جھوٹ گھڑ نا اور نفرت پھیلانا (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

مسلمانوں کے اہل علم میں مختلف علمی چیزوں پر ہر دور میں بڑے اختلافات رہے ہیں۔ عقائد کی تشریح سے لے کر عبادات تک اور فہم دین کے اصولوں سے لے کر جزئی فقہی معاملات تک مسلمانوں کی علمی روایت اختلاف رائے سے بھری ہوئی ہے۔

بدقسمتی سے یہ دور جدید کا خاصہ ہے کہ اب اختلاف رائے کے ساتھ جھوٹی مہمیں چلانا، اپنے سے مختلف علمی زاویہ نظر رکھنے والے اہل علم کو بدنام کرنا، ان کے خلاف نفرت پھیلانا، پورے اعتماد سے الزام وبہتان لگانا مذہبی لوگوں کا عام وطیرہ بن گیا ہے۔ جھوٹا قرآن گھڑنے سے لے کر دین میں تحریف تک کے الزامات اس اعتماد سے لگائے جاتے ہیں کہ گویا الزام لگانے والے وقت کے پیغمبر ہوں۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والوں سے لے کر ایک عام مذہبی شخص تک لوگ بے حجابانہ یہ کام کرتے ہیں اور کوئی شرم، کوئی حیا اور کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔

اپنے جھوٹ پر اتنے اعتماد کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ لوگوں پر اس جرم کی شناعت واضح نہیں۔ یہ سبب بھی نہیں ہوتا کہ لوگ ان جرائم کی سزاؤں سے واقف نہ ہوں۔ کیا لوگ نہیں جانتے کہ سرکار دوعالم نے فرمایا ہے کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بلا تحقیق پھیلا دے۔ کیا لوگ نہیں جانتے کہ بہتان پر قرآن مجید میں کتنی سخت وعیدیں آئی ہیں ۔

بات صرف اتنی ہے کہ جو جھوٹ اور نفرت پھیلاتے ہیں، وہ اسے ایک دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص ہے تو فتنہ اور برائی ہی۔چنانچہ اس برائی کے خلاف اگر جھوٹ بھی بول دیا جائے تو کیا حرج ہے۔ لوگ اس شخص سے متنفر ہوں گے تو ایک برائی سے دور ہوجائیں گے۔ چنانچہ ہمارے ہاں اطمینان سے لوگوں کو منکر حدیث، منکر جہاد، مغرب کا ایجنٹ، استعمار کا کارندہ، جھوٹا قرآن گھڑنے والا وغیر کے خطاب دے دیے جاتے ہیں۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح جھوٹ بول کر وہ ایک نیکی کر رہے ہیں۔ تاہم یہ انداز فکر ایک خوفناک غلطی اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ وہ غلطی یہ ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو بات ان کو سمجھ آ گئی وہ آخری حق ہے۔ اور جو ان سے اختلاف کر رہا ہے وہ باطل پر کھڑا ہے اور باطل کو پھیلا رہا ہے۔ چنانچہ خود کو حق اور دوسرے کو باطل سمجھنے کی سوچ ہی اصل خرابی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں حق صرف انبیاء علھیم السلام کے پاس ہوتا ہے۔ باقی لوگ صرف رائے ْقائم کرسکتے ہیں جو صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ ختم نبوت کے بعد اب چونکہ کسی نبی کو نہیں آنا اس لیے قیامت سے قبل یہ معلوم بھی نہیں ہو سکتا کہ کسی معاملے میں کس کی رائے درست تھی اور کس کی غلط۔ چنانچہ اب تو یہ حق کسی کے پاس نہیں کہ خود کو حق اور دوسرے کو باطل خیال کرے۔ خود کو سچائی کا نمائندہ اور دوسروں کو شیطان کا ایجنٹ قرار دے۔

اس حوالے سے عام لوگوں کی ذمہ داری بھی بہت زیادہ ہے۔ جھوٹ ایک مذہبی شخص پھیلاتا ہے۔ عام لوگ اس کے ظاہر سے متاثر ہوکر اس پر یقین کر لیتے ہیں اور اس جھوٹ کو آگے پھیلاتے ہیں۔ خاص کر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں تو یہ چیز بہت آسان ہوگئی ہے۔ پہلے جو کام زبان سے ایک شخص سے دوسرے تک منتقل ہوتا تھا اب وہ ان ذرائع سے کئی لوگوں تک منتقل ہوجاتا ہے۔

ایسے میں عام لوگوں کو حضور کا وہ فرمان یاد رکھنا چاہیے کہ کسی سنی سنائی بات کو آگے پھیلانا جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے ۔ اور یہ کہ کسی کو کافر یا اسی نوعیت کا کوئی خطاب دیا جائے گا تو اگر غلط ہے تو کہنے والا خود کافر ہوجائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جھوٹ اور نفرت پھیلانا جتنا آسان ہے۔ اس کی سزا اتنی ہی سخت ہے۔ لوگوں کو اتنا ہی جرم کرنا چاہیے جتنی سزا وہ برداشت کرسکیں ۔

 

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, اخلاقیات | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *