حساب کے پرچے میں شاعری ( Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

 امتحان لینا اور دینا تعلیمی عمل کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے ۔ طلبا سال بھر پڑھتے ہیں ، مختلف علوم کی سمجھ پیدا کرتے ہیں اور ان جوابات کی تیاری کرتے ہیں جن کے بارے میں امتحان میں سوال پوچھے جائیں گے ۔ امتحان میں کسی طالب علم کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس نے سوال کا درست جواب دیا یا نہیں ۔ حساب کے پرچے میں اگر شاعری ، گرامر اور سائنس کے پرچے میں مذہب اور اخلاقیات کے بھاشن لکھ دیے جائیں تو ممتحن بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فیل کر دیتے ہیں ۔ یہی نہیں حساب کے پرچے میں جمع کے سوال میں تفریق اور ضرب کے سوال میں تقسیم کی کہانی لکھنے کا انجام بھی کچھ مختلف نہیں ہو سکتا۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی کامیابی اور جہنم سے نجات کسی شخص کے لیے ممکن نہیں جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے پرچہ امتحان سے سرخرو نہیں ہوجاتا۔ اس امتحان میں اللہ تعالیٰ نے یہ بڑا کرم کیا ہے کہ سوال بھی بتا دیے ہیں اور ان کے جواب بھی بیان کر دیے ہیں ۔ مگر یہ عجیب سانحہ ہے کہ ہم مسلمان یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمیں بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں بھیج دیا جائے گا اور جتنے کچھ سوالات ہوں گے وہ غیر مسلموں سے ہوں گے ۔ جو لوگ خود کو کسی امتحان میں کھڑا دیکھتے ہیں وہ بھی اپنے پرچہ امتحان میں ہر سوال کا غلط جواب لکھ رہے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ بتا چکے ہیں کہ قیامت کے دن بنیادی سوال اللہ تعالیٰ کی ہستی کو اپنے ایمان اور عمل کا مرکزی خیال بنانے کے حوالے سے ہو گا، مگر لوگ غیر اللہ کو زندگی کا مرکزی خیال بنا کر جیتے ہیں ۔ سوال عبادات کے بارے میں ہو گا، لوگ خرافات اور بدعات کو دین بنا کر جیتے ہیں ۔ سوال مخلوق کی خیر خواہی، دعوت اور محبت پر ہو گا ، مگر ہم نفرت اور دہشت کو اسلا م قرار دیتے ہیں ۔

لوگوں کا جو دل چاہے وہ لکھتے رہیں مگر اس دینداری کا وہی انجام ہونا ہے جو حساب کے پرچے میں شاعری لکھنے والوں کا ہوتا ہے ۔

———***———

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to حساب کے پرچے میں شاعری ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. noshaba says:

    ہماری اکثریت کچھ اسی طرح کا ہی پرجہ دے رہی ہے

  2. anonymous says:

    mashaAllah, nice example …

  3. Gulrayz says:

    Very well explained. Thanks.

  4. Amy says:

    Jazak Allah khair.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *