دور تشکیک اور قرآن (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

دور جدید زمانی اعتبار سے دو ادوار میں تقسیم ہے۔ ایک دور وہ ہے جس کا خاتمہ بیسویں صدی کے ساتھ ہوا۔ اس دور میں عقل اور چرچ کے بیچ ایک زبردست معرکے کے بعد عقلیت کو فتح حاصل ہوئی اور چرچ کے ساتھ خدا کے تصور کو بھی رد کر دیا گیا۔ چنانچہ اس دور تک انسان کو یقین ہو گیا کہ دنیا میں ساری برائی کی جڑ مذہب تھی جس سے ہم نے جان چھڑالی ہے۔ چنانچہ ایک طرف مغربی معاشروں سے حکومتی اور معاشرتی سطح پر مذہب اجنبی ہو گیا اور دوسری طرف کمیونزم کی فتح کے بعد سوویت یونین میں خدا کے بالجبر انکار پر قائم ایک جابرانہ حکومت قائم ہوگئی۔

تاہم بیسوی صدی کے نصف اول میں دو عظیم جنگوں میں مرنے والے کروڑوں لوگوں اور سوویت یونین میں اسٹالن کے اقتدار میں قتل کیے جانے والے کئی ملین لوگوں کی لاشیں اٹھانے کے بعد انسانیت کو یہ احساس ہوا کہ دنیا جتنی بری مذہب کے ساتھ تھی، اس سے زیادہ بری مذہب کے بعد ہو چکی ہے۔

چنانچہ مذہب کو ایک دفعہ پھر افراد کی حد تک قبول کر لیا گیا اور آج کے دن تک یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ تاہم یہ مذہب اب کسی حقیقت یا سچائی کا نام نہیں ایک ثقافتی مظہر ہے جسے زیادہ سے زیادہ ایک انسانی ضرورت کہا جا سکتا ہے۔ اس مذہب میں خدا کو مانا جاتا ہے، کچھ مراسم عبودیت بھی ادا کر دیے جاتے ہیں، مگر عملی زندگی کے ڈھانچے میں اس کی بالجبر مداخلت گوارا نہیں کی جاتی۔ یعنی خدا ہے تو سہی مگر اس لیے کہ ڈپریشن میں اس کے سامنے رو لیا جائے اور مصیبت میں اس کو پکار لیا جائے۔

باقی اس کا کوئی حکم بہرحال ماننے کی ضرورت نہیں۔ ہاں دل چاہے، جب چاہے اور جتنا چاہے خدا یا مذہب کی بات مانی جا سکتی ہے۔ اگر فلسفے کی زبان مستعار لی جائے تو کہا جا سکتا کہ ہے۔

Religion is no more a True Justified Belief but Just a belief

یعنی مذہب عقل کی کسوٹی پر پورا اترنے والا کوئی مسلمہ نہیں رہا بلکہ محض ایک عقیدہ ہے۔ چنانچہ یہیں سے صحیح وغلط مذہب کی بحث اب ختم ہو چکی ہے اور تمام مذاہب درست ہیں کا نظریہ عام ہو گیا ہے۔ چنانچہ لوگ نظریاتی طور پر خدا کو مان رہے ہوتے ہیں، مگر عملاً نہیں مانتے۔ خداکو مان کر نہ ماننے کی یہ کیفیت تشکیک(Skepticism) کہلاتی ہے۔ یہ عملاً دنیا کے تمام پڑھے لکھے لوگوں کی عمومی کیفیت ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کچھ متعصب لوگوں کو چھوڑ کر جو آج بھی ہر قسم کی نامعقول باتوں کو ماننے کے لیے تیار ہوں جیسے یہ زمین چھ ہزار سال قبل وجود میں آئی، مذہب کے ساتھ تشکیک عام ہو چکی ہے۔ جن لوگوں کو سائنسی نظریات کا علم ہوجاتا ہے یا وہ ان کو سننے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں وہ انکار خدا تک پہنچ جاتے ہیں اور باقی لوگ زندگی اس طرح گزارتے ہیں کہ مذہب کو بس کچھ خاص دائرے تک محدود سمجھتے ہیں اور وہی احکام مانتے ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس سے باہر وہ کچھ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں۔

اللہ تعالیٰ جو انسانوں کے خالق و مالک ہیں، ان کو مستقبل میں پیش آنے والے اس واقعے کا پہلے سے علم تھا۔ چنانچہ انھوں نے یہ اہتمام کیا کہ مذہبی تاریخ میں پہلی دفعہ قرآن کی شکل میں ایک ایسی کتاب نازل کی جو نازل زرعی دور کے قبائلی سماج میں ہوئی تھی، مگر یہ کتاب دین کے تمام بنیادی عقیدوں پر عقلی استدلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس استدلال کو سمجھ لیا جائے تو انسان خود بخود شک سے نکل کر True Justified Belief یا حق الیقین حاصل کر لیتا ہے۔ قرآن کے اس استدلال کو دنیا تک پہنچانا آج کرنے کا سب سے بڑا کام ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, ایمان | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *