ترکی کا سبق (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

ترکی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہمارے دانشور اور تجزیہ کار وہاں کی صورتحال کا مسلسل تجزیہ کر رہے ہیں ۔ اس غیر معمولی دلچسپی کی جہاں اور کئی وجوہات ہیں، وہیں ایک اہم وجہ فوج اور سویلین حکومت کے درمیان تعلقات کا تاریخی پس منظر ہے جو کسی حد تک ترکی سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم میری ناقص رائے میں پاکستان ترکی سے بہت کچھ سیکھ تو سکتا ہے، مگر دونوں میں کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی دو اہم وجوہات ہیں ۔

ایک یہ کہ ماضی کی کچھ مماثلت کے باوجود موجودہ ترکی پاکستان سے بہت مختلف ہو چکا ہے۔ وہاں کی موجودہ سیاسی قیادت نے مسلسل خدمت سے عوام کو جمہوری سسٹم پر مکمل اعتماد عطا کر دیا ہے۔ اردگان جب مئیر تھے تو انھوں نے میئر والے کام بہت خوبی سے سرانجام دیے اور جب وزیراعظم بنے تو وزیراعظم کی حیثیت میں ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا۔ جبکہ ہمارے ہاں آج بھی وزیراعظم کے کریڈٹ پر مئیر کی سطح پر کیے جانے والے کام ہی ہیں ۔ جبکہ باقی صوبوں میں حکمران جماعتوں کے کریڈٹ پر مئیر والے کام بھی نہیں ۔ وہ وزیر اعظم پر تنقید کرنے ہی کو جمہوریت سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ہماری سیاسی لیڈر شپ کا عوام کی زندگی بہتر بنانے میں کوئی اہم رول نہیں ۔ اس کے بعد لوگ ان کی جمہوریت کو بچانے کے لیے گھر سے کیوں نکلیں اور کیو ں جانیں دیں؟

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ترکی کے برعکس پاکستان حقیقی معنوں میں ایک قوم بننے کے مرحلے سے بہت دور ہے۔ بلکہ پچھلے چند عشروں سے اس میں ترقی معکوس کی صورتحال ہی پیدا ہوئی ہے۔ سردست یہاں پنجابی ہیں جنھوں نے پنجابی کو، سندھیوں نے سندھی کو، پختونوں نے ایک خان کو، مہاجروں نے مہاجر کو اور بلوچیوں نے بلوچی سردارو ں کو منتخب کر رکھا ہے۔ یہی ہماری وہ اصل سچائی ہے جس کا ہم کھل کر اقرار کرنے سے ڈرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے ہاں کئی ملکوں سے زیادہ بڑے صوبے پائے جاتے ہیں۔ اور صوبہ تقسیم کر کے چھوٹے انتظامی یونٹ بنانا ملک تقسیم کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے ۔

اس لیے ہمارے پاس ترکی سے موازنے کے لیے کچھ نہیں ۔ صرف سیکھنے کے لیے سبق ہے ۔ سبق یہ ہے کہ جب حکمران مسلسل خدمت سے عوام کی زندگی بہتر بنانے کو مشن بناتے ہیں تو پھر حکومت ان کی نہیں رہتی عوام کی بن جاتی ہے۔ پھر کوئی فوجی ٹولہ اٹھتا ہے تو عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر اور پولیس فوج کے خلاف بندوقیں اٹھا کر میدان میں آ جاتی ہے۔ اس خدمت کے بغیر جمہوریت کا راگ الاپنے، کرپشن کے نام پر دھرنوں کا تماشہ کھڑا کر کے پانچ برس گزارنے اور اپنے اور اپنے خاندان کے لیے دولت کے انبار جمع کرنے والوں کی حکومت ختم کرنے کے لیے آرمی کے دو ٹرک ہی کافی ہوتے رہے ہیں اور ضرورت پڑی تو آئندہ بھی دو ہی ٹرکوں میں کام ہوجائے گا۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ جب صوبے قومیتوں کی علامت بن جائیں تو اس کامطلب یہ ہے کہ یہاں اجتماعی بہتری کا کوئی حقیقی منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ سیاستدان جب چاہیں گے جاگ پنجابی، جیے مہاجر، جیے سندھ اور پختون اور بلوچ قومیت کے نعرے لگا کر اپنے مفادات حاصل کر لیں گے۔ اگر ملک کو حقیقی طور پر ایک قوم بننا ہے تو اسے صوبائیت سے باہر نکلنا ہو گا۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ وہ یہ کہ انتظامی بنیادوں پر پاکستان کو چھوٹے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ نہیں ہو گا تو کرکٹ میچ اور انڈیا کے مقابلے کے علاوہ کبھی کوئی پاکستانی قوم ظاہر نہیں ہو گی۔ پاکستان کی محافظ صرف اور صرف پاکستانی فوج ہو گی۔ جب تک فوج میں دم ہے یہ ملک ایک رہے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک بچانے کے لیے فوج کو بہت طاقتور رکھنا ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاسی اداروں کو کمزور رکھنا ہی ہماری ضرورت بنا رہے گا۔ اس منفی صورتحال میں نہ کبھی اردگان جیسی لیڈرشپ پیدا ہو سکتی ہے اور نہ کبھی پاکستان ترکی کی طرح ترقی کرسکتا ہے ۔ یہی ہمارے لیے ترکی کی صورتحال کا اصل سبق ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in قومی اور بین الاقوامی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *