جماعت اسلامی اور سیاسی خلا (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

جماعت اسلامی اور مولانا مودودی سے میرا ایک ذاتی تعلق ہے۔ اپنی نوجوانی کے زمانے میں جب مغربی مفکرین کی تنقید سے میرا اسلام پر اعتماد متزلزل ہورہا تھا، مولانا مودودی کی تحریروں نے اس اعتماد کو بحال کر دیا تھا۔ اب گرچہ میں فکری طور پر بہت آگے جا چکا ہوں لیکن اسی بنا پر ان سے عقیدت و محبت کا تعلق آج کے دن تک قائم ہے۔ اسی طرح ربع صدی قبل جب درس دینا شروع کیا تو میری شہرت کی بنا پر جمعیت کے حلقوں میں مجھے بار بار درس دینے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ میں نے زندگی کا پہلا ووٹ دیا تو وہ بھی قاضی حسین احمد مرحوم کو دیا تھا۔ یہ ہمدردری اور محبت کا وہ پس منظر ہے جس میں جماعت کے حوالے سے کچھ معروضات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ شاید کوئی سمجھنے والا سمجھ لے ۔

جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے جو ستر برس میں بھی کبھی اس ملک میں برسراقتدار نہیں آ سکی۔ اس کی وجہ سیاست کے بعض حقائق کو نہ سمجھنا ہے۔ سیاست میں ہمیشہ خلا پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ کامیاب سیاستدان وہ ہوتا ہے جو اس حقیقت کو سمجھ سکے کہ سیاسی خلا کہاں پیدا ہورہا ہے اور اسے فوری طور پر بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پاکستان میں اس کی نمایاں ترین مثال بھٹو صاحب تھے۔ اس کے بعد نواز شریف، کراچی شہر اور سندھ میں الطاف حسین اور پھر عمران خان نے یہ کام کیا۔ تاہم جیسے ہی کسی سیاستدان کی انگلیاں عوام کی نبض پر سے ہٹتی ہیں یا وہ اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگاتا ہے ، دوبارہ ایک سیاسی خلا پیدا ہوجاتا ہے۔

ایوب خان کے عہد میں جو سیاسی خلا پیدا ہوا اسے بھٹو صاحب نے بھر دیا۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا اسے پنجاب کی حد تک نواز شریف نے بھر دیا۔کراچی میں بھٹو صاحب کی پالیسیوں نے جو خلا پیدا کیا تھا اسے الطاف حسین نے بھر دیا۔ بھٹو صاحب کی طرح نواز شریف نے بھی جب اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تو ایک اور خلا پیدا ہوا جسے عمران خان نے بھر دیا۔ بدقسمتی سے عمران خان نے بھی اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔ لوگ نواز شریف سے پوری طرح مطمئن نہیں تھے لیکن عمران خان کے پے در پے غلط اقدامات کی وجہ سے اب وہ ان کی بصیرت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور اس وجہ سے اس وقت ملک میں ایک اور سیاسی خلا پیدا ہو چکا ہے۔ یہی معاملہ الطاف حسین کے ساتھ ہوا۔ جس کے بعد شہر سندھ میں بھی ایک خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جبکہ زرداری صاحب کی مہربانی سے پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ میں عرصے سے ایک سیاسی خلا پیدا کر رکھا ہے، مگر وہاں کوئی متبادل قیادت موجود نہیں ہے۔

یہ وہ خلا ہے جس میں جماعت اسلامی کے قائدین کو غوروفکر کرنا چاہیے۔عرصہ ہوا وہ ایک جمہوری راستہ اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے اندر کی داخلی جمہوریت کم از کم پاکستان کے معروضی حالات میں مثالی ہے۔ ان کے پاس مخلص اور تربیت یافتہ کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے۔ مگر جماعت جس بات کو نہیں سمجھ پا رہی وہ یہ ہے کہ دنیا کو نیشن اسٹیٹ کے دور میں داخل ہوئے ایک صدی ہو چکی ہے۔ اب اپنی قوم سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ آپ دنیا بھر کے مسلمانوں کے حق میں مظاہرہ کر لیں یا اسلامی اتحاد پر کتنی ہی تقریریں فرمالیں، لیکن کوئی مسلمان ملک نہ آپ کو شہریت دے گا نہ بغیر ویزے کے آپ کواپنے ہاں آنے دے گا۔ لوگ برما اورشام کے مسلمانوں سے ہمدردی کرسکتے ہیں، ان کی مدد کے لیے چندا بھی دے سکتے ہیں، مگر ان کے لیے سب سے اہم اپنے مسائل ہیں۔ ان کو ایڈریس کئے بغیر کوئی جماعت پاپولر جماعت نہیں بن سکتی۔

بدقسمتی سے جماعت نیشن اسٹیٹ کے دور میں عالمی سیاست کرتی ہے۔ یہی ان کی ناکامی کی اصل وجہ ہے۔ جماعت کی تاریخ میں ایک استثنائی ماڈل نعمت اللہ خاں صاحب نے قائم کیا تھا۔ انھوں نے 2001 ء میں جرنل مشرف کے تعاون سے اس زمانے میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ سے پیدا ہونے والے خلا کو بھرپور طریقے سے بھردیا اور شہر کو ترقی کے راستے پر ڈال دیا۔ اس زمانے میں ایم کیو ایم کی قیادت کچھ نہ کچھ اپنے حواسوں میں ہوا کرتی تھی۔ اس لیے فوراً اپنی غلطی کا تدارک کرتے ہوئے اگلے الیکشن میں حصہ لیا اور مصطفیٰ کمال کی شکل میں شہر کی تعمیر کے ماڈل کو آگے بڑھایا۔

جماعت اسلامی اگرایک خالص سیاسی جماعت ہوتی تو اپوزیشن میں بیٹھ کر کچھ انتظار کرتی۔ اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے سے عوامی حقوق اور مسائل کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرتی، مظاہرے کرتی، سیمینار کرتی۔ وہ ایسا کرتی تو 2007 کے بعد ایم کیو ایم نے جو خلا پیدا کیا وہ آج بھرچکی ہوتی۔ کراچی اور حیدرآباد کے لاوارث لوگ ان کی ماضی کی کارکر دگی کی بنا پر لازماً ان کو قبول کر چکے ہوتے۔

بدقسمتی سے جماعت اسلامی یہ سب نہیں کرتی۔ اسے برما اور شام کے لوگوں پر ہونے والا ظلم نظر آتا ہے۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کو وہ شہید کہتی اورممکنہ حد تک ان کی بھرپور حمایت کرتی رہی ہے۔ عافیہ صدیقی کے لیے وہ آخری حد تک گئے، مگر پاکستان کے گلی کوچوں میں ہر روز کسی نہ کسی ’’عافیہ صدیقی‘‘ کی عصمت دری ہوتی ہے، اس پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں۔ وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی ہے۔ اس پر تیزاب ڈالا جاتا ہے، تشدد کیا جاتا ہے۔ مگر یہ انھیں کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوتی جس کو اپنا مسئلہ بنالیا جائے۔

ان تمام چیزوں کے باوجود ہمارے نزدیک پاکستان کے ماحول میں جماعت اسلامی کا دم بڑا غنیمت ہے۔ انھیں صرف ایک بنیادی چیز کی اصلاح کرنا ہے۔ انھیں اس حقیقت کو مان لینا ہے کہ وہ ایک نیشن اسٹیٹ میں جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد انھیں اس کے تقاضے نبھانے ہیں۔ جماعت نے ایک زمانے میں اسلامک فرنٹ اور پاسبان وغیرہ کے ذریعے یہ کوشش کی تھی۔ مگر اس میں غلطی یہ تھی کہ جماعت پر اصل کنٹرول نظریاتی لوگوں کا تھا، جبکہ سیاسی سرگرمیوں کو الگ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جبکہ کرنا یہ چاہیے کہ نظریاتی لوگوں کو جماعت سے الگ کر دیا جائے۔ پھرجماعت اسلامی ایک مکمل سیاسی جماعت بنے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام سے لاتعلقی اختیار کی جائے۔ اسلام اگر نظر آئے تو وہ اس کے نعروں میں نہیں اس کے کارکنوں کے کردار میں نظر آئے۔ وہ اپنے صالحین ہونے کا نعرہ نہ لگائیں، بلکہ اپنی خدمت اور اخلاق سے لوگوں کو بتائیں کہ صالحیت یہ ہوتی ہے۔ باقی جن لوگوں کا بہت نظریاتی ذوق ہے وہ علم وتحقیق کے میدان میں تشریف لائیں۔ تعصبات سے پاک ہوکر ذرا علم کی دنیا کا مطالعہ کریں۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ جس نظریے کے وہ علمبردار تھے، علم کی دنیا میں اس کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔ امید ہے کہ اندھی تقلید سے بلند ہونے کے بعد نظریاتی میدان میں مولانا مودودی کے بعد پھرکوئی بڑا آدمی پیدا ہو گا اور جیسے انھوں نے علم کی دنیا میں ایک عالم کو متاثر کیا تھا، کوئی اور بھی یہ کرے گا۔ ورنہ اطمینان رکھیے کہ جماعت اسلامی نہ سیاست میں کوئی کارنامہ سرانجام دے گی، نہ علم کی دنیا میں مولانا مودودی کی وراثت کو کچھ آگے بڑھا سکے گی۔

جماعت اسلامی کی بقا تحریکی مزاج کے لیڈروں اورکارکنان میں نہیں ہے، بلکہ سیاسی مزاج کے لوگوں میں ہے۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ اسلامی حکومت کسی تحریک سے نہیں آتی۔ بلکہ اعلیٰ اخلاقی انسانوں کے اقتدارمیں آنے سے قائم ہوجاتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بنوامیہ کی ملوکیت حضرت عمر بن عبد العزیز کے اقتدار میں آنے سے خلافت راشدہ میں بدل گئی تھی۔

آج کے سیاسی خلا میں جماعت اسلامی کے لیے بڑے مواقع ہیں ۔ وہ اگر قوم کے مسائل کو مسئلہ بنالیں تو ایک عشرے کے اندر اندر وہ اقتدار میں پہنچ سکتی ہے۔اور جب تک اقتدارمیں نہیں آتی حکمرانوں کو بہتر رویہ اختیار کرنے پر ضرور مجبور کر دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *