بچت (Shumaila Usman شمائلہ عثمان)

Download PDF

 

پچھلے دنوں ایک عزیز کے انتقال میں جانے کا موقع ملا مرحوم کی عمر تو بہرحال تھی لیکن کچھ عرصے پہلے تک بھی وہ چاق و چوبند اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر بہت فخر سے بھرپور زندگی گزار رہے تھے اور صاحب حیثیت ہونے کے سبب متعلقہ لوگوں کو بھی پابند کیا ہوا تھا کہ جیسا وہ چاہیں وہی صحیح ہے ویسا ہی کرنا ہے۔ آس پاس موجود رشتوں میں محبت تو تھی لیکن ان کی ناراضی اور بے وقت نامناسب غصے کے اظہار کا خوف غالب رہتا تھا۔ اولاد سے لے کر ملازم تک سب ان کے اصولوں کے پابند تھے۔ بے شک ان کی زندگی کسی بادشاہ وقت سے کم نہ تھی۔

بہر حال بادشاہ ہو یا فقیر انجام سب کا یکساں ہے۔ سب کو بے یار و مددگار دنیائے فانی سے دنیائے باقی کی طرف چار لوگوں کے کندھوں پر اپنے سفر کا آغاز کرنا ہے۔ سب کو ہی کفن اور دو گز زمین کے علاوہ کچھ نہیں ملنا۔ یہاں سے جانے والی دنیا کی حد ختم اور نہ ختم ہونے والی زندگی کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں پتہ چلتا ہے کہ اس نے جنتی بن کر بادشاہوں سے بھی اونچا مقام حاصل کرنا ہے یا ہمیشہ ذلیل و خوار ہونے والا جہنمی۔ یہاں سے خاندان رتبہ اور روپے پیسے اختیار و اقتدار کا کھیل ختم اور نامہ اعمال کی بنیاد پر درجوں کا تعین شروع۔ یہاں انسان کی بچت کا وہ اکاؤنٹ شروع ہوتا ہے جس نے اس کی اگلی زندگی کے اسٹیٹس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ اکاؤنٹ انسان کے دنیا میں آتے ہی کھل جاتا ہے۔ جو شخص اس میں عبادتوں کے ساتھ ساتھ ایثار، قربانی، صلہ رحمی، دیانت، ہمدردی، خلوص، صبر، شکر، نرمی، نیک نیتی، انصاف، بہترین صلاحیتوں کا مثبت اور بھرپور استعمال اور وسائل و اختیارات کے معاملے میں خدا خوفی کے بیج بوئے گا وہ آخرت میں اس کی ہی فصل کاٹے گا۔ اور جو شخص بھرپور عبادتوں کے باوجود جھوٹ، ریاکاری، بددیانتی، ظلم ، نا انصافی، غرور، تکبر، حرام کاری، صلاحیتوں ، وسائل اور اختیارات کا ناجائز استعمال کے بیج لگائے گا آخرت میں وہی خار دار جھاڑیاں قدم قدم پر اس کو منہ کے بل گرائیں گی۔

دنیا کی زندگی کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ اکاؤنٹ کلوز ہو جائے گا اور اس کا پروفٹ قبر کے گھر سے ہی شروع ہو جائے گا۔ کسی کے لیے یہ قبراندھیری کوٹھری یا جہنم کا گڑھا اور کسی کے لیے جنت کا دروازہ۔ بے شک قبر کا حال تو صاحب قبر ہی جان سکتا ہے کہ وہ اپنی بچت کا کیا پروفٹ پا رہا ہے۔ اس بچت کے تمام اصول قرآن پاک کی ہدایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں واضح کر دئیے گئے ہیں۔ بس تیاری آج سے ہی شروع کرنی ہے پھر کل ہو یا نہ ہو یا ہم کل ہوں یا نہ ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *