دنیا کی مشکل (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

ہم میں سے ہر شخص مشکلات سے گھبراتا ہے اور آسانی پسند کرتا ہے۔ لیکن مشکلات اس دنیا کی تخلیقی اسکیم کا لازمی حصہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ایک سے زیادہ جگہ اس بات کو بیان کرتے ہیں یہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس امتحانی پرچہ کے حصے ہیں ۔ ایک نعمتیں اور دوسری مشکلات۔ چنانچہ مشکلات سے مفر ممکن نہیں ۔

تاہم اس حقیقت کے باوجود کہ دنیا میں مشکلات اور مسائل ناگزیر ہیں، چند چیزیں ایسی ہیں جن سے یہ مشکلات آسان کی جا سکتی ہیں۔ پہلی اللہ تعالیٰ کی صفت حکیم پر یقین رکھنا ہے ۔ مشکلات میں یہ یقین انسان کو بتاتا ہے کہ زندگی کی ہر مشکل کی ایک وجہ اور حکمت ہے۔ یہ حکمت ہمارے ہی فائدے کے لیے ہے۔ مگر چونکہ ہم کو علم نہیں ہوتا تو ہم مشکل سے گھبرا جاتے ہیں۔

اس کو دو مثالوں سے سمجھیں۔ پہلی مثال اس نوبیاہتا لڑکی کی ہے جس کی شادی پر کچھ عرصہ گزر جائے اوراس کے ہاں اولاد نہ ہو۔ ایسی لڑکی کے ہاں جب اولاد کی تمہید بنتی ہے تو اس کی ساری علامات بیماری کی ہوتی ہیں ۔ مگر جیسے ہی اصل حقیقت کی خبر ہوتی ہے وہ لڑکی اور اس کے متعلقین پریشان ہونے کے بجائے خوش ہوجاتے ہیں ۔ نو مہینے میں عملی طور پر حاملہ کی کیفیت ایک بیمار مریض سے مختلف نہیں ہوتی۔ مگر متوقع اولاد کی خوشی اور ان کیفیات کے عارضی ہونے کی بنا پر وہ باخوشی اس مشکل صورتحال کو برداشت کرتی ہے ۔

یہی معاملہ مشکلات اور ناگوار حالات کا ہے۔ دنیا کی ہر مشکل عنقریب آخرت کی بہت بڑی آسانی میں بدلنے والی ہے۔ مگر ہم صورتحال کو اس پہلو سے نہیں دیکھتے ۔ ہم نہیں سوچتے کہ مشکل کا ہر لمحہ حشراور آخرت کی کسی نہ کسی سختی کو ہم سے دور کر رہا ہے اور جنت کی کسی نہ کسی نعمت کو بڑھا رہا ہے۔ مگر جیسے ہی ہمیں اس حقیقت کا یقین ہوجائے گا ہم ایک حاملہ لڑکی کی طرح مشکل کو بھی خوشی کے ساتھ برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں گے ۔ ہم مسائل اور پریشانیوں کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے، مگر اسے اپنے ذہنی سکون کو منتشرکرنے کا سبب نہیں بنائیں گے ۔ جو ہو سکے گا ہم کریں گے اور باقی معاملہ اللہ پر چھوڑ کر مطمئن ہوجائیں گے ۔ اس یقین کے ساتھ کہ ہمارا جو معاملہ ہمارے ہاتھ میں نہیں رہتا وہ اس ہستی کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو بہت کریم و رحیم ہے ۔

مشکلات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ زندگی کی اکثر مشکلات ایسی ہوتی ہیں ، جن میں آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی ہمارا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ مگر عام طور پر ہم نہیں جانتے کہ یہ مشکل دراصل کتنی بڑی مشکل سے ہمیں بچا رہی ہے۔ اس کی مثال اس بچے کی ہے جسے ویکسینیشن کا ٹیکہ یا بیماری میں دوا کا کڑوا گھونٹ جب دیا جاتا ہے تو وہ چیخ و پکار شروع کر دیتا ہے ۔

مگر ہر شخص جانتا ہے کہ یہ کڑوا گھونٹ اور سوئی کی چبھن درحقیقت موت، معذوری، اور مرض کی تکلیف سے بچانے اور جسم کی راحت کے لیے ناگزیر ہے۔ یہی معاملہ زندگی کے بہت سے مسائل کا ہوتا ہے ۔ ان مسائل کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ ہم کو زندگی کے بہت سے بڑے اور تباہ کن مسائل و مشکلات سے بچا لیتے ہیں۔ مگر ہم چونکہ ان زیادہ بڑے مسائل سے واقف نہیں ہوتے، اس لیے مشکلات پر نالاں رہتے ہیں ۔

تاہم اللہ تعالیٰ کی تربیت کا یہ طریقہ ہے کہ بعض اوقات وہ ہماری یا دوسروں کی زندگی میں ایسے واقعات دکھا دیتے ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ جس چیزکو ہم اچھا سمجھتے تھے وہ بری تھی اور جس مشکل سے ہم بہت پریشان تھے وہ دراصل بہت بڑی خیر تھی۔ اس حکمت کو جان لینے کے بعد باقی معاملات میں ہمیں اپنی سوچ کو درست کر لینا چاہیے۔ جس شخص نے یہ انداز فکر اختیار کر لیا، اس کے لیے دنیا کی مشکل کو سہنا آسان ہوجاتا ہے۔ مشکلات کبھی اس کو زیر نہیں کرپاتی۔ اس کا حوصلہ نہیں توڑتیں ۔ یہی سوچ وہ مثبت سوچ ہے جس کی ہم سب کو ضرورت ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *