رمضان کی تیاری (Farah Rizwan فرح رضوان )

 

فرض کریں کہ آپ کو ابھی اچانک سے خوشخبری ملے کہ آج سے ٹھیک دس دن بعد آپ کے انتہائی قریبی عزیز کی شادی طے ہو گئی ہے تو مبارک باد کے بعد یقینا آپ کا پہلا رد عمل اس کی تیاری کی طرف دوڑ ہو گی، ایک شادی کی ایک سو چھتیس رسومات میں کیا کیا پہننا ہے ، کیا دینا ہے ، کہاں دعوت پر بلانا ہے ، خواہ آپ امیر ، غریب ، متوسط کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں کتنے ہی کثیرالعیال ہوں یا کتنے ہی عدیم الفرصتی کا شکار ، ٹائم مینجمنٹ سے لے کر اخراجات میں ایڈجسٹمنٹ تک سارے گر اور تمام خدا داد صلاحیتیں امڈ امڈ کر نکل آئیں گی….شادی ہو جائے گی ….عرصہ گزر جائے گا ….اور عرصے تک آپ شان سے اپنے دوستوں میں تذکرہ کرتے رہیں گے کہ فلاں وقت میں آپ نے کیا خوب کمالات کا مظاہرہ کیا۔

فرض کریں کہ نوکری یا بزنس میں ترقی کے ساتھ آپ کا تبادلہ ہو گیا اور پندرہ دن میں آپ کو نئے شہر میں جا کر بسنا بھی ہے ، کام کا آغاز بھی کرنا ہے ….. فکر نہ کریں ، کیونکہ یہاں بھی آپ کی تمام سپرمین صلاحیتیں جاگ جائیں گی اور عرصہ گزرنے کے بعد بھی آپ عرصے تک ، عام سے لوگوں میں بیٹھ  کر، اپنے خاص کارنامے پر ہیرو بنے ان کو متاثر کرتے رہیں گے ۔

فرض کریں کہ آج سے دس دن بعد رمضان آنے والے ہیں ……. آپ خاتون ہیں تو اپنا فریزر سموسوں سے بھرنا شروع کر دیں گی، حضرت ہیں تو آپ کو بس یہ سوال کرنا ہے کہ بیگم سموسے کم تو نہیں پڑیں گے ناں …….اور اگلا قدم ہو گا عید کی تیاری ، اب باقی پورا رمضان کا ایک مہینہ، گڈو، پپو، منی، ببلو کے جوتے کپڑے لینے ، ان کی ممی کا درزی کے در پر حاضریاں دینے ، پاپا کا ان کو رائیڈ دینے میں ، اور آخری دنوں میں بیوٹی پارلر ، بوتیک اور سپر سٹورز پر رش میں انتظار کرنے میں لگا دینا ہے ، عرصے سے یہی ہوتا آیا ہے ، یہی ہماری ’’روایات‘‘ ہیں کہ ہم عید الفطر کو بھی عید قرباں کی طرح مناتے ہیں اور اپنے زبان کے چسکوں ، دکھاوے کی ہوس، انتہائی ناقص ٹائم مینجمنٹ، قلیل مفادات ، علیل ترجیحات اور بھرپور سستی کے باعث، رمضان کا تمام حسن، اس کا فیض، اس کی برکات اس سے ملنے والی روحانیت ، احساس تقدس اور تقویٰ سب کو عید کی تیاری کے نام پر قربان کر ڈالتے ہیں ۔

مانا کہ ماہ رمضان میں خرید و فروخت پر کوئی پابندی نہیں لیکن ہر عمل کے لیے اپنی نیت کو پرکھتے رہنا ہماری ذمہ داری ہے ، اور عموماً برسوں سے جو ڈھیروں افطار بنانے اور عید کی بے لگام تیاریوں کا اہتمام ہے اس کے پیچھے روزے کو بہلانا، اور اس کے زریعے بھوک اور پیاس کی شدت کو بھلانا ہوتا ہے جبکہ بزرگوں کا کہنا یہ ہے کہ آپ کو بھوک لگے یا پیاس آپ قرآن پڑھیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح آپ کی روح سیراب اور جسم توانا ہوتا ہے ۔

انسان کے معدے، دماغ اور دل کا ایک انوکھا کنکشن ہے پیٹ بہت بھرا ہوا ہو تو نیند آتی ہے، کوئی بات سمجھ نہیں آتی، جبکہ پیٹ درمیانہ سا بھرا ہوا ہو تو علمی ادبی دینی بات دماغ تک پہنچ جاتی ہے، لیکن پیٹ خالی ہو تب دیکھی، سنی یا پڑھی ہوئی، حکمت کی باتیں سیدھی دل تک پہنچ جاتی ہیں، اس میں اس طرح بس جاتی ہیں کہ پھر دماغ  پر زور ڈالتی ہیں کہ وہ ان پر عمل کے لیے دیگر اعضا یعنی آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں سب کو راضی کرے اور دماغ بھی جسم کو فوری مسیج روانہ کرتا ہے کہ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے، لیکن انسان کا پیٹ ہو تو خالی پر شاپنگ اور بازاروں کے چکر میں ، دماغ دنیا کی رنگینیوں، مسائل، شور، ہنگامے، محاز آرائی، بحث تکرار، غصّے میں الجھا ہوا ہو تو روح کو وہ کیفیت میسر آ ہی نہیں سکتی، جس میں نفس کی درست تربیت ہو سکے۔ ہم تو وہ قوم ہیں کہ ادھر کسی کی شادی ہوئی نہیں کہ اگلے مہینے خوشخبری کے منتظر رہتے ہیں، سال گذر جائے تو خدشات شروع اور اس کے کچھ عرصے بعد علاج اور پھر طعنے… تو ہم سالہا سال اپنے روحانی بانجھ پن پر کیوں مطمئن رہتے ہیں؟ عرصے سے ہم رمضان گزارتے آ رہے ہوتے ہیں لیکن ہمارے اندر خدا خوفی اور دین کی سمجھ جنم ہی نہیں لے کر دیتی، شاید اس کی وجہ ہمارا پہلا کمال ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جس خاص حکمت کے تحت تقویٰ کے اس تربیتی کورس کو پورے ایک ماہ کے لیے رکھا ہے، ہم اپنی عقل لڑا کر اس کے do’s and dont’s میں خود ساختہ  ترامیم کر لیتے ہیں کہ اس کا essence سکڑ کر دس سے پندرہ دن بن جاتا ہے اور dose  پوری نہیں ہو پاتی یعنی ہم جو اپنے بچے کی مکمل حفاظت کی خاطر اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ویکسینیشن کا اہتمام کرتے ہیں، بیمار ہو جائے تو، اس کی تندرستی اور بہترین گریڈز کے لیے زبردستی پرہیز اور اینٹی بائیوٹک کا کورس مکمل کرواتے ہیں، یہاں مزے سے بدپرہیزی کی موجیں اڑاتے ہیں۔ دوسرا کمال یہ کہ اگر ہم  کسی  colic, cranky, grumpy  بچے کے والدین ہوں جو کسی صورت کوئی کام نہیں کرنے دیتا، اور کوئی اسے  ایک گھنٹے سنبھال لے، تو ایک طرف ہم اس کے مشکور ہوتے ہیں دوسری جانب ہمارے اندر کا سپر ہیرو پھر جاگ جاتا ہے اور ہم دنیا بھر کے کام اس ایک گھنٹے میں نمٹا لیتے ہیں ، لیکن یہاں اللہ تعالیٰ شیطان مردود کو ایک ماہ کے لیئے بند کر دیتے ہیں پر ہم اس اتنی بڑی سہولت اور احسان کا فائدہ اٹھانے کو اہمیت ہی نہیں دیتے ، سیل سیل سیل کے ہر بینر ہر فلائر پر لپکتے ہیں اور یہاں آسمان سے خزانہ برس رہا ہوتا ہے اور ہم ہولی دیوالی دسہرے کی طرح عید کی تیاریوں میں لگے ہوتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم ڈوب رہے ہیں ، غرق ہونے کو ہیں ، ڈوبتے کو تو تنکے کا سہارا ہی بہت ہوتا ہے ہم سنبھلیں گے تو دوسروں کو بچانے کے قابل ہوں گے ، جہاز میں آکسیجن کم ہو جائے تو آکسیجن ماسک پہلے خود لگایا جاتا ہے تاکہ ہم ہوش میں رہیں اور اپنے بچوں کی حفاظت کر سکیں۔ اب بھی وقت ہے اس سال رمضان کو اس کے تقدس کے ساتھ گزارنے کے لیے ابھی سے عید اور اس کے بعد لگاتار آنے والی شادیوں کی تیاری کی جا سکتی ہے ورنہ ہم سے اچھی تو چیونٹیاں ہیں جو گرمیوں کے موسم میں خوب محنت مشقت کر کے سردی اور بارش کے موسم کا انتظام کر لیتی ہیں ۔

——***——

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

3 Responses to رمضان کی تیاری (Farah Rizwan فرح رضوان )

  1. anonymous says:

    good reminder …

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair

  3. naila khan says:

    Jazak Allah Khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *