(ترکی کا سفرنامہ (10 (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

مبشر نذیر 

ترکی کا سفرنامہ(10)

رینٹ اے کار

باہر نکل کر ہم رینٹ اے کار کے دفاتر تلاش کرنے لگے ۔ یہاں اسی قسم کے ایجنٹ گھوم رہے تھے جو سیاحوں کو تاڑ کر انہیں خدمات حاصل کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک صاحب ہمیں “یورو پارک” کے دفتر میں لے آئے ۔ یہاں موجود صاحب بڑی صاف انگریزی بول رہے تھے ۔ انہوں نے مناسب ریٹ پر جدید ماڈل کی ایک فی ایٹ کار کی پیش کش کی۔ ہمارے ہاں تو فی ایٹ کے ٹریکٹر ہی مشہور ہیں مگر یہاں کاریں بھی چلتی ہیں ۔

کار کے کاغذات لے کر ہم ایئر پورٹ پارکنگ میں پہنچے ۔ یہاں کمپنی کے اسٹاف نے کار کی چابیاں ہمارے حوالے کیں ۔ یہ ایک ڈیزل کار تھی۔ یہ ہمارے لئے بہت بہتر تھا کیونکہ ترکی میں پیٹرول دنیا میں شاید سب سے زیادہ مہنگا ہے ۔ ڈیزل بھی بہت مہنگا ہے مگر پیٹرول سے کم۔ ان دنوں پیٹرول کی قیمت 3.60 لیرا (175 روپے ) اور ڈیزل کی 2.62 لیرا (125 روپے ) فی لیٹر تھی۔

گاڑی 2009 ماڈل کی تھی اور صرف 9000 کلومیٹر چلی ہوئی تھی مگر اس کے باوجود اس میں بیٹھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم کسی ہیلی کاپٹر میں بیٹھ گئے ہوں ۔ ڈیزل اور پیٹرول کار میں یہی فرق ہوا کرتا ہے ۔ سعودی عرب کی طرح ترکی میں بھی لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہی تھی۔ اس وجہ سے اسٹیرنگ الٹے ہاتھ پر تھا مگر گاڑ ی مینول گیئر کی تھی۔

مجھے سعودی عرب میں آٹو میٹک گاڑی چلانے کی عادت پڑ گئی ہے۔ مینول گاڑی آخری مرتبہ پاکستان میں چلائی تھی جہاں اسٹیرنگ دائیں جانب ہوتا ہے ۔ چنانچہ میں کلچ دبا کر بائیں ہاتھ سے گیئر تلاش کرنے لگا۔ گیئر کی بجائے میرے ہاتھ میں دروازے کا ہینڈل آیا جسے گیئر سمجھ کر آگے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اب یاد آیا کہ یہاں گیئر دائیں ہاتھ سے لگانا پڑے گا۔ اس گاڑی کے پیڈل بھی کچھ عجیب سے تھے ۔ ریس، بریک اور کلچ میں فاصلہ بہت ہی کم تھا اور ایک ہی پاؤں سے تینوں کو دبایا جا سکتا تھا۔ اس کا مقصد غالباً یہ تھا کہ کلچ کے بائیں جانب پاؤں رکھنے کی جگہ بنی ہوئی تھی جو طویل سفر میں کام آئی۔ پارکنگ فیس کمپنی نے ادا کی ہوئی تھی۔

باہر نکل کر میں نے ریس پر پاؤں رکھا مگر گاڑی کی پک اپ کچھ اچھی نہ تھی۔ سعودی عرب میں تو پاؤں کا ذرا سا دباؤ ملنے پر گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگتی تھی مگر یہاں عجیب ہی معاملہ تھا۔ ڈیزل کی بجائے یہ سی این جی گاڑی لگ رہی تھی۔

استنبول کا پہلا امپریشن

پارکنگ سے باہر نکلے تو استنبول کا پہلا امپریشن بہت ہی اچھا تھا۔ نہایت ہی صاف ستھرا شہر تھا۔ کھلی کھلی سڑ کیں اور گھنا سبزہ۔ میں گوگل ارتھ پر کسی حد تک استنبول شہر کا مطالعہ کر چکا تھا۔ اس وجہ سے سڑکوں کا کچھ اندازہ تھا۔ باہر نکلتے ہی حسب عادت میں نے پہلی غلطی کی اور ایک غلط موڑ کاٹ لیا۔ غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب ہم ایک رہائشی علاقے میں داخل ہو گئے ۔ یہاں چند دکانیں بھی بنی ہوئی تھیں ۔ اس غلطی کا فائدہ یہ ہوا ان دکانوں سے ہم نے پانی، برگر اور آئس کریم خرید لی۔

استنبول کا ماحول کافی مغرب زدہ لگ رہا تھا۔ مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں برگر میں بھی خنزیر کا گوشت نہ ہو۔ اس خیال سے ہی میرا جی متلانے لگا۔ میں نے برگر والے صاحب سے پوچھا، “حلال؟” وہ یک دم سنجیدہ ہو گئے ، ان کے چہرے پر برا ماننے کے تاثرات پیدا ہوئے اور بولے ، “حلال!!!” میں نے ان سے پوچھا، “انقرہ یولو؟” ترکی زبان میں “یولو” سڑ ک کو کہتے ہیں ۔ انہوں نے اشاروں کی مدد سے مجھے راستہ سمجھایا۔

اب ہم استنبول انقرہ موٹر وے کی طرف جا رہے تھے جس پر “بولو” شہر واقع تھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ استنبول کو آخر میں دیکھیں گے ۔ کچھ دور جا کر ایک سگنل تھا۔ ساتھ والی گاڑی میں ایک صاحب ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ اسٹیرنگ پر رکھے ہوئے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے ۔

استنبول میں دینی شعائر نظر نہیں آ رہے تھے ۔ ہمارے پاکستان یا سعودی عرب میں جگہ جگہ سبحان اللہ، استغفر اللہ لکھا نظر آتا ہے ۔ یہاں ایسا کچھ نہ تھا البتہ ہر چند قدم کے فاصلے پر ایک مسجد نظر آ رہی تھی۔ ان مساجد کا آرکی ٹیکچر ایک جیسا تھا۔ ایک بڑا گنبد اور اس کے ارد گرد متعدد چھوٹے گنبد۔ غالباً یہ عثمانی دور کے مشہور آرکی ٹیکٹ “سنان” کی ایجاد تھا۔ اس اسٹائل کا مقصد یہ تھا کہ امام یا خطیب کی آواز گنبدوں کے اندر سفر کرتی دور تک چلی جائے ۔ جب لاؤڈ اسپیکر ایجاد نہیں ہوا تھا، اس وقت مسلمان انجینئروں نے اس انداز میں آواز دور کے سامعین تک پہنچانے کا اہتمام کیا تھا جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

استنبول شہر، جدید اور قدیم کا ایک خوبصورت امتزاج نظر آ رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ ہمارے مذہبی راہنما جدیدیت سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں ؟ سوائے چند ایک چیزوں ، جیسے بے حیائی وغیرہ کے ، دور جدید کی عمارت عین اسلام کے اصولوں پر استوار ہے ۔ مذہبی آزادی ہو یا ویلفیئر اسٹیٹ، تعلیم کا فروغ ہو یا اقلیتوں کے حقوق، صفائی و ستھرائی ہو یا جمہوریت، ہر پہلو سے دور جدید اسلام کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ چند برائیاں دور جدید میں عام ہوئی ہیں مگر قدیم ادوار میں بھی تو ان سے بھی بڑی برائیاں موجود رہی ہیں ۔

[جاری ہے ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (ترکی کا سفرنامہ (10 (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *