ایک ادبی اسلوب ( Abu Yahya ابویحییٰ )

 ادبی کلام کا اصل مقصد لوگوں کے ذوق حسن و جمال کو متاثر کر کے ان کے دلوں کے تار کو چھیڑنا ہوتا ہے ۔ اس کا مقصد بات لوگوں کے کانوں تک نہیں ان کے دلوں تک پہنچانا ہوتا ہے ۔ اس لیے ادبی کلا م منطق اور حساب کتاب کی زبان سے ہمیشہ مختلف ہوتا ہے ۔

اس کی ایک مثال قرآن و حدیث میں آنے والے وہ بیانات ہیں جو دنیا کے حوالے سے آئے ہیں۔ ان بیانات میں جب دنیا کی مذمت کی جاتی ہے تو اکثر دنیا کی زندگی کے منفی پہلو یا برائیاں زیر بحث لائی جاتی ہیں ۔ ایک سطحی آدمی اس کو پڑھ کر یہ مطلب نکال سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی ہر چیز بری ہے ۔حالانکہ قرآن و حدیث میں دوسرے مقامات پر دنیا ، اس کی زینت، اس کی حسنات اور دولت دنیا کو بڑے مثبت پیرائے میں بھی پیش کیا گیا ہے ۔

ایسے میں منفی نوعیت کے مقامات کو سمجھنے کا درست طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اسے علی سبیل الاختصاص سمجھا جائے۔ یعنی دنیا کی یہ جتنی بھی مذمت اس آیت یا حدیث میں آ رہی ہے وہ خاص اسی پس منظر میں ہے ۔ بعض اوقات یہ پس منظر سیاق کلام میں ہوتا ہے اور بعض اوقات موقع محل میں اور کبھی سرے سے بیان ہی نہیں ہوتا۔ مگر منطق یا حساب کی زبان کی طرح اس بات کی وضاحت نہیں کی جاتی۔ اس خاص موقع پر دنیا کے مثبت پہلوؤں کو نہیں گنوایا جائے گا۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو پھر کلام اپنی اثر آفرینی ، زورِبلاغت ، بیان کی شدت، لہجے کی کاٹ اوراحساس جمال و لطافت کے ان تمام پہلوؤں سے محروم ہوجائے گا جو دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔

اختصاص کا یہ اسلوب نہ کلام کا عیب ہوتا ہے نہ اس سے کوئی غلط فہمی پیدا ہونی چاہیے۔ نہ کوئی انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہی اخذ کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہے تو کرنے کا کام قاری اور شارح کی اصلاح ہے نہ کہ کلام اور متکلم کو تنقید کا ہدف بنا لینا ۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to ایک ادبی اسلوب ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. anonymous says:

    excellent point …

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *