ایک مظلوم آیت ( Abu Yahya ابویحییٰ)

 

قرآن مجید میں شریعت کے کم و بیش تمام احکام قرآن مجید کی ابتدائی سورتوں یعنی سورہ بقرہ سے سورہ مائدہ میں دیے گئے ہیں ۔ سورہ مائدہ کے اختتام پر ایک آیت ہے جو پوری شریعت اور دین کے بارے میں ایک اصولی ہدایت دیتی ہے۔ مگر بد قسمتی سے آج کے دور میں اس آیت کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ مستحق ہے۔ سورہ مائدہ  کی 105  نمبر اس آیت کا ترجمہ یہ ہے ۔

اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو، اگر تم ہدایت پر ہو تو کسی دوسرے کی گمراہی تمھارا کچھ نہیں بگاڑے گی۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھروہ تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔

یہ آیت اہل ایمان کو ایک انتہائی مثبت انداز فکر دیتی ہے ۔ یہ انسان کی توجہ خارج کی اس دنیاسے ہٹا دیتی ہے جس میں بہت زیادہ کوشش کر کے بہت تھوڑی تبدیلی لانا بھی آسان نہیں ۔ اس کے برعکس یہ انسانوں کی فکر وعمل کا رخ اس کے اپنے وجود کی طرف موڑ دیتی ہے ۔ اپنی اصلاح اور بہتری کا یہ راستہ ایک ایسی دنیا کا راستہ ہے جہاں انسان کی کامیابی یقینی ہے ۔ جہاں وہ مکمل انقلاب برپا کرسکتا ہے ۔

مگر بد قسمتی سے دور جدید میں مختلف تاویلات کر کے اس آیت کو غیر اہم بنا دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ دوسروں کی طرف رہتی ہے ۔ دوسرے کیا کر رہے ہیں ۔ ان کا علم و عمل کیسا ہے ۔ دنیا میں کیا ہورہا ہے ۔ دنیا میں کیسے انقلاب لایا جائے ۔ دوسرے پر دین کیسے ٹھونسا جائے ایسے لوگوں کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

انسانی دماغ ظاہر ہے کہ ایک وقت میں دو سمت نہیں چل سکتا۔ جس دل میں دوسروں کی اصلاح کا سودا سما جائے، بہت مشکل ہے کہ وہ اپنی اصلاح کی طرف کوئی توجہ دے ۔ جو نظر ہمیشہ دوسروں کی طرف اٹھی رہے وہ کیسے اپنے عیوب دیکھنے کے قابل ہو سکتی ہے ۔ جس کے بعد یہ سانحہ پیش آتا ہے کہ دوسرے تک دین پہنچانے اوران پر دین نافذ کرنے کے علمبرار اپنی ذاتی زندگی میں فکر و عمل کی طر ح طرح کی آلائشوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ایسے لوگ اپنی اصلاح کو کوئی کام نہیں سمجھتے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ انسانی اصلاح کوئی ایک دن کا کام نہیں ۔ یہ ساری زندگی کا کام ہے ۔ پھر اصلاح نفس کے اتنے گوشے ہیں کہ یہ ہمہ وقت انسان کی توجہ چاہتے ہیں ۔ انسان کا عمل، اس کا ردعمل، اس کی شخصیت، اس کی نفسیات، اس کی عادات غرض ہر چیز ہر وقت احتساب کا مطالبہ کرتی ہے۔ مگر دوسروں کو دیکھتے رہنے والوں کو یہ علم ہی نہیں ہو پاتا کہ کون سی خرابی کس راہ سے ان کے اندر داخل ہوگئی ہے ۔ چنانچہ وہ ساری دنیا میں چراغ جلاتے ہیں ، مگر ان کے اپنے اندر اندھیرے جگہ بنالیتے ہیں ۔ وہ ساری دنیا کو وعظ کرتے ہیں ، مگر ان کے دل کی سماعتوں کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔

یہاں خیال رہے کہ یہ آیت امر بالعروف و نہی عن المنکر یا تواصو بالحق کے حکم کو منسوخ نہیں کر رہی، بلکہ اس حکم کی حد بندی کر رہی ہے ۔ یہ بتا رہی ہے کہ دوسرے کو نیکی کرنے اور برائی سے رکنے کی تلقین ، بس تلقین تک محدود رہنی چاہیے۔ کسی نے مان لیا تو بہت اچھی بات ہے۔ نہیں مانا تو ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں کہ کسی کے سر پر سوار ہوجائیں۔ اس کی گمراہی نہ دنیا میں ہمارا کچھ بگاڑ سکتی ہے نہ آخرت میں ۔ ہمیں بس حق کی شمع روشن رکھنی ہے ۔ سچ اور حق بتارتے رہنا اور دلسوزی سے نصیحت کرنی ہے۔ دوسروں پر دین ٹھونسنا، جبر کرنا، زبردستی منوانا یہ دین کی روح کے بالکل خلاف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس شخص نے اس ایک آیت کو سمجھ لیا۔ وہ ذاتی ارتقا کے ختم نہ ہونے والے راستہ پر چل پڑتا ہے۔ اس کی شخصیت بے مثل شخصیت بننے لگتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں ہر روز جنت میں اس کا مقام بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی ایک مومن کا ہدف ہونا چاہیے ۔

  ۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to ایک مظلوم آیت ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Usman says:

    بہت خوب

  2. obaid says:

    i like your writings so much and i want to take your entire books but i cannot buy due to some financial problems but i read most of the time on your web.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *