہمی اور تیسرے بنیادی تعلیم۔ ہمارے ہاں حکومت ان تینوں ذمہ داریوں سے خود کو فارغ سمجھتی ہے۔ ایسے میں ایدھی صاحب کا وجود اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت تھا۔ خاص کر سندھ کے اس صوبے کے لیے جہاں شہری آبادی کا تناسب ملک میں سب سے زیادہ اور شہری آبادی کے حالات اتنے ہی خراب ہیں ۔

اس خرابی کی ذمہ داری کسی اور کی نہیں اسی صوبے کے عوام کی ہے۔ یہاں کے دو نسلی گروپوں یعنی سندھیوں اور مہاجروں نے طے کر رکھا ہے کہ کچھ بھی ہو وہ اپنے لسانی تعصبات سے اوپر نہیں اٹھیں گے۔ جس کے بعد ان کی لیڈرشپ مطمئن ہے کہ وہ کچھ بھی کر لیں عوام نے کسی اور کو ووٹ نہیں دینا ۔ یوں عوام کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہوتی چلی جا رہی ہے ۔

عوام الناس کے یہی وہ خراب حالات ہیں جن میں ایدھی صاحب جیسے لوگوں کا دم بہت غنیمت تھا۔ ان کی شکل میں معاشرے کے غریب غربا کے پاس ایک امید تھی اور ان کی ذات میں سماجی کام کرنے والوں کے لیے ایک رول ماڈل تھا۔ ایدھی صاحب چلے گئے لیکن وہ اپنے پیچھے وہ امید اور وہ رول ماڈل چھوڑ گئے جو آنے والوں کے لیے ایک مشعل راہ بنا رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *