(ترکی کا سفرنامہ (16 (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

ترکی کا سفرنامہ (16) 

مبشر نذیر

میں سوچنے لگا کہ دنیا میں ہر دور کی تعمیر کردہ مسجد موجود ہے مگر خلافت راشدہ کے دور کی تعمیر کردہ کوئی مسجد موجود نہیں ہے ۔ اس وقت سب سے قدیم تعمیر شدہ مسجد دمشق کی جامع بنو امیہ ہے ۔ یہ مسجد 75ھ  کے آس پاس تعمیر کی گئی ہے ۔ خلافت راشدہ کا دور 40ھ میں ختم ہوا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایران اور شام فتح ہوئے اور قیصر و کسریٰ کے محلات تعمیر کرنے والے بہترین کاریگر مسلم دنیا کا حصہ بنے ۔ اگر آپ چاہتے تو ان کاریگروں سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی ایسی شاندار تعمیر کرواتے جو کہ آج تک برقرار رہتی مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

دور فاروقی کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر پر ذاتی جیب سے کچھ لکڑی کا کام کروا دیا جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت نے پسند نہیں کیا۔ اس سے خلافت راشدہ اور بعد کے ادوار کی ملوکیت کا فرق نمایاں ہو کر سامنے آ جاتا ہے ۔ دور ملوکیت میں اسلام کی شان اسی میں سمجھی گئی کہ مساجد کی عالیشان عمارتیں تعمیر کی جائیں جنہیں دیکھ کر آنے والی نسلیں بادشاہ کو یاد رکھیں ۔ خلفاء راشدین کا نقطہ نظر اس کے بالکل برعکس تھا۔ یہ حضرات عمارتوں پر پیسہ لگانے کی بجائے انسانوں پر پیسہ لگانا زیادہ پسند کیا کرتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ عمارتوں پر پیسہ لگانے سے ان کا نام دنیا میں تو باقی رہ جائے گا مگر آخرت میں اجر پانے کے لئے انسانوں کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرنا ضروری ہے ۔ افسوس کہ ہمارے ہاں آج بھی مساجد کی تعمیر و تزئین پر کروڑوں روپے لگا دیے جاتے ہیں مگر انہی مساجد کے گرد و نواح میں بسنے والے افراد کی ضروریات کا کسی کے دل میں خیال پیدا نہیں ہوتا۔

عوام کے مال میں اس قدر احتیاط کے باوجود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس تردد میں رہا کرتے تھے کہ آپ خلیفہ ہیں یا بادشاہ۔ ایک دن غالباً سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا، ’’اگر آپ عوام کی رقم کا ایک درہم بھی غلط طریقے سے وصول کریں یا غلط جگہ پر خرچ کریں تو آپ بادشاہ ہیں ورنہ آپ خلیفہ ہیں۔‘‘

ہمارے اکاؤنٹنٹ حضرات سال میں ایک مرتبہ اپنے اکاؤنٹس کلوز کرتے ہیں ۔ یہ بات ان کے لئے حیرت کا باعث ہو گی کہ خلفاء راشدین بھی سال میں ایک مرتبہ بیت المال کی کلوزنگ کیا کرتے تھے ۔ اس کلوزنگ میں وہ کوئی انٹریز پاس کرنے کی بجائے بیت المال میں جو کچھ ہوتا تھا، اسے اس کے حقداروں تک پہنچانے کی پوری کوشش کرتے تھے اور کلوزنگ کے دن بیت المال میں سے ہر قسم کے مال کو اس کے حق داروں تک پہنچانے کے بعد وہاں جھاڑو دے دی جاتی تھی۔ بادشاہ سرکاری خزانے کو ظلم کے مال سے بھر کر اسے بے دردی سے لٹایا کرتے ہیں جبکہ خلیفہ اسے درست طریقے سے وصول کر کے درست جگہ پر خرچ کرتے ہیں ۔

میں سوچنے لگا کہ خلافت راشدہ کا عرصہ اتنا قلیل کیوں رہا۔ ہماری 1400 سالہ تاریخ میں خلافت راشدہ کا عرصہ صرف 30 سال ہے ۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ عرصہ کل 60 سال بنتا ہے ۔ بعد کے کچھ اچھے ادوار بھی خلافت راشدہ کے قریب ہیں ۔ ان کا مجموعہ بھی چالیس پچاس سال سے زیادہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کی 1500 سالہ تاریخ میں خلافت راشدہ کا عرصہ بھی 200 سال سے کم ہے ۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالی نے امتحان کے لئے بنائی ہے ۔ اگر ہر طرف خلافت راشدہ کا دور دورہ ہو تو پھر امتحان کیا رہا۔ پھر تو ہر شخص ماحول سے مجبور ہو کر نیکی کرنے پر مجبور ہو گا۔ انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ نیکی اور بدی کے مخلوط ماحول میں اچھا رہے ۔

مسجد سے باہر نکل کر ہم اینٹوں والی گلی میں چل پڑے ۔ کچھ دور ایک اور شاندار مسجد نظر آ رہی تھی جس کے بارے میں نائب امام صاحب نے بتایا تھا کہ یہ دو سو سال قدیم ہے ۔ اس مسجد کا نام “بایزید یلدرم مسجد” تھا جو کہ ایک عثمانی بادشاہ تھے ۔ یہ مسجد سنان کے آرکی ٹیکچر کا شاہکار نظر آ رہی تھی۔ میں مسجد کے اندر چلا گیا۔ اندر سے مسجد نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔ مسجد کی چھت نہایت ہی خوبصورت نقش و نگار سے مزین تھی۔ زیادہ تر نیلا رنگ استعمال کیا گیا تھا۔ ترکوں نے مسجد نبوی کی تعمیر میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا چنانچہ اگر آپ ترکوں کے دور کی بنی ہوئی مسجد نبوی کے گنبدوں کا اندرونی جائزہ لیں تو کچھ ایسے ہی نقش و نگار وہاں بھی موجود ہیں ۔

مسجد کے قریب ہی ایک خوبصورت فوارہ بنا ہوا تھا جس میں سے کئی رنگ نکل رہے تھے ۔ ہمیں بھوک لگ رہی تھی۔ قریب ہی شاورما کی ایک دکان تھی جو ہمارے لئے غنیمت تھی۔ میں نے اسے خوب مصالحے دار بنانے کے لئے کچھ الٹے سیدھے اشارے کئے جسے کمال مہربانی سے وہ صاحب سمجھ گئے اور انہوں نے خوب مرچیں بھر کر شاورما بنا دیا۔ میرا خیال تھا کہ جب ہم اسے کھائیں گے تو ہمارے کانوں سے دھواں سا نکلنے لگے گا، آنکھوں اور ناک سے پانی بہہ نکلے گا ، زبان سے “سی سی ” کی آوازیں نکلیں گی مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ شاورما بہت مزیدار تھا اور اس کی مرچیں ذائقے میں بہت مناسب تھیں ۔ معلوم ہوا کہ ترکی مرچیں زیادہ تیز نہیں ہوتیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (ترکی کا سفرنامہ (16 (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *