دودھ کے دانت (Abu Yahya ابویحییٰ)

ہر انسان بچپن میں اس تجربے سے گزرتا ہے کہ چھ ماہ کی عمر کے لگ بھگ اس کے دودھ کے دانت (Baby Teeth) نکلنے شروع ہوتے ہیں۔ چھ سات برس کی عمر تک یہی دانت انسان کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور اس کے بعد انھی کے نیچے سے مستقل دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ جب یہ دانت مسوڑوں کے اندر ہی ہوتے ہیں تو ان کے اثر سے دودھ کے دانت ہلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ دودھ کے دانت گرجاتے ہیں اور مستقل دانت ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔

ہر اس گھر میں جہاں چھوٹے بچے ہوتے ہیں لوگ ایسے بچوں کو بھاگتا دوڑتا دیکھ سکتے ہیں جن کے دانت یا تو ہل رہے ہوتے ہیں یا پھر گرگئے ہوتے ہیں۔ تاہم ان ہلتے اور گرتے ہوئے دانتوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی شخص وہ سبق لیتا ہوجو ان میں پوشیدہ ہے۔

ان ہلتے ہوئے دانتوں کا اصل پیغام یہ ہوتا ہے کہ انسان ان بچوں کو دیکھے اور اس حقیقت کو سمجھ لے کہ یہ بچے وہ اصل دانت ہیں جن کو ان کی جگہ لینا ہے۔ یہ ’’اصل دانت‘‘ جو اس وقت گھر میں بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں وہ قدرت کا اشارہ ہے کہ لوگ خود کو ہلتا ہوا دانت سمجھنا شروع کر دیں۔ بڑی عمر کے لوگ یہ سمجھ لیں کہ دنیا میں ان کا متبادل آ چکا ہے۔ اور اب قانون قدرت کے تحت ان کی روانگی کا وقت قریب آ رہا ہے۔

لوگ ہلتے ہوئے دانتوں کے اس پیغام کو سمجھ لیں تو ساری غفلت اور سرکشی دور ہوجائے گی۔ دنیا کے منصوبوں کے بجائے آخرت کے منصوبوں کی طرف دھیان ہوجائے گا۔ ابھی تک اگر توبہ نہیں کی تو انسان اب توبہ کر لے گا۔ اپنی اصلاح میں ابھی بھی کوئی کمی ہے تو انسان اس کی تلافی کر لے گا۔ کوئی شخص اگر یہ نہیں کرتا تو نہ کرے۔ ہلتے ہوئے دانتوں نے بہرحال عنقریب ٹوٹ جانا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, اخلاقیات | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *