ذرہ اور خلا ( Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

  

اگر کبھی آپ کا جانا شہر کی روشنیوں سے پاک کسی صحرائی یا پہاڑی علاقے میں ہوا ہو تو رات کی تاریکی میں آپ نے آسمان کے ہر گوشے کو تاروں سے پٹا ہوا دیکھا ہو گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بظاہر ایک دوسرے سے بالکل ملے ہوئے ان تاروں کے درمیان کھربوں میل کا خلا پایا جاتا ہے ۔ اس بات کو یوں سمجھیں کہ سورج کا زمین سے فاصلہ تقریبا نو کروڑ میل ہے ۔ جبکہ سورج کے بعد جو قریب ترین ستارہ پایا جاتا ہے وہ تقریباً 250 کھرب میل کے فاصلے پر ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کائنات میں ستاروں کی حیثیت ذروں کی سی ہے اور ان کے درمیان موجود فاصلہ اور خلا ہمارے تصور اور گمان سے کتنا زیادہ ہے ۔

یہ عالم اکبر کا معاملہ تھا۔ جبکہ عالم اصغر کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ۔ایک زمانے تک ایٹم کو سب سے چھوٹی چیز اور مادہ کی بنیادی اکائی سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اس کے بعد سائنس کی ترقی نے یہ بتایا کہ ایٹم متعدد چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنتا ہے ۔ پہلے الیکٹرون، نیوٹرون اور پروٹون کی نشاندہی ہوئی اور بعد میں کئی اور ذرات سامنے آئے ۔

ایٹم اور یہ تمام ذرات اتنے چھوٹے ہیں کہ سر کی آنکھ سے دیکھنا تو دور کی بات ہے ، تصور کی آنکھ سے بھی ان کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔ تاہم بطور مثال اگر ہائڈروجن کو لیا جائے جو کہ کائنات میں سب سے زیادہ پایا جانا والا عنصر ہے تو اندازہ کیجیے کہ سوئی کی نوک پر ہائڈروجن کے تقریباً پچاس کھرب ایٹم سما سکتے ہیں۔ اب تصور کیجیے کہ اجرام فلکی کے بیچ میں کھربوں میل کا جو خلا پایا جاتا ہے اس کو سوئی کی نوک پر سماجانے والے پچاس کھرب ایٹم بھرنا شروع کر دیں تو ان کی تعداد کتنی زیادہ ہو گی؟

پھر جیسا کہ بیان ہوا کہ خود ایٹم بھی بنیادی ذرہ نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے بہت سے ذرات پر مشتمل ہے ۔ اس کے مرکز میں ایک نیوکلس (Nucleus) ہوتا ہے جس میں پائے جانے والے ذرات نیوٹران اورپروٹان کو ابتدائی سائنس کا ہر طالب علم جانتا ہے ۔ جبکہ نیوکلس کے اردگرد الیکٹرون گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ ایٹم کے سائز سے مراد مرکزی نیوکلس اور اردگرد موجود الیکٹرون کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔ نیوکلس اور الیکٹرون کے بیچ کا تمام تر علاقہ خلا پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اگر ایٹم کو ایک فٹ بال کے میدان کے برابر تصور کر لیا جائے ، تو وسط میں ایک انگور کے برابر نیوکلس ہو گا اور میدان کی بانڈری لائن پرسوئی کی نوک جتنے چھوٹے الیکٹرون ہوں گے ۔ جبکہ بیچ میں پوری جگہ خالی پڑ ی ہوتی ہے۔ اس کا سادہ ترین مطلب یہ ہے وہ مادہ جو جگہ گھیرنے والے ایٹم سے مل کر بنتا ہے بیشتر خلا ہی ہوتا ہے ۔ اس خلا کوبھرنے کے لیے پہلے الیکٹرون کو ایٹم کا فٹبال کے میدان جتنا علاقہ بھرنا ہو گا اور پھر یہ کہیں جا کر یہ ایٹم کائنات کے خلا کو بھریں گے۔ یوں ایٹم کو بھرنے والے الیکٹرون کی تعداد اور پھر کائنات کو بھرنے والے ایٹم کی تعداد ہر شماراور اندازے سے باہر ہے ۔

یہ ساری تفصیل بیان کرنے کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کو سمجھانا ہے ۔ ایک روایت کے مطابق آپ جب رکوع سے کھڑے ہوتے تو ربنا و لک الحمد (اے ہمارے مالک حمد تیرے لیے ہی ہے ) کہتے اور پھر فرماتے کہ تیری حمد آسمانوں اور زمین بھر کے ہو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر کے اور اس کے بعد جو تو چاہے وہ بھر کر تیری حمد ہو، (سنن ابو داؤد، رقم 760)۔

یہ دعا آج کی جدید سائنس کا علم رکھنے والا کوئی شخص جب اس علم کے ساتھ پڑھے گا جو اوپر بیان ہوا تو اسے اندازہ ہو گا کہ زمین بھر کا مطلب دراصل ہے کیا۔ پھر وہ اگر یہ بھی جانتا ہو کہ کائنات لا محدود طور پر بڑی ہے جس میں مادہ بہت کم اور بیشتر خلا پایا جاتا ہے تو وہ اس خلا کے بھرنے کے تصورسے لرز اٹھے گا۔ اسے احساس ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل کس خوبی سے یہ بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ درحقیقت کس قسم کی حمد کے حقدار ہیں۔

سچ یہ ہے کہ اللہ کی حمد کسی گنتی اور کسی تصور میں نہیں آ سکتی۔ ہاں اس کا قریب ترین اندازہ اس حقیقت سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ نے الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان اور ان ہی جیسے چھوٹے چھوٹے ذرات سے بنائی ہے ۔ یہ اپنی گردش میں اللہ کی حمد کرتے ہیں ۔ مگر ان ذرات میں اور ان سے بننے والے اجرام فلکی کے بیچ میں لامتناہی خلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ خلا بے مقصد نہیں چھوڑا گیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جب کوئی مومن ایسے ہی اللہ کی حمد کرتا ہے جیسے اوپر بیان ہوا تو اس لمحے کائنات میں موجود تمام ذرات بڑھتے ہیں اور ہر خلا کو اللہ کی حمد سے بھر دیتے ہیں ۔ یہی وہ حمد ہے جو درحقیقت اللہ کا حق ہے ۔

مگر بدقسمتی سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ کی ایسے حمد کرتے ہیں جیسا کہ اس کی حمد کا حق ہے ۔ اول تو لوگوں کو غیر اللہ کی تعریفوں سے فرصت نہیں ۔ کبھی اللہ کی حمد کی بھی تو بے معنی ، رٹے رٹائے اورجذبات اور فہم سے عاری کچھ الفاظ کے ساتھ ۔ مگر جب کبھی کوئی مومن اپنے آقا کی پیروی میں اس طرح اللہ کی حمد کرتا ہے تو اس لمحے کائنات کے سارے ذرات لا محدود خلا کو بھر کر اللہ کی حمد کرتے ہیں ۔ یہ حمد ہر تصور، ہر مثال اور ہر تعداد سے بلند ہوتی ہے ۔مگر بدقسمتی سے جو انسان حمد کا یہ لمحہ تخلیق کرسکتا ہے ، وہی سب سے بڑھ  کر اس عظیم موقع سے غافل ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

5 Responses to ذرہ اور خلا ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. Hassaan says:

    Subhan Allah very well saying, Mashallah aaap par alfaz nazil hotay hain, 🙂

  2. Amy says:

    Beautiful. Jazak Allah khair

  3. Strange says:

    JazakAllah khairan wa ahsanal jazaae…

  4. Bilal says:

    jazakALLAH
    very informative

  5. Muhammad Usman says:

    bohat achy andaz sy baat wazeh ki gai hai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *