خواتین اور مسجد کی نماز (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

خواتین کی مسجد میں نماز کے حوالے سے جب بھی گفتگو ہوتی ہے تو ہمارے ہاں یہ ایک جذباتی مسئلہ بن جاتا ہے۔ حالانکہ اب یہ ایک علمی اور عملی مسئلہ ہے اوراسی پہلو سے اس کا جائزہ لینا چاہیے۔

پہلے عملی پہلو کو لے لیجیے۔ جیسے ہی یہ بات کی جاتی ہے لوگ فضیلت کی ایک بالکل غیر متعلق بحث اٹھا دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی مسجد میں حاضری اب فضیلت کا نہیں بلکہ ضرورت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ آج کل کی خواتین معمول کی بنیاد پر ملازمت وغیرہ کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہیں۔بہت سی خواتین بازار یا راستے میں ہوتی ہیں کہ نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔ ایسی تمام خواتین کے سامنے زیادہ فضیلت والی یا کم فضیلت والی نماز کا کوئی انتخاب نہیں ہوتا بلکہ انتخاب یہ ہوتا ہے کہ نماز پڑھیں یا قضا کر دیں۔ اس وقت تو یہی ہوتا ہے کہ ضرورت کے تحت بھی گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کی نمازوں کا وقت گزرجاتا ہے اور وہ چاہنے کے باوجود نماز ادا نہیں کر پاتیں کہ مساجد میں خواتین کے داخلہ کا کوئی تصور ہمارے ہاں نہیں ہے۔ حالانکہ بیشتر مساجد میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ خواتین کی الگ جگہ بنائی جا سکے جیسے کہ سعودی عرب وغیرہ میں مساجد میں خواتین کی نماز کی جگہ موجود ہوتی ہے ۔

علمی پہلو سے لیجیے تو یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے ادوار میں خواتین مساجد میں حاضر ہوتی رہی تھیں۔حالانکہ اُس دور میں خواتین کی اس طرح الگ جگہ مخصوص نہ تھی جس طرح آج بنانا ممکن ہو چکا ہے۔ خواتین کی صفیں مردوں کے پیچھے ہی ہوا کرتی تھیں۔غالباً یہی وہ پس منظر تھا جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے بعض خواتین کی بے احتیاطی کو دیکھ کر یہ کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھتے تو مسجد جانے کی اجازت نہ دیتے۔

ظاہر ہے کہ مسجد عبادت اور پاکیزگی کی جگہ ہے۔ اس میں خواتین اگر اپنی نمائش یا کسی اور ذریعے سے اپنی یا مردوں کی توجہ عبادت کے بجائے صنف مخالف کی طرف مبذول کرانے کا سبب بنتی ہیں تو یہ بالکل نامناسب ہو گا۔ تاہم آج کل کے دور میں جب خواتین کی بالکل علیحدہ جگہ مختص کرنا ممکن ہو گیا ہے، حضرت عائشہ کی اس بات کو پیش کرنا بالکل غیر متعلق بات ہے۔ یہ بات صرف اسی وقت درست تھی جب مردو زن ایک ہی جگہ آگے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین پر مسجد میں آنے کی کوئی ممانعت نہیں کی بلکہ اس کے بالکل برعکس گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان اور معاشرے کے مردوں کو صراحتاً یہ حکم دیا ہے کہ وہ خواتین کو مسجد میں آنے سے نہ روکیں۔ صحیحین کی ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو مساجد میں آنے سے نہ روکو۔ صحیحین کی ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ عورتیں رات کی نماز کے لیے مسجد جانے کی اجازت طلب کریں تو انھیں نہ روکو۔ حتیٰ کہ صورتحال یہ ہوگئی کہ ایک موقع پر نماز فجر کے لیے جانے والی ایک خاتون کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا گیا۔ پھر بھی خواتین کے مسجد آنے کی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی نہ پابندی لگائی گئی۔

ان تمام حقائق اور احادیث کی بنا پر خواتین کے مسجد آنے پر لگی غیر علانیہ پابندی کو اب ختم ہونا چاہیے۔ ہاں کسی کو یہ بتانا ہے کہ خواتین کے لیے گھر کی نماز میں زیادہ فضلیت ہے تو وہ ضرور بیان کرے ۔ لیکن یہ دعویٰ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ کی بندیوں کے اللہ کے گھروں میں جانے پر پابندی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے دور میں جہاں گھر سے باہر جانے والی خواتین کے لیے واحد راستہ یہی ہوتا ہے کہ وہ نماز کا وقت ہونے او رنماز پڑھنے کی خواہش کے باوجود نمازوں کو قضا کر دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سماجی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *