سب سے بڑی نیکی (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

  

اس دنیا میں کسی پیغمبر کی دعوت پر ایمان لانا سب سے بڑی نیکی ہے۔ نسلی مسلمانوں کو جہاں مسلمان پیدا ہونے کے متعدد فائدے ہیں، وہاں ان کو یہ نقصان ہے کہ وہ کبھی اس طرح ایمان نہیں لا سکتے ۔ وہ تو پیدا ہی مسلمانوں کے ہاں ہوتے اور ہوش سنبھالنے سے قبل ہی اسلام کو دین حق کے طور پر قبول کر لیتے ہیں ۔

تاہم ایک دوسرے پہلو سے یہ سب سے بڑی نیکی کمانے کا موقع آج بھی موجود ہے۔ مگر اس کے لیے ایمان کی روح کو سمجھنا ہو گا۔ ایمان کی روح سچائی کا اعتراف ہے۔ اپنے تعصبات سے اوپر اٹھ کر سچائی کو ماننا۔ اپنے مفادات اورخواہشات سے بلند ہوکر سچائی کو قبول کرنا۔ اپنی انا، اپنی پسند، اپنے ذوق اور اپنے جذبات کو پیچھے رکھ کر سچائی قبول کرنا۔

ایمان کی یہ روح اگر واضح ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے لیے بھی اس سب سے بڑی نیکی کو حاصل کرنے موقع موجود ہے۔ مگر اس کے لیے ہمیں اپنے گروہی تعصبات ، مفادات، خواہشات، اپنی انا اور پسند و نا پسند کو پس پشت ڈال کر سچ کو قبول کرنا ہو گا اورحق کا اعتراف کرنا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ۔ اس کے لیے ہمیں اپنی کچھ تربیت کرنا ہو گی۔ اس تربیت کے اصول درج ذیل ہیں ۔

عام طور پر ہم لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے نقطہ نظر سے مختلف نقطہ نظر جب سامنے آتا ہے تو ہم اس سے ایک وحشت محسوس کرتے ہیں ۔ ہم پہلی کوشش یہ کرتے ہیں کہ ایسی چیزوں کو سنیں اور پڑ ھیں ہی نہیں ۔ اگر پڑ ھیں تو بلاسوچے سمجھے رد کر دیں ۔ اور اگر سوچیں بھی تو صرف اس لیے کہ پڑ ھتے ہوئے ہر مختلف ، اجنبی اور نئی بات کا جواب سوچتے رہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ رویہ سچائی کو جاننے کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے پوری دیانت داری کے ساتھ کسی شخص کی بات کو سننا اور سمجھنا چاہیے ۔ اس کے دلائل جاننے چاہییں ۔ جب یہ مرحلہ پورا ہوجائے تو پھر یہ تجزیہ شروع ہونا چاہیے کہ یہ بات درست ہے بھی یا نہیں ۔

ہماری دوسری اہم غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم ہر مرحلے پر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور باقی سب لوگ باطل ہیں ۔ جو ہم نے سن لیا سمجھ لیا وہ آخری سچائی ہے ۔ جبکہ ممکن ہے سچائی ہمارے نہیں دوسرے شخص کے پاس ہو۔ جبکہ عین ممکن ہے کہ ہم کنویں کے وہ مینڈک ہوں جو کنویں سے باہر کی دنیا سے واقف نہ ہوں اور جو شخص ایک مختلف بات بیان کر رہا ہے وہ سمندر کی آزاد مچھلی کی طرح ہر مد و جزر اور سرد و گرم سے واقف ہو۔ مگر ہم اپنے کنویں کو دنیا سمجھتے ہیں ۔ اس کے بعد ہم گفتگو اور مباحثے میں دلیل کے جواب میں نکتہ آفرینی اور غیر متعلق مباحث چھیڑ کر بحث میں شکست سے بچ جاتے ہیں ۔ مگر درحقیقت یہ رویہ ہمارے لیے جنت کے دروازے بند کر کے جہنم کے دروازے کھول دیتا ہے ۔

ہماری تیسری بنیادی غلطی یہ ہوتی ہے کہ جب ہمیں ہماری کسی شخصی کمزوری کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، ہم کو غصہ آ جاتا ہے ۔ ہم اپنا جائزہ لینے کے بجائے کوشش کرتے ہیں کہ مخالف فریق پر کوئی الزام لگادیں ۔ اس میں ہم صحیح غلط کی تمیز بھی نہیں کرتے ۔ یوں ہم اپنی جگہ تو مطمئن ہو سکتے ہیں کہ ہم نے مخالف کو ناک آؤٹ کر دیا، مگر اس عظیم نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہ امتحان جس طرح عمل کا ہے اسی طرح فکر کا بھی ہے۔ جس طرح غیرمسلموں کو ایمان کے امتحان سے گزرنا ہے، ہمیں بھی اسی امتحان سے گزرنا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اس امتحان کا نام ایمان نہیں اعتراف ہے ۔ جس کے پاس اعتراف ہے وہی جنت میں جائے گا اور جس کے پاس نہیں ہے وہ جہنم کا مستحق ہے ۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *