جھوٹے پروپیگنڈے پر صبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 لغویات بے فائدہ اور بے مقصد کاموں کو کہا جاتا ہے ۔ اسی لیے قرآن مجید میں اہل ایمان کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ لغویات سے دور رہتے ہیں، (المومنون:3)۔ تاہم قرآن کریم میں لغویات کا ذکر ایک دوسرے پہلو سے بھی آیا ہے ۔ وہ یہ کہ اہل ایمان جب لغو بات سنتے ہیں تو اسے نظر انداز کر کے باوقار طریقے سے گزر جاتے ہیں ، (القصص 55:28، الفرقان 72:25)۔ یہی وہ پہلو جس میں قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو جنت کی ایک بہت بڑی نعمت کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو وہاں لغویات سننے کو نہیں ملیں گی، (الواقعہ 25:56، النبا35:78، الطور23:52، مریم 62:19 )۔

اس پہلو سے لغویات سے مراد بیہودہ گوئی، لایعنی تبصرے، غیر متعلق نکتہ آفرینی، طنز و استہزا، الزام تراشی، کذب و افترا، اشارہ بازی، اور برے ناموں سے پکارا جانا سب شامل ہیں ۔ اعلان نبوت کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت شروع ہوئی تو کفار مکہ نے دیگر حربوں کے ساتھ ان چیزوں سے بھی مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ آج کل کی اصطلاح میں اس کو کسی کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ یہی وہ حالات تھے جن میں ایک طرف اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو صبر و برداشت کے ساتھ اس بیہودگی کو برداشت کرنے کی تلقین کی بلکہ یہ یقین دلایا کہ جنت میں انھیں ایسی فضول چیزوں کو سننے کی زحمت سے بچالیا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک داعی کو ہمیشہ اس طرح کی چیزوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔مگر ایسے موقع پر بندہ مومن کا اصل سرمایہ پروردگار کی یہی نصیحت ہوتی ہے کہ اس طرح کی چیزوں کو مکمل نظر انداز کر دو۔ اس یقین کے ساتھ جیو کے ایک دن آئے گا جب تمھارا مذاق اڑانے والے ، تمھیں گمراہ قرار دینے والے خود مذاق بن جائیں گے ، (المطففین 83: 36-29)۔

_______***______

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to جھوٹے پروپیگنڈے پر صبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *