برسلز دھماکوں کے بعد ( Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

پشاور سے لے کر استنبول اور پیرس سے لے کر اب برسلز میں ہونے والے بم دھماکے اس بات کا واضح اعلان ہیں کہ شیطان اپنے مشن میں یکسو اور بہت حد تک کامیاب جا رہا ہے۔ مگر اس کی کامیابی کی ایک وجہ ہے۔ وہ سمجھنا زیادہ اہم ہے۔

شیطان کو اپنے مشن میں سب سے بڑی شکست سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی جانثاروں نے اس وقت دی جب انھوں نے ایمان و اخلاق کی دعوت کا ایک زندہ نمونہ دنیا کے مرکز یعنی مشرق وسطیٰ میں پیش کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی جزا ان کو اس طرح دی کہ دنیا کا اقتدار ان کے حوالے کر دیا۔ یوں وہ عظیم مسلم ایمپائر اور اسلامی تہذیب وجود میں آئی جس سے متاثر ہوکر تمام عرب اور بیشتر متمدن دنیا نے اسلام قبول کر لیا۔ تاہم شیطان نے صدیوں کی جدوجہد کے بعد عباسی عہد کے اختتام پر مسلمانوں کو ایمان و اخلاق کی پستی میں مبتلا کر دیا ۔ سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے عربوں سے دنیا کا اقتدار چھین کر پہلے صلیبیوں اور پھر تاتاریوں کو ان پر مسلط کر دیا۔

اس کے بعد مسلمانوں نے اپنے ترکش کا دوسرا تیر استعمال کیا۔ وہ خود تومغلوب ہوگئے مگر اسلام کی دعوت کو زندہ کر دیا۔ یوں دو صدیوں کے اندر ایک دفعہ پھر بطور انعام دنیا کا اقتدار ان کو دے دیا گیا۔ مگر اس دفعہ عربوں کے بجائے امامت عالم کے منصب پر غیر عرب مسلمان فائز ہوئے ۔ عالم عجم میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ شیطان کو چین کیسے آتا، اس نے پھر محنت شروع کر دی۔ مسلمان پست ہوئے تو ایک دفعہ پھر اللہ کی سزا آ گئی۔ اس دفعہ یورپی اقوام بطور سزا مسلمانوں کے اوپر مسلط کر دی گئیں ۔ شیطان چونکہ تجربے سے سیکھتا ہے، اس لیے اس دفعہ اس نے اسلام کی دعوتی قوت کو حرکت میں آنے سے روکنے کا بھی بھرپور انتظام کیا۔

اس کی شکل یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں میں اہل مغرب کی شدید ترین نفرت پیدا کر دی۔ اس نے نفرت کی سوچ کو ایک نظریہ بنا دیا۔ جس کے بعد مسلمانوں کی پوری لیڈرشپ دہشت گردی کی خرابیوں کو سمجھنے کے باوجود صرف مغرب کی نفرت کی بنیاد پر دہشت گردوں کی اعلانیہ اور خاموش ، بالواسطہ اور بلاواسطہ حمایت کیے جا رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تاتاریوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ چند صدیوں پہلے کیا تھا، اہل مغرب نے اس کا عشر عشیر بھی نہیں کیا تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کے مسلمان تاتاریوں کے ہاتھوں پٹے ہوئے مسلمانوں کی طرح صبر اور دعوت کو اختیار کر لیں تو پوری مغربی دنیا چند عشروں میں سرکاردو عالم کے قدموں میں گری ہوئی ہو گی۔ مگر شیطان مسلم لیڈر شپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ چکا ہے ۔ وہ کچھ دیکھنے اور سننے کے لیے تیار نہیں ۔ آپ جس مذہبی شخص سے بات کریں ، وہ فوراً اہل مغرب کے ظلم کی داستان سنا دے گا۔ حالانکہ تاریخ سے نہ سہی کم از کم اقبال کے ذریعے سے سب جانتے ہیں کہ فتنہ تاتار سے کعبہ کو صنم خانے سے اپنے پاسباں کیسے ملے تھے۔ کیا لوگ نہیں جانتے کہ تاتاریوں نے عالم اسلام پر قبضہ ہی نہیں کیا تھا اس کو قبرستان میں بھی تبدیل کر دیا تھا۔ جو بچے وہ ذلت کی چکی میں پسے۔ ان کی عورتیں تاتاریوں کے بستروں کی زینت بنیں اور ان کی اولاد تاتاریوں کے غلام ۔ مگر اس کے باوجود مسلمانوں نے نفرت کے بجائے دعوت کی راہ اختیار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بدل گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو تاریخ کا یہ سبق بتانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ ایمان و اخلاق اور دعوت کے بغیر دنیا پر غلبے کا خواب کبھی اپنی تعبیر نہیں پا سکتا۔ یہ صرف اور صرف شیطان کے مشن کو فروغ دے گا۔ یہ دنیا بھر میں دہشت گردی، ہمارے ہاں انتہا پسندی اور مغرب میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگوں کو بڑ ھاوا دے گا۔ جس کے بعد مسلمانوں کے ساتھ وہ ہو گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ مگر ابھی بھی وقت ہے ۔ کاش مسلمان خدا کے قہر کی اگلی قسط آنے سے پہلے سنبھل جائیں۔ اے کاش۔۔۔۔۔۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *