دوسروں کو تلقین (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

جمعے کی نماز باقاعدگی سے پڑھنے والے ہر مسلمان نے مساجد میں جماعت کھڑی ہوتے وقت صف بندی کا منظر ضرور دیکھا ہو گا۔ اس منظر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو آواز لگا کر آگے بڑھنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اگلی صفیں خالی پڑی رہتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان صفوں کا بھرنا جماعت کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے صدا بھی بلند کرتے ہیں۔ مگر دوسروں کو تلقین کرنے والے یہ لوگ خود اپنی جگہ چھوڑ کر آگے نہیں بڑھتے ۔

یہ کچھ افراد نہیں ایک کردار ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کردار کو ہر مسئلے کا علم ہوتا ہے۔ اس کے حل کی سمجھ بھی ہوتی ہے۔ وہ مسئلے کو حل بھی کرنا چاہتا ہے۔ مگر حل کرنے کی ذمہ داری وہ دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ وہ خود تلقین بھی کرتا ہے۔ وعظ بھی کرتا ہے۔ لوگوں کو سمجھاتا بھی ہے۔ برائیوں پر تنقید بھی کرتا ہے۔ مگر مجال ہے کہ وہ اپنے دائرے میں مسئلے کے حل کی کوئی کوشش کرے۔

ایسے لوگ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ہر ظلم پر آواز بلند کرتے ہیں۔ مگر اپنے شہر میں ہونے والے ہر ظلم سے لاتعلق بنے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا کی اصلاح کے لیے بے تاب ہوتے ہیں، مگراپنے خاندان اور اردگرد کی اصلاح سے بالکل بے پروا بنے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ سیاستدانوں کی کرپشن اور برائیوں پر ہر محفل میں برہم رہتے ہیں، مگر اپنی ذاتی خرابیوں کو فراموش کر کے جیتے ہیں۔

دوسروں کو تلقین اور اپنی ذات اور اپنے اردگرد کو بھولے رہنا کسی اعلیٰ انسان کا کام نہیں ہوتا۔ ایسا شخص نہ دنیا میں کسی خیر کا باعث ہوتا ہے نہ آخرت کے اجر کا حقدار بن سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to دوسروں کو تلقین (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Qasim mehloo says:

    Ma shaa Allah nice posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *