بد اور بدنام (Abu Yahya ابو یحییٰ)

Download PDF

 

ممتاز قادری کے چہلم کے بعد اسلام آباد میں ایک دھرنا ہوا۔ اس دھرنے کے شرکاء کی بعض تقریریں اور گفتگو جب سوشل میڈیا پر سامنے آئیں تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اس کا سبب ان میں دی گئی گالیاں اور ناشائستہ گفتگو تھی۔ یہ طرز گفتگو بلاشبہ قابل مذمت ہے۔ لہٰذا ہر طبقہ فکر کی طرف سے اس کی مذمت کی گئی اور بجا طور پر کی گئی۔ تاہم ایک دوسری حقیقت ایسی ہے جس سے ہمیں صرف نظر نہیں کرنا چاہیے ۔

وہ یہ کہ مذہبی شخص گالی بکے تو بلاشبہ وہ مذہب کی بدنامی کا سبب ہے۔ مگر یہ چیزوں کو دیکھنے کا ہمارا انداز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ بڑا جرم یہ ہے کہ مذہبی انسان الزام و بہتان لگائے، وہ جھوٹ بولے اور جھوٹ پھیلائے، وہ بے گنا ہوں کے قتل پر اکسائے، قاتلوں کی حمایت یا پردہ پوشی کرے یا ایسے جرائم پر خاموش رہے۔ وہ اپنی خواہشات اور تعصبات کو دین بنا کر پیش کرے۔ وہ فرقہ پرست ہو اور پنے فرقے اور گروہ سے باہر حق قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ وہ حق کی شہادت دینے کے بجائے کتمان حق یعنی حق کو چھپانے کا مرتکب ہو۔

اپنی بات کی وضاحت کے لیے ہم اس چیز کو بطور مثال بیان کریں گے جو ہمارے ہاں ایک مذہبی عالم کے لیے سب سے ہلکی سمجھی جاتی ہے۔ یعنی کسی سچائی کو اپنے مفادات یا تعصبات کی بنا پر چھپا لینا اور نہ بیان کرنا یعنی کتمان حق۔ اس رویے پر اللہ تعالیٰ نے جس غیض و غضب کا اظہار کیا ہے ، اس کا معمولی سا اندازہ بھی کسی کو ہوجائے تو آدمی ساری دنیا سے لڑ کر، اپنے ہر تعصب سے اوپر اٹھ کر حتیٰ کہ اپنی جان دے کر بھی سچ بولے گا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’بے شک جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں اتاری ہے اور اس کے عوض حقیر قیمت قبول کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھر رہے ہیں ۔ اللہ ان لوگوں سے قیامت کے دن نہ تو بات کرے گا نہ ان کو پاک کرے گا۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کو گمراہی پر اور عذاب کو مغفرت پر ترجیح دی ۔ کیسے جری ہیں یہ لوگ دوزخ کے معاملے میں ۔‘‘، (البقرہ 2: 175-174)

یہ اُس چیز کا معاملہ ہے جو ہمارے ہاں معمول کی بات ہے اور جس کا مظاہرہ ہم صبح و شام دیکھتے ہیں۔ مگر اللہ کے نزدیک یہ کتنی اہم ہے اس کا اندازہ اس وعید سے کیا جا سکتا ہے۔ اس وعید کا سبب یہ ہے کہ سچائی کے معاملے میں علماء کی خاموشی عام لوگوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہے ۔ یہی معاملہ ان باقی رویوں کا بھی ہے جو ہمارے روزمرہ کے معمولات میں شامل ہیں، مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک وہ بہت بڑی برائی ہیں ۔ ان کی تفصیل اور ان پر وعیدیں قرآن و حدیث میں جگہ جگہ دیکھی جا سکتی ہیں ۔

بہرحال یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے مذہبی پیشواؤں کو پیغمبر سمجھنے کے بجائے ہم حق کی روشنی میں ان کا جائزہ لیں ۔ ان کے خیر و شر کا فیصلہ کرتے وقت بلاشبہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ گالیاں تو نہیں دیتے۔ مگر زیادہ اہم بات یہ دیکھنا ہے کہ وہ ان دیگر پیمانوں پر بھی پورا اترتے ہیں یا نہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ پیمانے ڈھونڈنے کے لیے ہمیں عالم ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب معیارات قرآن مجید میں درج ہیں۔ اصل ضرورت اس حوالے سے حساس ہونے کی ہے ۔ کیونکہ ایسے سارے لیڈر اور ان کے پیشوا روز قیامت گالیاں دینے والوں سے زیادہ رسوائی اٹھائیں گے ۔ چاہے وہ آج ہمارے نزدیک کتنے ہی معزز کیوں نہ ہوں ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *