بنیادی اقدار (Abu Yahya ابویحیٰی)

Download PDF

 

کچھ عرصے قبل میں آسٹریلیا گیا۔ وہاں کے تقریبا تمام ہی اہم شہروں جیسے سڈنی، ملبورن، برسبین، کینبرا، ایڈیلیڈ اور پرتھ جانا ہوا۔ وہاں مختلف نوعیت کے تجربات پیش آئے ۔ مثلاً ایڈیلیڈ میں میرے میزبان عامر نے مجھے ایک ہوٹل میں ٹھہرایا۔ جب وہاں سے رخصت ہونے لگے تو میزبان نے ریسیپشن پر ادائیگی کی اور ہم ہوٹل سے باہر آ گئے۔ حالانکہ میرا خیال تھا کہ ہوٹل کے ملازمین پہلے کمرے میں جا کر یہ چیک کریں گے کہ ہم نے وہاں رکھی ہوئی چیزوں میں سے کیا استعمال کیا اور اس کے پیسے بل میں شامل کریں گے۔ مگر ریسپشن پر موجود لڑ کی نے بس اتنا پوچھا کہ کیا کچھ چیزیں استعمال کی تھیں۔ میں نے نفی میں جواب دیا تو اس نے چیک کیے بغیر بل بنا دیا۔

سڈنی میں ایک شاپنگ سنٹر میں کچھ گروسری کی نوعیت کی چیزیں خریدیں۔ میرے ساتھ ایک دوست عاطف تھے۔ ادائیگی کے وقت انھوں نے خود ہی اشیا اسکین کیں۔ خود ہی بل بنایا اور خود ہی ادائیگی کر لی۔ کسی نے ہم کو چیک نہیں کیا۔

ان واقعات کا مطلب یقینا یہ نہیں ہے کہ وہاں سب فرشتے بستے ہیں اور چوری چکاری یا بددیانتی نہیں ہوتی۔ مگر یہ استثنائی عمل ہوتا ہے یعنی ایسے کام کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کی اسکول میں تعلیم کے دوران میں تربیت اس طرح کر دی جاتی ہے کہ وہ کچھ بنیادی اجتماعی اقدار کو بہت اہمیت دینے لگتے ہیں۔ انھی میں سے ایک سچائی اور دیانت داری ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ عام طور پر سچ بولتے ہیں۔ دیانت داری سے کام لیتے ہیں۔

اقدار کو اپنا مسئلہ بنانے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کا معاشرہ طرح طرح کی ان پابندیوں اور مشکلات میں گھرا ہوا نہیں ہے جو ہم نے اپنے ہاں لگا رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر میری رہائش عرصے تک ایک مشہور سپرمارکیٹ کے قریب رہی جہاں شہر بھر سے لوگ آتے تھے۔ اس مارکیٹ کے اندر داخل ہوتے وقت پرس اور بیگ باہر رکھوائے جاتے تھے کہ لوگ ان میں چھپا کر چیزیں نہ ڈال لیں۔ پھر ہر جگہ لوگوں کی نگرانی کے لیے ملازمین کھڑے تھے کہ چھوٹی موٹی اشیا جیب میں نہ ڈال لیں۔ قیمت کی ادائیگی کے بعد سامان لے کر باہر نکلنے والے ہر شخص کو چیک کرنے کے لیے مزید ملازمین تھے جو ادائیگی کی رسید سے سامان ملا کر یہ دیکھتے تھے کہ واقعی یہ شخص ادائیگی کر کے نکل رہا ہے یا ایسے ہی نکل آیا ہے۔

ایسی یا اس سے ملتی جلتی پالیسیاں ہر جگہ ہمیں اپنے ہاں اس لیے نظر آتی ہیں کہ ہم نے مسلمہ بنیادی اقدار کو اپنے ہر فرد کا مسئلہ نہیں بنایا۔ اقدار کو افراد کی زندگی اور مسئلہ بنانے کا یہ کام اصلاً نظام تعلیم سے ہوتا ہے۔ مگرہم اپنے نظام تعلیم کی کیا بات کریں کہ یہاں ایک ملک میں چھ، سات قسم کے نظام تعلیم چل رہے ہیں۔ ہر کسی کی اپنی ترجیحات ہیں۔ مگر شاید اقدار کسی کا بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ کام اساتذہ کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کامیاب اور اچھا استاد وہ ہے جو اسٹوڈنٹ کو امتحان میں زیادہ نمبر لانے میں مدد کرے۔ جس کے سبجیکٹ کا بورڈ میں زیادہ اچھا نتیجہ آئے۔

یہ کام والدین اور خاندان کے بزرگ کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں والدین اور بڑوں نے اپنا کام صرف یہ سمجھ رکھا ہے کہ بچوں کو اسکول اور ٹیوشن بھیج دیں اور ان کی مادی ضروریات اورخواہشات کی تکمیل کے لیے دن رات ایک کر دیں۔ یہ کام مذہبی لیڈر کرتے ہیں۔ مگر ان کی اصل دلچسپی اپنے فرقے کے فروغ اور چند ظاہری اعمال کو افراد کی نگاہ میں اہم ترین بنا کر دکھانا ہے۔

یہی ہمارے ہاں کی اصل حقیقتیں ہیں ۔ اس کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ معاشرے میں عدل، دیانت اور سچائی پھیلے۔ ایسے معاشروں میں مادیت اور فرقہ واریت پھیلا کرتی ہے۔ غور کیجیے ایک عرصے سے یہی وہ فصل ہے جسے ہم کاٹ رہے ہیں۔ کیونکہ یہی وہ فصل ہے جس کے بیج ہم بوتے چلے آ رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, اخلاقیات | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *