برمی مسلمانوں کا المیہ (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

برمی مسلمانوں کے حوالے سے لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ اس باب میں وہ زاویہ لوگوں کے سامنے رکھا جائے جو کہیں بیان نہیں ہوتا۔ لیکن اسے سمجھا نہیں جائے گا تو ہمیں بار بار ایسے سانحات کا شکار ہونا پڑے گا۔

روہنگیا کے مسلمان جس ظلم و بربریت کا شکار ہیں، وہ بلاشبہ ایک عظیم المیہ ہے۔ اس المیے پر خون کے آنسو بہنا ایک فطری چیز ہے۔ مگر کیا یہ مسلمانوں کی جدید تاریخ کا کوئی پہلا المیہ ہے؟ زیادہ پیچھے نہ جائیں ، پچھلی چند دہائیوں ہی پر نظر ڈال لیجیے۔ قرآن مجید کو ہاتھ میں اٹھالیں اور انبیا کی تاریخ کوسامنے رکھ لیں ۔ آپ کو سمجھ میں آجائے گا کہ کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے ۔

پچھلی چند دہائیوں میں ہم نے فلسطین کے مسلمانوں کا المیہ دیکھا ہے۔ کشمیر کو جلتے اور سلگتے دیکھا ہے۔ بیروت کی گلیوں کو خون اور بارود کی نذر ہوتے دیکھا ہے۔ صابرہ اور شتیلہ کے کیمپوں میں اسرائیلی ٹینکوں کو مسلمانوں کو کچلتے دیکھا ہے۔ افغانستان کو ایک بار نہیں، بار بارایک مقتل بنتے دیکھا ہے۔فلپائن، نائیجیریا، سوڈان اور انڈونیشیا میں مسلمانوں کو غیر مسلموں سے الجھتے اور پٹتے دیکھا ہے۔ چیچنیا، بوسنیا، کوسووا میں مسلمانوں کی منظم نسل کشی کا مشاہدہ کیا ہے ۔ عراق، لیبیا اور شام کو برباد ہوتے دیکھا ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر خود وطن عزیزکو دہشت گردی کے ہاتھوں جگہ جگہ سے لہولہان ہوتے دیکھا ہے۔

ان واقعات میں عرب دنیا کے باہمی تنازعات، شیعہ سنی جھگڑوں جن کی بدترین شکل ایران عراق جنگ تھی اور خود مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت کے قتل عام کو بھی شامل کر لیں تو جان، مال اور آبرو کی ایسی بربادی سامنے آتی ہے جس کے آگے برما کے مسلمانوں کی کہانی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ آج سوشل میڈیا ہے تو بہت شور مچ گیا ہے۔ میڈیا کو چار دن بعد نیا موضوع مل جائے گا۔ لوگ اُس میں لگ جائیں گے۔ کسی کو برما کے مسلمان یاد بھی نہیں آئیں گے ۔

اس لیے حضور! برما کے مسلمانوں پر چند دن آنسو بہا کر اگلے کسی سانحے تک فارغ ہونے سے قبل ہماری کچھ گزارشات سن لیں۔ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری نبی ہیں۔ نبوت کے خاتمے کے بعد ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا کے کام کی کل ذمہ داری مسلمانوں پر ہے۔ مسلمان اگر حق کے گواہ نہیں بنیں گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ہستی نبی بننے کے بعد کارنبوت ادا کرنے سے انکار کر دے۔ قرآن کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ اس معاملے میں اجتہادی طور پر بھی غلط فیصلہ ہوجائے تو نبی کو مچھلی کے پیٹ میں بند کر دیا جاتا ہے۔ انبیاء کی تاریخ بتاتی  ہے کہ جب کوئی مسلمان گروہ ایمان واخلاق اور شہادت حق کی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے تو پھر اس پر ذلت اور مغلوبیت کا عذاب مسلط کر دیا جاتا ہے ۔

چنانچہ موجودہ دور کے مسلمانوں نے جب اس جرم کا ارتکاب کیا تو ان پر حسب دستور ذلت اور مغلوبیت مسلط کر دی گئی۔ اس مغلوبیت کا ایک لازمی نتیجہ وہ سانحات ہیں جن کی تفصیل ہم نے پیچھے کی ہے۔ مگر بدقسمتی سے بجائے اس کے کہ مسلمان توبہ کرتے، مسلمانوں میں ایسے رہنما پیدا ہوگئے جنھوں نے اس پورے معاملے کو بالکل الٹ کر دکھانا شروع کر دیا۔ یہ وہی غلطی ہے جو اس سے پہلے یہود نے کی تھی۔ ان پر بھی ان کے جرائم کی پاداش میں ایسے ہی ذلت اور مغلوبیت مسلط کی گئی تھی، مگر انھوں نے توبہ کرنے کے بجائے خدا کے اس عذاب کو غالب اقوام کی سازشوں کے خانے میں ڈال کر ان کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔ سمجھانے والوں کو جیل میں ڈال دیا، قتل کر دیا، ملک چھوڑ نے پر مجبور کر دیا یا پھران کی بھرپور تکذیب کر دی۔ جس کے بعد یہ ذلت ایک فیصلہ کن عذاب میں تبدیل ہوئی اورپہلی دفعہ بخت نصر اور دوسری دفعہ ٹائٹس وہ عذاب لے کر آئے جس نے یہود کی کمر توڑ ڈالی۔

دور جدید کے مسلمان بھی ٹھیک یہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ وہ اس ذلت اور مغلوبیت اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے ان تمام واقعات کو جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا ، خدا کے عذاب کی شکل میں دیکھ کر توبہ نہیں کر رہے۔ وہ ایمان واخلاق کی بدترین پستی میں گرچکے ہیں، مگر اپنی کمزوریوں کی ان کو کوئی پروا نہیں ۔ وہ غیر مسلموں کو ایمان کا پیغام پہنچانے کے بجائے ان کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہے ہیں ۔ یہ سب کر کے مسلمان غیر مسلموں سے نہیں لڑ رہے، وہ خدا سے لڑ رہے ہیں۔ مگر خدا سے کوئی نہیں جیت سکتا، اس لیے سانحات کی ایک قطار ہے جو ختم ہو کرنہیں دے رہی۔

جب لوگ خدا کی نافرمانی کر کے اس طرح بے خوف ہوجاتے ہیں تو پھر خدا کا وہ عذاب آتا ہے جس کے بارے میں قرآن نے واضح کر رکھا ہے کہ یہ عذاب خاص انھی لوگوں کو نشانہ نہیں بناتا جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ہو، (الانفال25:8)۔ چنانچہ ایسے عذاب میں بے گناہ اور عام لوگ بھی زد میں آتے ہیں اور خاموش رہنے والے بھی مارے جاتے ہیں۔ یہی ہمارے مسلسل اور پے در پے المیوں کے جنم لینے کی اصل وجہ ہے۔ مگر ہم توبہ کرنے، ایمان واخلاق کی طرف لوٹنے اور دعوت دین کا کام کرنے کے بجائے غفلت، تعصب اور نفرت کا شکار رہتے ہیں۔ ہم خدا کی پکار سننے کے بجائے اپنے تعصبات کے اسیر رہتے ہیں۔ اس لیے ہمارے المیے بھی ختم ہوکر نہیں دیتے ۔

ایسے میں ہم پر فرض ہے کہ ہم توبہ کریں اور ایمان و اخلاق کی قرآنی دعوت کو اپنی زندگی بنائیں۔ دعوت دین کے نبوی مشن کو اپنی زندگی بنائیں۔ ابھی وقت ہے، ابھی توبہ کی جا سکتی ہے۔ ابھی وہ فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جو امتوں کی کمر توڑ دیتا ہے۔ مگر اب وہ زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ اس لیے برمی مسلمانوں کے لیے ضرور پریشان ہوں، مگر کچھ اپنی فکر بھی کر لیں۔ اس سے پہلے کہ کمر توڑ دینے والی آفت ہمارے ہی گھر کا رخ کر لے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, قومی اور بین الاقوامی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *