خدا کو پانے والے (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

خدا کی حمد خدا کو پائے بغیر کرنا ممکن نہیں۔ اور اس مادی دنیا میں رہ کر خدا کو پانا بہت مشکل کام ہے۔ یہ وہ کام ہے جس سے روکنے کے لیے ذریت ابلیس کے ہزاروں لاکھوں فرزند ہمہ وقت مصروف ہیں۔ یہ وہ کام ہے جس کی انجام دہی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود انسان کا اپنا نفس ہے۔ مگر یہی وہ مشکل کام ہے جس کا اخروی بدلہ جنت کی ابدی بادشاہت ہے اور دنیوی بدلہ حمد باری تعالیٰ کی توفیق ہے۔

خدا کو پانے کے لیے دنیا میں رہ کر دنیا سے اوپر اٹھنا ہوتا ہے۔ خدا کو پانے کے لیے اپنی خودی اور انا کو چھوڑنا پڑ تا ہے۔ خدا کو پانے کے لیے اپنے قومی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ ورنہ لاکھوں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو خدا کانام لیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ اپنے تعصبات کے بندے ہیں۔ ایسے لوگوں کو فیضان الٰہی سے ایک ذرہ بھی نہیں ملتا۔ چاہے وہ ہزار سجدے کریں۔ چاہے وہ ہزار مذہب کا نام لیں۔

خدا کا فیضان انہی کو ملتا ہے جو ہوا کی سرسراہٹ میں خدا کی رحمت، سورج کی روشنی میں خدا کی عنایت، تاروں کی جگمگاہٹ میں خدا کی شفقت کو دریافت کر لیں۔ جو انفرادی نعمتوں کے ساتھ سورج اور چاند جیسی آفاقی نعمتوں کا شکر بھی ایسے ادا کریں جیسے یہ ان پر خدا کی ذاتی مہربانی ہو۔ جو آزادی کے ہر لمحے میں یہ یاد رکھیں کہ خدا غیب میں تو ہے مگر ہر لمحہ ان پر نگران ہے۔ جو مشکل کے ہر لمحے میں یہ یاد رکھیں کہ حالات سخت تو ہیں مگر خدا کی قربت اسی مشکل میں ہے۔ جو نعمت کے ہر لمحے میں یہ یاد رکھیں کہ سبب کوئی بھی ہومگر دینے والا وہی مہربان ہے۔

یہی لوگ خدا کو پانے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے آنسو اور آہیں سب اپنے آقا کے لیے وقف ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اِس دنیا میں خدا اپنی حمد کے لیے اور اُس دنیا میں اپنی عطا کے لیے چنتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to خدا کو پانے والے (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Bushra says:

    Beshak. SubhanAllah

  2. Zuhaib says:

    Khuda ka sahi shaur hasil kr lene k bad insaan isi dunya main wo itminaan pa leta hai jo shayad wo khuda ko samnay dekh lene k baad pa le ga.Phir Duniye ki cheezon ki kashish us k liye gunah ka sabab nahi banti. phir ye duniya us k liye ek asiay he musafir ki tarha hai k wo subha ghr se niklna kuch dair dor dhoop ki jaisay he din dhala aur itminaan se wapis ghr ki tarf chal pra.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *