دو تصویریں دو پیغام (Abu Yahya ابویحییٰ)

  

آج کل الیکٹرونک میڈیا اور فیس بک پر دو تصویروں کا بہت چرچا ہے۔ پہلی تصویر کراچی کے ایک کم عمر جوڑے کی لاشوں کی ہے جنھوں نے محبت میں ناکامی کے آثار دیکھ کر خود کشی کر لی۔ دوسری تصویر ایک تین سالہ شامی بچے کی ہے جس کی لاش ترکی کے ساحل پر ملی۔ یہ بچہ پناہ کی تلاش میں یورپ پہنچنے کی کوشش میں اپنی ماں اور بڑے بھائی سمیت ڈوب گیا تھا۔

پہلی تصویر دو بچوں کے تنِ مردہ کی نہیں ، ہمارے تربیت کے تمام اداروں کے تن مردہ کی تصویر ہے ۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ سیاست اور دولت کی چکاچوند کیسے تربیت دینے والوں کو کھا گئی۔ والدین، اساتذہ، علماء، خاندان اور محلے کے بزرگ صدیوں سے انسانی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے چلے آئے ہیں ۔ اس تربیت کا ایک اہم عنصر یہ ہوتا تھا کہ آغازِ شباب میں جو غیر معمولی ہارمونل تبدیلیاں آتی ہیں اور ان سے جو جنسی ہیجان جنم لیتا ہے ، اس کو کیسے صبر، ضبط نفس، عفت کے احساس اوراپنی روایات کے لحاظ میں قابو میں رکھنا ہے ۔ کیسے اپنی خواہشات اور رومانوی جذبات کے بجائے اقدار کے احترام کو ملحوظ رکھنا ہے ۔

اس تربیت میں یہ سکھایا جاتا تھا کہ انسانی زندگی سب سے قیمتی چیز ہے ۔ خودکشی کتنے ہی پاکیزہ جذبے سے کی جائے ، ایک بدترین عمل ہے۔ محبت ایک فطری چیز ہے ، ہو بھی جاتی ہے ، مگر اس کا کمال قتل نہیں قربانی ہوتا ہے ۔والدین انسان کے سب سے بڑے محسن ہوتے ہیں ، جو ان کا نہیں ہو سکا، وہ کبھی کسی کا نہیں ہو سکتا۔ والدین کو بھی یہ سکھایا جاتا تھا کہ اللہ نے جو حق بچوں کو دیا ہے، ان کو بھی اس سے محروم نہ رکھا جائے ۔

مگر اب یہ تربیت کون کرے ۔ وہ میڈیا جو نسوانی حسن کو Eye Candy بنا کر اپنی دکان چلاتا ہے۔ وہ ٹی وی ڈرامے جہاں نوجوانی کے Lust Affair کو محبت کے نام پر سب سے بڑی آفاقی قدر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں ہارمونز کی اتھل پتھل کا شکار معصوم بچے بچیوں کوعلم و اقدارکے بجائے معلومات پڑھائی جاتی اور انگریزی سکھائی جاتی ہے۔ وہ دانشور جنھیں سیاست پر گفتگو کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ وہ مذہبی لیڈر جو فرقہ وارانہ جنگ سے کبھی فارغ نہیں ہوتے ۔

دوسری تصویر بھی اپنے پیغام میں بالکل واضح ہے ۔ یہ شام کے اس المیے کا بیان ہے جس میں 40 برس سے زائد ایک اقلیتی گروہ ملک کا اقتدار چھوڑ نے پر تیار نہیں۔ باپ مرگیا تو قوم پر بیٹے کو مسلط کر گیا۔ لاکھوں لوگوں کے قتل اور ان سے کہیں زیادہ لوگوں کے اجڑنے کے باوجود یہ خانہ جنگی ختم نہیں ہو رہی۔جنگ سے پریشان لوگ گھروں سے بھاگ رہے ہیں تو دنیا میں کہیں پناہ نہیں مل رہی۔

ہزاروں برس سے انسانی سماج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ایک حکمران جب مسلط ہوجائے تو اس سے جان چھڑانے کا طریقہ کیا ہے۔ اقتدار طاقت کا نام ہے۔ کوئی طاقتور کبھی اپنی مرضی اور خوشی سے اقتدار نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ اقتدار کی تبدیلی کے لیے تاریخ میں اکثر خون بہتا رہا ہے۔ یہ خون غیروں ہی نے نہیں، بارہا اپنوں نے بھی بہایا ہے۔ اقتدار کے لیے باپ نے بیٹے کو، بیٹے نے باپ کو اور بھائی نے بھائی کو مارا ہے ۔

ہزاروں برس کے بعد انسانی دانش نے پرامن انتقال اقتدار کا ایک طریقہ دریافت کیا اور سماج اس پر متفق ہو گیا۔ وہ یہ کہ چار پانچ برس کی حکمرانی کے بعد لازمی ہے کہ حکمران لوگوں سے اپنے اقتدار کی تائید دوبارہ مانگے۔ یہ نہ ملے تو اِسے خاموشی سے اقتدار چھوڑ کر اُسے اقتدار دینا ہو گا جسے لوگوں نے چن لیا۔ جو قومیں اس اصول کو نہیں مانتیں ۔ ان کا انجام وہی ہے جو اھل شام کا ہو رہا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دو تصویریں ہمارے دانشوروں کی اہلیت کا امتحان ہیں۔ پہلی تصویر کا پیغام یہ ہے کہ ہمارے دانشوروں کو سیاست اور دولت کی چکاچوند کو چھوڑ کر تربیت کو اس معاشرے کا اصل مسئلہ بنانا ہے یا نہیں ۔ دوسری تصویر کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں پرامن انتقال اقتدار کو اس معاشرے میں فروغ دینا ہے یا کچھ مقدس ناموں اور جزوی خرابیوں کی بنیاد پرافراد اور اقلیت کی اُس آمریت کوقبول کرنا ہے جو لاکھوں لوگوں کی جان لیے بغیر معاشرے کی جان نہیں چھوڑتی۔

وقتی چیخ و پکار سے اوپر اٹھ کر ہمیں ان بنیادی معاملات میں ایک واضح نقطہ نظر اختیار کرنا اورمعاشرے کو اس رخ پر ڈھالنا ہو گا۔ ورنہ تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ پھر حالات بالجبر اپنا ایک فیصلہ ٹھونستے ہیں ۔ یہ فیصلہ اکثر صورتوں میں بہت تباہ کن ہوتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to دو تصویریں دو پیغام (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Arifa Mustafa says:

    Very Impressive and thought provoking.
    Prayers and best wishes for the writer and Team.

  2. Adil Anis Khan says:

    Very Well Said, We pray that all social persons of the society must play there keen role to gives child good and proper knowledge/guidance according Quran & Sunnah.

    MAY ALLAH BLESS US. AMEEN-SUMA-AMEEN

    Talib-e-Dua
    Adil Anis Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *