جب چمڑی ادھیڑ دی جائے گی (Abu Yahya ابو یحییٰ)

 

یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے خدا کے دین کی سچائی کو بیان کرنے کے لیے اپنے شاندار کیرئیرز کو قربان کر کے پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کر دی۔ ہر قسم کے قومی اورفرقہ وارانہ تعصب سے بلند ہوکر صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا۔ اس راہ میں اپنے کسی تعصب کو حائل ہونے دیا نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کی۔ جب کسی خواہش پرست نے دین کو اپنی خواہشات کے تابع کر کے بیان کرنا چاہا تو پوری قوت سے اس کی راہ میں کھڑے ہوگئے۔ شہرت اور مقبولیت کو قربان کر دیا۔ گالیاں کھائیں، برا بھلا سنا، قادیانیت، یہودیت ، منکر حدیث غرض کون سی مذہبی گالی نہیں سنی۔

مگر جب بھی کوئی بے گناہ اسلام کے نام پر مارا جاتا ہے وہ لرز اٹھتے ہیں کہ عالم کا پروردگار روز قیامت مقتول کے مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت ان سے کوئی سوال نہ کر لے۔ وہ ان سے پوچھ نہ لے کہ تمھارے ہوتے ہوئے میرے نام پر یہ سب کچھ کیوں ہوا۔ جواب دہی کے احساس سے ان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ مگر کتنے عجیب ہیں وہ لوگ جن کے نظریات، تقریروں ، تحریریوں ، تاویلوں اور مصلحانہ خاموشی کی وجہ سے اسلام کے نام پر مسلسل بے گناہوں کو مارا جاتا ہے ۔ ان کو کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ خدا کے نام پر کھڑے ہیں۔ رب العالمین لازماًان سے پوچھا گا کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ کیوں ہورہا تھا۔ مگر اس احساس سے ان کی نیندیں نہیں اڑتیں ۔ ان کی پیشانی پر پسینہ نہیں آتا۔

شاید اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے عالم کے پروردگار کو معاذ اللہ اپنے جاہل پیروکاروں کی طرح سمجھ رکھا ہے۔ وہ ایک توجیہہ پیش کریں گے اور اللہ تعالیٰ مان لیں گے۔ پاک ہے عالم کا پروردگار اس طرح کی بے ہودگیوں سے ۔ وہ عزیز ذوانتقام ہے۔ اس کی آگ چمڑی ادھیڑ نے کے فن کی ماہر ہے۔ سو جو لوگ اب بھی باز نہیں آتے وہ انتظار کریں اس دن کا۔ جب ایسی موٹی کھال والوں کی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *