داؤد علیہ السلام کی تنہائی (Abu Yahya ابو یحییٰ)

 

قرآن مجید میں حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب وہ اللہ کی حمد کے نغمے بکھیرتے تو پہاڑ اور پرندے ان کے ہم آواز ہوجاتے تھے۔قرآن مجید پہاڑوں اورپرندوں کا ذکر تو کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ اس حمد کا ساتھ دینے کے لیے انسان بھی آئے تھے۔ ہاں وہ یہ ضرور بتاتا ہے کہ ان کی زبانی بنی اسرائیل پر لعنت بھی کی گئی ہے۔

حضرت دادؤد علیہ السلام کی زندگی کے واقعات معلوم ہیں۔ ان کو اپنی زندگی میں ایک زبردست جدوجہد کرنا پڑی۔ خدا کی حمد کے یہ غیر معمولی نغمے بکھیرنے والی ہستی کو کوئی پناہ میسر نہ تھی۔ ایک موقع پر تو انھیں جان بچانے کے لیے فلسطین چھوڑ کر مکہ میں پناہ لینا پڑی۔ بنی اسرائیل ان کے بدترین دشمن ہوگئے تھے۔ حالانکہ ایک زمانے میں یہ ان کے وہ ہیرو تھے جنھوں نے ان کے دشمن جالوت بادشاہ کو اس وقت تن تنہا قتل کیا تھا جب کسی میں اس کے مقابلے کی ہمت نہ تھی۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ خدا کی حمد کے نغمے بکھیرنے والوں کو انسانوں کی دنیا میں بالعموم کوئی پذیرائی نہیں ملتی۔ لوگ اپنے قومی جذبات اور مقاصد کی تسکین کے لیے ہیرو چاہتے ہیں۔ انھیں ایسے کسی شخص سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جو حق بیان کر رہا ہو۔ چاہے وہ داؤد علیہ السلام ہوں، چاہے عیسیٰ علیہ السلام ہوں، چاہے سرکار دوعالم ہوں یا کوئی اور نبی۔ سب کے ساتھ لوگ ایک ہی سلوک کرتے ہیں ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی حمد کے نغمے بکھیرنے والے لوگ خدا کی طرف ہی سے اٹھتے ہیں۔ جس کے بعد وہ سچ بھی بیان کرتے ہیں۔ تنقید بھی کرتے ہیں۔ غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ گمراہیوں کو ہدف بھی بناتے ہیں۔ اس کی برداشت کسی کو نہیں ہوتی۔ جس کے بعد لیڈر شپ ان لوگوں کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ وہ لوگوں کو ان سے بدگمان کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کرتی ہے۔الزام، بہتان، دشنام اور کذب و افتراء کا ایک طوفان اٹھ جاتا ہے۔ گردن تک جذبات اور جہالت میں ڈوبے عوام الناس کو اس سے کیا دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ اصل بات جاننے کی کوشش کریں۔ وہ بھی اس کے خلاف اٹھ جاتے ہیں۔

اس کے بعد وقت کے ہر ’’داؤد ‘‘ کے ساتھ ایک ہی معاملہ ہوتا ہے۔ اس کی حمد پر پرندے اور پہاڑ خدا کی تسبیح کے لیے جمع ہوجاتے ہیں، مگر اس پر خد اکی زمین تنگ ہوجاتی ہے۔ چاند، سورج، تارے، پرندے اور پہاڑ سب اس کے ساتھ ہوتے ہیں، مگر انسانوں کی دنیا میں وہ بالکل تنہا رہ جاتا ہے۔ قومی تعصبات کے لیے اٹھنے والوں پر زمین کے خزانے کھلے ہوتے ہیں اور اس کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ خدا کے دشمن زمین میں بے خوف و خطر دندناتے پھرتے ہیں اور اسے جان ہتھیلی پر لیے نکلنا پڑ تا ہے۔

بظاہر یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ لیکن یہ المیہ داؤد کا نہیں ہوتا۔ آل داؤد کا بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے بارے میں داؤد علیہ السلام ہی نے زبور میں اعلان کیا تھا اور جسے قرآن نے زبور کا حوالہ دے کر پوری قوت کے ساتھ دہرا دیا کہ زمین کے وارث آخر کار انھی لوگوں کو بنا دیا جائے گا۔ یہ المیہ اس قوم کا ہوتا ہے جس میں یہ واقعہ پیش آ رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ آخر کار ایسے لوگوں پر خدا کی لعنت کر دی جاتی ہے۔ اس لعنت کا اعلان داؤد علیہ السلام نے بھی کیا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کیا تھا۔

یہ سانحہ بنی اسرائیل میں بھی پیش آیا اور بنی اسماعیل میں بھی پیش آیا۔ یہ پچھلی امت کی بھی کہانی تھی اور اس امت کی بھی کہانی ہے۔ اس لیے جب کسی قوم میں کوئی داؤد تنہا رہ جائے تو یہ ڈرنے کا مقام ہوتا ہے۔ داؤد کے لیے نہیں بلکہ قوم کے لیے۔ کیونکہ اس کے بعد خدا کی لعنت آتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *