ایکس ، وائی ، زی تھیوری ( Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

 

ہمارے ہاں بیشتر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ دور جدید میں جتنا ارتقا سائنسی علوم میں ہوا ہے اتنا ہی یا شاید اس سے زیادہ ارتقا سماجی علوم میں ہوا ہے ۔ سماجی علوم میں سے نفسیات اور سوشیالوجی بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان پر کی گئی تحقیق سے سماجی ماہرین نے انسانوں کی کارکردگی کے حوالے سے تین نظریات پیش کیے ہیں جن کا استعمال عام طور پر مینجمنٹ سائنس میں کیا جاتا ہے ۔ یہ ایکس، وائی اور زی تھیوری کہلاتی ہیں ۔

ایکس تھیوری کے مطابق عام انسان کام سے بچنا چاہتے ہیں اور بغیر جبر اور دباؤکے کام نہیں کرتے۔ وائی تھیوری اس کے برعکس نقطہ نظر پیش کرتی ہے یعنی لوگ دباؤ اور خوف کے بجائے اپنی اس فطری جبلت کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں جس کے نزدیک کام، کھیل اور آرام جتنا ہی اہم ہے اور عام حالات میں لوگ معاوضہ ملنے کی امید پر خود ہی ذمہ داری سے کام کر لیتے ہیں ۔ زی تھیوری کے مطابق کسی شخص کے کام کرنے کا انحصاراس بات پر ہوتا ہے کہ جس کے لیے کام کیا جا رہا ہے وہ اس کی ضروریات کا کس حد تک خیال کرتا ہے ۔

یہ تینوں تھیوریز اپنی اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہیں ۔ دور جدید کے کارپوریٹ کلچر میں مینجمنٹ انھی کی بنیاد پر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے ۔ تاہم قرآن مجید کے ایک طالب علم کے لیے یہ قرآن مجید کی حقانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت ہے ۔ اس لیے کہ قرآن مجید نے آج سے ڈیڑ ھ ہزار برس قبل ، جب کسی نے باقاعدہ علم نفسیات پر کام کیا تھا نہ سماجیات پر، بندوں اور رب کے تعلق کو جب موضوع بنایا تھا ، ٹھیک انھی تین پہلوؤں سے انسانوں کو رب کی بندگی پر ابھارا۔

پہلا پہلو وہی ہے جسے ایکس تھیوری بیان کرتی ہے یعنی بعض اوقات اور کچھ لوگوں کے لیے دباؤ ڈال کر جھنجھوڑنا ہی ان سے کام کرانے کا درست طریقہ ہوتا ہے ۔ اس کو قرآن مجید انذار کہتا ہے ۔ یعنی اللہ کی پکڑ اور جہنم کی سزا اور اس کے عذابوں کی شدت کا تصور دلا کر لوگوں کو نافرمانی سے روکا جائے ۔دوسرا پہلو وائی تھیوری والا ہے ۔ یعنی بندگی انسانوں کی فطرت میں شامل ہے اور جب ساتھ میں اللہ کی رضا اور جنت کی خوشخبری کے پہلو سے لوگوں کو ابھارا جاتا ہے تو لوگ اپنی فطرت کے زور پر اور جنت کے شوق میں اللہ کی عبادت اور بندگی پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔

تیسرا پہلو زی تھیوری والا ہے ۔ اس پہلو میں قرآن مجید لوگوں کو آسمان سے لے کر زمین تک اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، رحمت، شفقت اور عنایات کے ان انتظامات کی طرف توجہ دلاتا ہے جو انسان کی ہر ضرورت کو پورا کرتے ہیں ۔ قرآن مجید بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی دی۔ عدم سے وجود بخشا۔ اس کے لیے آسمان سے پانی اتارا۔ دن کو سورج سے روشن کیا اور دامن شب کو چاندی کا چراغاں دیا۔ میاں بیوی کا محبت والا تعلق پیدا کیا۔ پھر اس سے ان کی نسل چلائی۔ ہزاروں قسم کے جانداروں کے لیے صرف گھاس اور چارے کو پیدا کیا لیکن انسان کے لیے طرح طرح کے ذائقے پیدا کیے ۔

ان جیسی ہزاروں نعمتوں کو یاد دلا کر قرآن مجید لوگوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جس رب نے ان کے لیے یہ سارے اہتمام کیے ہیں ، وہی اس قابل ہے کہ اس کی بندگی کی جائے ۔ جس نے انسانوں کی ہر ضرورت کو پورا کیا اور مستقبل میں بھی پورا کرنے کی یقین دہانی کرا رہا ہے اسی کی عبادت کا راستہ درست راستہ ہے ۔

انسان بندگی کی اس دعوت کو مانیں نہ مانیں یہ ان کا مسئلہ ہے لیکن قرآن کا یہ طریقہ دعوت اب سماجی علم کی ترقی سے بھی سند تصدیق حاصل کر چکا ہے ۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن مجید اسی رب کا نازل کردہ ہے جو ہر انسان کا خالق اور سب سے بڑھ  کر ان کی نفسیات کو جاننے والا ہے ۔

_____***_____

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

7 Responses to ایکس ، وائی ، زی تھیوری ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. sajjal says:

    subhanallah.nahayat khoobsorat tahreer…

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair

  3. hirazubari says:

    Good to read (y)

  4. emad says:

    Subhan Allah -Kiya Khoobsorat Samjhane ka Andaaz hai-JazakAllah Khair

  5. Mohammed Nayyer Afroze says:

    masha allah bahot hi maloomati article hai.
    un logon k liyey munh tod jawab hai jo yeh kehtey phirtey hain keh (nauzobillah) Allh toa jannat aur hooron ka lalach dey ker apni ebadat kerney ko kehta hai…

  6. Hafeez Khan says:

    Beshak wohi Allah hai jiske ehkamaat ki pairvi behudd zaroori hai.

  7. Hafeez Khan says:

    Beshak wohi Allah hai jiske ehkamaat ki pairvi behudd zaroori hai. Os Allah ki ibadat jo sub ka paalnay wala hai.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *