تعلیم ، تحقیق اور ترقی (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

دنیا میں جو ممالک اس وقت سب سے طاقتور اور مضبوط سمجھے جاتے ہیں، ان کی ترقی کی دو بنیادی اساس ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہوں اور دوسرے وہ فوجی ٹیکنالوجی کے اعتبار سے آگے ہوں۔ ہمارے ہاں مغربی ممالک اور ان کے علاوہ چین، جاپان اورکوریا وغیرہ کا اس پہلو سے ذکر کیا جاتا ہے۔ مگر یہ بات شاذ ہی زیر بحث آتی ہے کہ وہ معاشی اور فوجی طور پر آگے کیسے بڑھ گئے۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جو ممالک معاشی طور پر یا فوجی طور پر مستحکم ہیں، ان کے ہاں مسلسل اختراع اور ایجاد و دریافت کا ایک عمل جاری رہتا ہے۔ معاشی طور پر وہ نت نئی مصنوعات بناتے ہیں یا ان کو بنانے کے بہتر سے بہتر طریقے دریافت کرتے ہیں۔ جبکہ فوجی طور پر اسلحہ کی نت نئی ٹیکنالوجی سے وہ اپنی افواج کو لیس کرتے چلے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی قوت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت بھی امریکہ ایجادات میں ساری دنیا سے آگے ہے۔ پرسنل کمپیوٹر سے لے کر ایپل فون تک دور جدید کی اہم ترین ایجادات امریکہ میں ہوئی ہیں۔ جبکہ فوجی طور پر اس کی ایک مثال ہمارا ایف سولہ جہاز ہے جو امریکہ ہی نے بنایا ہے۔

جن ممالک میں اس وقت زیادہ ایجادات ہورہی ہیں، اس کا سبب یہ نہیں کہ وہاں کے باشندوں پر الہام ہوتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان ممالک میں شرح تعلیم بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ لوگ ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو تحقیق کے میدان میں اترتے ہیں اور نت نئے تصورات پر کام کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ تعلیم و تحقیق کا یہی عمل ایجاد ودریافت کا باعث بنتا ہے۔ یہ ایجادات آخرکار فوجی اور معاشی قوت کا سبب بن جاتی ہیں۔

اس پہلو سے اگر ہم اپنے ملک پاکستان کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ بیس کروڑ آبادی کے اس ملک میں تعلیم اور شرح خواندگی انتہائی کم ہے۔ یونیسکوکے مطابق 55 فی صد شرح خواندگی کے ساتھ پاکستان کا نمبر دنیا میں 160 ہے۔ جبکہ اعلیٰ تعلیم کا حال یہ ہے کہ ملک کی آبادی کا بمشکل پانچ فی صد حصہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ۔

یہ بھی بہت غنیمت ہوتا کہ اگر یہ اعداد وشمار اصل صورتحال کی عکاسی کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ اکثر و بیشتر ایک فراڈ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس ملک میں جو ڈگری آپ چاہیں گھر بیٹھے حاصل کریں ۔ جو لوگ کسی طرح تعلیم کا بوجھ ڈھوتے ہیں وہ بھی نقل اور دیگر ذرائع سے پاس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کسی اعلیٰ یونیورسٹی میں پاکستانی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے مختلف امتحانات پاس کر کے طلبا کو اپنی قابلیت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

یہ ہے وہ صورتحال جس میں ہمارے ملک میں تعلیم کا بجٹ صرف دو فی صد ہے۔ اورہمارا خیال یہ ہے کہ سی پیک جیسے منصوبوں سے اپنی تقدیر بدل دیں گے۔ اس طرح کے منصوبوں کی افادیت ضرور ہوتی ہے۔ ان سے اور اچھی معاشی پالیسیوں سے عارضی طور پر کسی ملک کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے۔ مگر کوئی ملک دنیا میں مستقل طور پر ترقی کر جائے اور دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہواس کا ایسے منصوبوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اس دنیا میں دیرپا ترقی اور اپنی افرادی قوت کا حقیقی فائدہ اٹھانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ ملک میں تعلیم اور تحقیق کا چلن عام ہو۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا، وگرنہ ہم دیکھتے رہ جائیں گے اور دنیا کی دیگر اقوام ہی نہیں بلکہ ہمارے خطے کی اقوام بھی ہم سے بہت آگے نکل جائیں گی اور ہم غربت و جہالت کی دلدل میں دھنسیں رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *