توہین رسالت :ایک بنیادی نکتہ (Abu Yahya ابویحییٰ)

[پچھلے دنوں مردان یونیورسٹی میں مشال نامی ایک نوجوان کو توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے قتل کر کے اس کی لاش پر بھی تشدد کیا گیا۔ اس صورتحال پر مدیر انذار ابو یحییٰ نے پہلے ایک مضمون ’’ان ربک سریع العقاب‘‘ کے عنوان سے لکھا۔ اس کے بعد ایک اور مفصل مضمون میں ایک بنیادی غلطی کی نشان دہی کی گئی جو توہین رسالت کے حوالے سے ہمارے ہاں عام ہے ۔ یہ دونوں مضامین قارئین انذار کی خدمت میں پیش ہیں ۔ادارہ]

توہین رسالت مسلمانوں کے لیے ایک علمی مسئلے سے زیادہ ایک جذباتی مسئلہ ہے۔ ایسے کسی مسئلے پر علمی گفتگو کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن اس حوالے سے ایک بنیادی نکتہ ایسا ہے جس کا اظہار ایک بنیادی دینی تقاضہ ہے ۔ اس کے بغیر دین کا کوئی طالب علم روزِ قیامت اللہ کی بارگاہ میں سرخرو نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ خاکسار برسہا برس سے ان نکات پر لوگوں کی توجہ مبذول کرا رہا ہے۔ اور ایک دفعہ پھر یہ بات لوگوں کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔

تاہم اس اصل نکتے سے قبل دو اہم چیزوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس خاکسار کے نزدیک توہین رسالت کا قانون ملکی سطح پر ضروری ہے اور پورے عدل و انصاف کے ساتھ اس کا نفاذ ہماری اجتماعی ضرورت ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری مذہبی فکر کی فرقہ وارانہ تقسیم ہے۔ ہمارے ملک میں اکثریت بریلوی مسلک کے لوگوں کی ہے۔ ان کے نزدیک اہلسنت کے باقی دو اہم مسالک یعنی اہل حدیث اور دیوبندی دونوں گستاخ رسول اور بددین ہیں۔

معلوم بات ہے کہ ان دونوں مسالک کے اکابرین کے خلاف گستاخی رسول کے فتوے موجود ہیں۔ پچھلی صدی میں بریلوی مسلک کمزور پڑا تو یہ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہو گیا تھا، مگر پچھلے کچھ عرصے میں مولانا الیاس قادری کی سربراہی میں بریلوی مسلک کے احیاء کی ایک زبردست تحریک اٹھی ہے۔ ربع صدی میں یہ جماعت ایک صدی سے کام کرنے والی تبلیغی جماعت کو پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ جس کے بعد بریلوی مسلک کو ایک دفعہ پھر نئی زندگی ملی ہے ۔

ہمارے ہاں بعض نادان ممتاز قادری کے واقعے کو مذہبی طبقے کی طاقت کا اظہار سمجھتے ہیں۔ یہ مذہبی طبقے کی نہیں بلکہ بریلوی مسلک کی نئی طاقت کا اظہار ہے۔ چنانچہ سب کو یاد ہو گا کہ جنید جمشید مرحوم کے ساتھ ممتاز قادری کے چہلم ہی کے موقع پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جنید جمشید پر بھی گستاخی ہی کا الزام تھا۔ آج دعوت اسلامی کے قائد مولانا الیاس قادری ایک متوازن بزرگ ہیں۔ مگر یہ خاکسار دعوت اسلامی کا حصہ رہا ہے اور جانتا ہے کہ ا س کی اٹھان کیا ہے۔ کل اس کی قیادت کسی سخت گیر شخص کے ہاتھ میں آئی تو پھر سارے فرقوں کے گستاخوں کے فیصلے بندوق کی نوک پر اور ہجوم کے ہاتھوں چوراہوں پر ہورہے ہوں گے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں ضروری ہے کہ ملکی سطح پر یہ قانون باقی رہے تاکہ لوگوں کو عدالت میں جانے پر آمادہ کیا جا سکے۔ اس وقت بھی جن لوگوں نے تحقیق کی ہے وہ بتاتے ہیں کہ عدالتوں میں توہین عدالت کے بیشتر کیسز وہ ہیں جن میں کسی بریلوی نے کسی دیوبندی یا اہل حدیث کے خلاف مقدمہ کر رکھا ہے۔ اور وجہ ایسی ہی کوئی چیز ہوتی ہے کہ کسی اہل حدیث یا دیوبندی نے میلاد کے کسی اشتہار کو بدعت کی دعوت سمجھ کر دیوار سے پھاڑ کر پھینک دیا تو اس پر الزام لگ گیا کہ اس نے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی توہین کی ہے۔ جن لوگوں کو ہماری بات کچھ مبالغہ لگ رہی ہو وہ ذرا جنید جمشید کا معاملہ یاد کر لیں۔ جنید جمشید مرحوم کا اصل جرم یہ تھا کہ ان کا تعلق دیوبندی مکتب فکر سے تھا۔ ورنہ جو کچھ ان کی زبان سے نکلا تھا وہ بالکل نادانستگی میں ہوا تھا اور اس کی معافی بھی وہ علانیہ مانگ چکے تھے۔ دوسری طرف ایک اور مشہور ٹی وی اینکر نے صحابہ کرام کی شان میں انتہائی گستاخانہ گفتگو پورے شعور اور ارادے سے کی تھی، مگر ان کی ایک عمومی معافی کو اس لیے قبو ل کر لیا گیا کہ ان کاپس منظر بریلوی اور شیعہ مکتب فکر کا ہے۔

چنانچہ مقدس شخصیات کے نام پر جو فرقہ وارانہ مفادات کی جنگ ہوتی ہے ، اس کے پرامن حل کا اس وقت راستہ یہی ہے کہ معاملہ عدالت میں جائے۔ یہیں سے ہم دوسرے نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ کسی صورت میں اور کسی قیمت پر اس بات کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے کہ افراد قانون ہاتھ میں لیں۔ ہم مذہبی لوگوں کو خدا کا خوف دلا دلا کر تھک چکے ہیں۔ اب ہاتھ جوڑ کر صرف یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ خدا سے نہیں ڈرتے تو انسانوں سے ڈرو۔ جو گڑھا آپ دوسروں کے لیے کھودرہے ہیں ، وہ آنے والے برسوں میں سب سے بڑھ کر آپ کی قبر بنے گا۔ اس روش کی اگر ایسے ہی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی تو آنے والے دنوں میں جب بریلوی مسلک اپنی پوری طاقت کو پہنچے گا تو چن چن کر اور گھیر گھیر کے ایک ایک گستاخ کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ گستاخ لبرل کم ہوں گے اور دیوبندی اور اہل حدیث مسالک کے لوگ زیادہ ہوں گے۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کے جو واقعات پیش کیے جاتے ہیں وہ درایت اور روایت کے کسی معیار پر پورے نہیں اترتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب گستاخی رسول پر کسی منافق کا سرقلم کرنے والا واقعہ بالکل بے اصل ہے۔ یہ سند کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ نابینا صحابی والا واقعہ روایت کے علاوہ درایت کے پہلو سے اتنا کمزور ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے نقل کرنے والے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس طرح کا تاثر پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک صاحب رات کے وقت اپنی باندی کو قتل کرتے ہیں اور صبح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے یہ کہہ کر فارغ ہوجاتے ہیں کہ اس نے گستاخی کی اس لیے مارڈالا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم بغیر کسی گواہی کے اس کی بات مان بھی لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ قاتل قتل کرے اورخود ہی مقتول کے خلاف گواہی دے دے اور اسے بری کر دیا جائے۔ کیا اسلام کے قانون شہادت اور حضور ا کرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عدالت میں ایسے ہی فیصلے ہوا کرتے تھے؟ اور اگر یہ بات ٹھیک ہے تو پھر مان لیناچاہیے کہ جو شخص جس کو چاہے رات میں قتل کر دے اور صبح عدالت میں جا کر بیان دے دے کہ میں نے اس کو گستاخی کے جرم میں قتل کیا ہے۔ عدالت اسے بری کرنے کی پابند ہو گی۔ تو پھر بسم اللہ کیجئے اور اس کو ملک کا قانون بنا دیجئے۔ پھر سارے لوگ اپنے ذاتی جھگڑے اسی طرح نمٹالیا کریں گے۔

اصل بنیادی نکتہ

اب ہم آتے ہیں اس بنیادی نکتے کی طرف جس کا سمجھنا ضروری ہے ۔ قرآن و حدیث کا تمام ذخیرہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف گستاخی کا سب سے زیادہ معاملہ آپ کی زندگی میں پیش آیا۔قرآن و حدیث میں اس حوالے سے گستاخوں کے جو الفاظ نقل ہیں وہ ایسے ہیں کہ آج کوئی قرآن و حدیث کا حوالہ دیے بغیر نقل کر دے تو لوگ اسے زندہ آگ میں جلادیں ۔ مگر سرکار کی شان کریمی کے کیا کہنے ہیں کہ کہیں ذاتی انتقام، بدلے اور سزا کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے ۔

حقیقت یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اگر اپنی ذات کے لیے انتقام لینے والے ہوتے تو طائف اور مکہ کے کفار سے لے کر مدینہ کے یہود و منافقین تک کوئی بھی زندہ باقی نہیں رہتا۔ ان میں سے ہر شخص اور گروہ نے آپ کے خلاف ہر ممکنہ گستاخی کا معاملہ کیا تھا۔ یہ معاملہ گلی بازاروں ہی میں نہیں ہوا بلکہ آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور آپ کی مجلسوں میں بیٹھ کرکیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ کی عنایت سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس اتنی طاقت تھی کہ آپ جس کو چاہتے قتل کرا دیتے۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ حضور کا معاملہ اگر یہی ہوتا جس طرح بعض لوگ نقشہ کھینچتے ہیں کہ وہ گستاخی کرنے والوں کو سزا دیتے تھے ، اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے تھا کہ کوئی کافر، یہودی اور منافق زندہ نہیں رہ پاتا۔ مگر ہمارے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر قربان ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پوری زندگی ذاتی انتقام سے بالکل خالی ہے ۔

یہ ہے وہ عظیم سیرت جو آسمان سے زیادہ بلند ہے۔ جو صاحب خلق عظیم کی سیرت ہے۔ اس سیرت جیسی نظیر انسانیت پیش نہیں کرسکتی۔ مگر بدقسمتی سے لوگ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چند وہ اقدامات جو معاندین اسلام کے خلاف کیے گئے، ان کو لیتے ہیں اور بدقسمتی سے انھیں گستاخی رسول کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔

مثال کے طور پر کعب بن اشرف کا معاملہ لے لیجئے ۔ سوال یہ ہے کہ اس کو اگر گستاخی کے جرم میں قتل کیا گیا تو مدینہ میں باقی گستاخ کیا کم تھے، ان کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ کعب کا اصل جرم یہ تھا کہ اس نے جنگ بدر کے بعد مکہ جا کر اہل مکہ کو جوش دلایا اور بدر کا انتقام لینے کے لیے مدینے پر حملے کے لیے تیار کیا۔ یہ میثاق مدینہ کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ اس نے مدینے کے تمام رہنے والوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ یقینی تھا کہ عین اس وقت جب کفار باہر سے حملے کریں گے، یہ شخص اندر سے مسلمانوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپے گا۔ اس لیے مدینہ کو بچانے کے لیے یہ لازمی تھا کہ اس شخص کو قتل کر دیا جائے۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سماجی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *