خدا سے مانگتے رہنا کبھی ضائع نہیں جاتا (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

خدا زندہ ہے۔ اسے ہر چیز کی خبر ہے۔ اس کی رحمت یہ گوارا نہیں کرتی کہ کوئی فریادی اس کے در اقدس پر آئے اور وہ خالی ہاتھ چلاجائے۔ یہ اس دنیا کی سب سے بڑ ی حقیقت ہے۔ مگر انسانوں میں سے کم ہی لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں۔ اس ناواقفیت کا سبب صرف اتنا ہے کہ لوگ اپنی محرومی کو یاد رکھتے ہیں، خدا کی عطا کویاد نہیں رکھتے ۔

انسانوں کا یہ عجیب المیہ ہے کہ نعمتوں کو محسوس کرنے اورانہیں یاد رکھنے کے معاملے میں انسانوں کی یادداشت آخری درجہ میں کمزور ہے۔ ہاں غم و آلام اور زندگی کی محرومیوں کا حساب کتاب رکھنے میں ہر شخص اتنا ماہر ہوتا ہے کہ ایک بھی محرومی اس کی یادداشت سے محو نہیں ہوتی۔ اس رویے کے ساتھ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان خدا کی کسی عطا کی قدردانی کرے ۔

خدا سے جب بھی مانگا جاتا ہے وہ سنتا ہے۔ جب اسے پکارا جاتا ہے وہ جواب دیتا ہے ۔ مگر ہم انسان ہمیشہ خدا کو دنیا مانگ کر آزماتے ہیں۔ وہ دنیا جو عطا کے نہیں امتحان کے اصول پر بنی ہے۔ چنانچہ امتحان میں کبھی وہ مانگی ہوئی چیز ہی دیتا ہے، کبھی اس سے بہتر دیتا ہے ۔ کبھی فوراً دے دیتا ہے کبھی کچھ وقت کے بعد دیتا ہے ۔ کبھی اپنی عطا سے جھولی بھرتا ہے اور کبھی اپنی سکینت قلب پر اتار کر اس میں سکون و اطمینان بھردیتا ہے۔ مگر وہ دیتا ضرورہے۔ اسے مانگنے والوں کونہ کہنا اچھا نہیں لگتا۔

کبھی خدا کوآزمانا ہو تو سچے دل سے ہدایت مانگ کر خدا کو آزمانا چاہیے۔ متاع دنیا تو بندے کی بہتری کے خیال سے روکی جا سکتی ہے ۔ متاع آخرت روکنے میں کیا بہتری۔ ہدایت اور آخرت خدا ہر حال میں دیتا ہے ۔ فوراً دیتا ہے ۔ بس جھولی پھیلی رہنی چاہیے ۔ تعصب چھوڑ دینا چاہیے ۔ خدا ہر حال میں دیتا ہے ۔ جو مانگا جا سکتا ہے وہ سب کچھ دیتا ہے کیونکہ خدا سے مانگتے رہنا کبھی ضائع نہیں جاتا۔

 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *