بیس برس کی بات (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

میرے ایک محترم اور عزیز دوست پچھلے دنوں ایک مغربی ملک گئے۔ وہاں سے لوٹنے کے بعد میری ان سے بات ہوئی تو ان کو بہت رنجیدہ پایا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اپنے ایک ماہ کے قیام کے دوران میں انھوں نے وہاں ہر سمت مادی ترقی کے ساتھ انسان دوستی اور حکومت کی طرف سے سہولیات کی فراہمی کے ساتھ شہریو ں کی طرف سے سماجی ذمہ داری کا ایک ایسا امتزاج دیکھا جس نے ان کو ہلا کر رکھ دیا۔ قدم قدم پر وہ وہاں کے معاملات کا پاکستان سے موازنہ کرتے رہے اور کڑھتے رہے ۔

یہ غم تنہا ان کا ہی نہیں بلکہ کم و بیش ہر اس حساس اور دردمند پاکستانی کا ہوتا ہے جسے ملک سے باہر کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا ہوتا ہے۔ اس طرح کے مشاہدات کے بعد لوگوں کے دو ہی نمایاں ردعمل ہوتے ہیں ۔ چند خاص ردعمل ہوتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ ملک چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ ملک میں چارسو پھیلی ہوئی خرابیوں کا اتنا اثر لیتے ہیں کہ بہتری کی ہر امید سے مایوس ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد ان کا سارا زور بس اسی پر ہوتا ہے کہ اس ملک میں رہتے ہوئے ہی اپنی اور اپنے خاندان کی مادی ترقی کو نصب العین بنالیں اور معاشرتی خیر و شر سے بے نیاز ہوجائیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک پاکستان کے حالات کئی پہلوؤں سے بہت زیادہ خراب ہیں ۔ جس ملک میں حکمران کلاس کی ایک بڑی تعداد کرپشن کے سمندر میں غوطہ زنی کر کے فارن اکاؤنٹس کو بڑھاتے چلے جانے کے فن کی ماہرہو۔ جس ملک کی کئی سیاسی جماعتوں میں مسلح ونگز پائے جاتے ہوں جن کا کام اپنے ہی شہریوں کو قتل کرنا اور لوٹ مار کرنا ہو۔ جس ملک کے مذہبی طبقات کا ایک حصہ دہشت گردوں کی حمایت اور تحفظ کو اپنا فرض سمجھتا ہو۔ جس ملک کی اشرافیہ لوٹ مار، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ جیسے جرائم کو کاروبار سمجھتی ہو۔ جس ملک کے عوام ٹریفک قوانین توڑنے ، ہر جگہ پان اور تھوک کی پچکاری مارنے کے عادی ہوں وہاں کسی اصلاح کی امید رکھنا بہت بڑے حوصلے کی بات ہے ۔

تاہم اس حوالے سے دو باتیں اگر ذہن میں رہیں تو انسان کبھی مایوس نہیں ہو سکتا۔ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں رہ کر جو شخص ایمان و اخلاق کے تقاضوں کو نبھا گیا اور حوصلے کے ساتھ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی جدوجہد کرتا رہا، اس میں کسی معمولی شک کی گنجائش نہیں کہ وہ بہت معمولی قربانی دے کر قیامت کے دن انبیا اور شہدا کی قربت کا اعزاز حاصل کر لے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کے عمل سے زیادہ یہ دیکھتے ہیں کہ یہ عمل اس نے کس قسم کے حالات اور پس منظر میں کیا ہے ۔ چنانچہ انتہائی مایوس کن حالات میں ڈٹے رہنے والے لوگوں کا اجر وہی ہو گا جو قرآن مجید میں ان لوگوں کا بیان ہوا ہے جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لا کر اس کے تقاضوں کو نبھاتے رہے ۔

یاد رکھنے کی دوسری بات یہ ہے کہ مغربی ممالک بھی آج جس مقام پر ہیں یہ ایک دن کی بات نہیں ۔ چند صدی پہلے قرون وسطیٰ کے عہد میں یورپ بھی انہیں تاریکیوں اور مایوسیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ صلیبی جنگوں کے دوران میں انھوں نے مسلمانوں کے عروج اور ترقی کو دیکھا تو ان کی آنکھیں ویسے ہی کھل گئیں جیسے آج مغربی ممالک جانے والے مسلمانوں کی کھلتی ہیں ۔ جس کے بعد ان کے باشعور طبقات نے اپنے ہاں ایک مسلسل جدوجہد شروع کر دی۔ یہ جدوجہد کئی صدیوں تک جاری رہی ۔آخرکار بیسویں صدی میں جا کر وہ وقت آیا جب انھوں اپنے ہاں ایک بہترین سماج قائم کر لیا۔ چنانچہ آج اگر ہمارے ہاں بھی ایسے ہی بلند حوصلہ اور صاحب نظرلوگ پیدا ہوجائیں تو یہ صدیوں کی نہیں بمشکل دو عشروں کی بات ہے کہ ہمارے ملک کے حالات بھی بدل جائیں گے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ لوگ مایوسی کو چھوڑیں اور اپنی ذات سے بلند ہوکر اجتماعی بہبود کے لیے کام شروع کر دیں ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to بیس برس کی بات (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Bint-e-Fatimah says:

    جزاک اللہ
    بہت عمدہ مضمون ہے-اندھیرے میں روشنی کی کرن جیسے–آپ نے بالکل درست فرمایا انفرادی فلاح کے دائرے سے باہر نکل کر اجتماعیت کی فلاح کی سوچ اپنانےکی بہت ضرورت ہے-اللہ ہم سب کو توفیق دیں-آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *