(ترکی کا سفرنامہ (9 (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 ترکی کا سفرنامہ (9)

 مبشر نذیر

امیگریشن

 جہاز ٹنل پر جا لگا۔ ہم لوگ یہاں سے نکل کر امیگریشن کاؤنٹر کی جانب بڑھے۔ اتنے میں ایک باحجاب خاتون تیزی سے ہماری جانب آئیں اور عربی میں کہنے لگیں ، “سعودی حضرات امیگریشن سے پہلے ویزا کاؤنٹر سے ویزا لے لیں ۔” سعودی شہریوں کے لئے ایئر پورٹ پر ہی ویزا کی سہولت موجود تھی۔ ہم لوگ امیگریشن کاؤنٹر کی جانب بڑھے ۔ یہاں کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے ۔ اس وقت بہت سی فلائٹس اتری تھیں جس کی وجہ سے امیگریشن کی قطار بہت طویل تھی۔ یہ قطار آخر میں جا کر پندرہ بیس کاؤنٹرز پر ختم ہو رہی تھی۔ امیگریشن آفیسرز تیزی سے مہریں لگا کر لوگوں کو فارغ کر رہے تھے جس کے باعث قطار تیزی سے کھسک رہی تھی۔

قطار میں زیادہ تر لوگ یورپین تھے ۔ ان میں سے پاکستانی صرف ہم ہی تھے۔ سابقہ تجربے کے باعث میرا خیال یہ تھا کہ جیسے ہی ہم امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچیں گے، ہمارے سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی امیگریشن آفیسر ہمیں کوئی نامی گرامی دہشت گرد یا اسمگلر سمجھتے ہوئے علیحدہ کمرے کی طرف بھیج دے گا۔ وہاں ترکش امیگریشن اور انٹیلی جنس کا عملہ ہم سے طویل تفتیش کرے گا اور مطمئن ہونے کے بعد ہماری جان چھوڑے گا۔ ہمارے سامان کی باریک بینی سے تلاشی لی جائے گی اور ہمارے جسم کے ریشے ریشے کو جدید مشینوں کی مدد سے چیک کیا جائے گا۔

میں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنے ذہن میں طویل منصوبہ بندی کر لی۔ اگر انہوں نے یہ سوال کیا تو اس کا جواب یہ ہو گا۔ اگر وہ پوچھا تو اس طرح جواب دوں گا۔ میں نے بیس پچیس سوالات کے ممکنہ جوابات تیار کر لیے۔ میں نے سوچا کہ اگر انہوں نے ترکی آمد کا مقصد پوچھا تو کہوں گا کہ ترکی کے تاریخی مقامات پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس طرح شاید ان پر رعب پڑے اور وہ متاثر ہو کر جلدی جان چھوڑ دیں ۔ اس خیال کا اظہار میں نے اپنی اہلیہ سے کیا تو وہ فوراً بولیں : “یہ غضب نہ کیجیے گا۔ آپ کسی طرف سے بھی کوئی مصنف یا محقق دکھائی نہیں دیتے ۔”

انہوں نے میری شخصیت کا بے رحمانہ تجزیہ شروع کر دیا، “محققین کی تین نشانیاں ہیں : پہلی یہ کہ اس کی آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک ہونی چاہیے ۔ وہ آپ لگاتے نہیں ۔ دوسری نشانی یہ کہ محقق کو آدھے سر سے گنجا ہونا ضروری ہے ۔ یا پھر کم از کم کنپٹیوں کے بال سفید ہونا ضروری ہے ۔ ابھی آپ کے بال جھڑنا شروع نہیں ہوئے اور نہ ہی سفید ہوئے ہیں ۔ تیسری نشانی یہ کہ محقق کی توند کا باہر نکلا ہوا ہونا ضروری ہے جس کا ڈایا میٹر کم از کم 48 انچ ہو۔ آپ کی اچھی بھلی توند نکلی ہوئی تھی جسے آپ نے ا سکواش کھیل کھیل کر اور فاقے کر کر کے اندر کر لیا۔ اب اگر آپ ایسا کوئی دعویٰ کریں گے تو امیگریشن والے ہمیں مشکوک سمجھیں گے ۔”

اس تجزیے نے مجھے کافی حد تک قائل کر لیا تھا اور ایسا کوئی دعوی کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان کو خود کو صرف اور صرف طالب علم سمجھنا چاہیے ۔ جب کوئی طالب علم خود کو محقق، مدقق، اسکالر، عالم اور اس طرح کے بھاری بھرکم القابات سے مزین کرنے لگتا ہے تو ابتدا میں اس کی گردن اکڑنے لگتی ہے ۔ اس کے بعد وہ دوسروں کو جاہل سمجھ کر انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے ۔ اس کے بعد اس کا علم اسے جاہل بنا دیتا ہے ۔ یہ لاعلمی والی جہالت نہیں ہوتی بلکہ رویے کی جہالت ہوتی ہے جو انسان کو سرکش بنا دیتی ہے ۔ دور جاہلیت کے ایک شاعر عمرو بن کلثوم کے بقول ؂

الا لا یجھلن احد علینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فنجھل فوق جھل الجاھلینا

خبردار! کوئی ہمارے خلاف جہالت کا اظہار نہ کرے کہ ہم بھی تمام جاہلوں سے بڑھ کر جہالت کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (ترکی کا سفرنامہ (9 (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *