(سفر نامہ کالام اور جھیل مہوڈنڈ) (Dr. Irfan Shehzad ڈاکٹر عرفان شہزاد)

ڈاکٹر عرفان شہزاد

نقطہ نظر

راہِ گمراہاں

(سفر نامہ کالام اور جھیل مہوڈنڈ)

28 تا 31 جولائی 2016، راقم کو زندگی میں پہلی بار سوات، کالام اور مہوڈنڈ جھیل کے سفر کا اتفاق ہوا۔ سفر کی دعوت ہمارے دوست جناب ندیم صاحب کی طرف سے موصول ہوئی۔ سفر کے اتنے محرکات انہوں نے اکٹھے کر دیئے کہ انکار کا مطلب محروم القسمت ہونا تھا۔ جناب ریحان احمد یوسفی اور ہمارے دوست محمد تہامی بشر علوی صاحب جیسے فاضل عالم کا شریک سفر ہونا بڑی نعمت اور بڑ ے اعزاز کی بات تھی، چنانچہ فوراً ہامی بھر لی۔ ندیم صاحب ہی کی گاڑی میں بعد از فجر راولپنڈی سے براستہ موٹر وے ہم نکلے، راستے میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور خیبر پختونخواہ میں داخل ہوئے۔

خواتین اوراہل علم جہاں باہم اکٹھے ہو جائیں، ان کا خاموش رہنا محال بلکہ ممنوع ہوتا ہے۔ چنانچہ سارے راستے مختلف دینی اور سماجی مسائل، اور علمی نکات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا، ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے آگاہی اور فہم سے استفادہ جاری رہا۔ بحرین تک تقریباً 9 گھنٹے کا سفر باتوں ہی باتوں میں کٹ گیا۔ مردان کے قریب آڑو کے باغ کے کنارے دن کا کھانا کھایا اور پھر بحرین، کے مقام پر گاڑی پارک کی۔ وہاں سے آگے کالام تک سڑک بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس میں جگہ جگہ کھڈے پڑے ہوئے ہیں۔ ذاتی گاڑی پر آگے جانا نامناسب تھا، چنانچہ گاڑی ایک گیراج میں پارک کی اور ایک سخت جان قسم کی مقامی گاڑی میں مزید دو گھنٹے کا سفر طے کر کے 5 بجے کالام پہنچے۔

اس دو گھنٹے کے سفر نے ہمارے انجر پنجر ہلا کر رکھ دیئے۔ جگہ جگہ گہری کھائیاں تھیں۔ سڑک دریائے سوات کے کنارے کنارے چلتی ہے۔ ایک طرف سرسبز پہاڑوں کے دامن میں بہتے سبزی مائل پانی والے دریائے سوات کے حسین مناظر چلتے ہیں، تو دوسری طرف سڑک کے کناروں پر حفاظتی بلاکس یا باڑ نہ ہونے کی وجہ سے عدم تحفظ کا احساس مسافروں کو مسلسل محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ عمر کے افراد، بچوں اور خواتین کے لیے یہ سفر یقیناً بہت تکلیف دہ ہو گا۔ ہم نے دیکھا کہ بہت سے لوگ جو اپنی گاڑیوں پر خاندان کے ساتھ آئے تھے، راستے کا یہ حال دیکھ کر بحرین سے ہی واپس لوٹ رہے تھے۔ کچھ لوگ البتہ ہمت کر کے اپنی ہی گاڑی پر آگے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک ایسی ہی گاڑی دیکھی جس کا ٹائی راڈ سڑک کے گڑھوں کا مقابلہ نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا تھا، گاڑی کے مسافر اس کو سڑک کے کنارے چھوڑ جانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہاں لوگوں کو اپنی گاڑیوں کو بحرین میں ہی پارک کر کے مقامی گاڑیوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہر کوئی اپنی قیمتی گاڑی مقامی گیراجوں میں چھوڑ کر جانا گوارا نہیں کرتا۔ یوں سیاحوں کی بڑی تعداد بحرین سے آگے کے خوب صورت مناظر سے محروم لوٹ جاتی ہے اور مقامی لوگ اور صوبائی حکومت ان سیاحوں کے ذریعے ہونے والی ممکنہ آمدنی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ مقامی ڈرائیور سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بحرین تک کی سڑک بھی گزشتہ حکومت نے بنوائی تھی۔ موجودہ صوبائی حکومت کو ابھی ان علاقوں کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں مل سکی۔

مردان سے آگے سارا سفر دریائے سوات کے کنارے کنارے دریا کے دھارے کے مخالف سمت جاری رہا۔ کالام میں اسی دریائے سوات کے کنارے ہوٹل نیو ہنی مون میں قیام کیا، اطمینان ہو جانے کے بعد ظہرین (ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنا) ادا کی اور قدرت کے نظارے دیکھنے باہر نکل پڑے۔ کالام جہاں قدرتی حسن کی فیاضی کا شاہکار ہے، وہاں یہ انسانی ناقدری اور غفلت شعاری کا شکار بھی ہے۔ نگاہ اوپر اٹھائیے تو چاروں طرف سبز چادر اوڑھے خوبصورت پہاڑ، اور ان سے پرے برف کی ٹوپیاں پہنے کوہ ہندوکش کے دوسرے پہاڑ دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں، لیکن جب نگاہ لوٹ کر اس جنت نظیر علاقے کے لوگوں پر پڑتی ہے اورسوات کے غربت زدہ گھروں اور زندگی کے ساتھ بقا کی جنگ لڑتے مفلس لوگوں پر آ کر ٹھہرتی ہے تو دل مسوس ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک طرف قدرت کی اتنی فیاضی کے جدھر نظر ڈالیے حسن ہی حسن اور دوسری طرف حکومت اور انتظامیہ کی اتنی نا اہلی کے اس جنت کے مکینوں کو دوزخ کا باشندہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ افسوس اس لیے بھی زیادہ ہوا کہ محض سیاحت کو فروغ دے کر ان علاقوں کی خوشحالی کا خود کار نظام وضع کیا جا سکتا تھا۔ حکومت صرف سڑک ہی بنا دیتی تو سیاحت کی ترقی سے باقی کام اور ذرائع آمدن یہاں کے محنتی لوگ خود پیدا کر سکتے تھے۔ اس پر افسوس کی ایک وجہ اور یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخواہ کا ترقیانی بجٹ ہر سال بچ رہتا ہے، پورا استعمال ہی نہیں ہوتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ شہروں سے پرے ان سیاحتی مقامات کو حکومت نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ اگربجٹ دستیاب نہ بھی ہوتا، تو بھی اگر کسی بین الاقوامی private کمپنی کو سڑک بنانے اور دیگر سہولیات مہیا کرنے کا ٹھیکہ دیا جا سکتا ہے، وہ کمپنی اپنے خرچ پر انفراسٹرکچر(infrastructure) تعمیر کرتی اور پھر سیاحوں سے ٹیکس وصول کر لیتی۔ یعنی یہ کام مفت میں بھی ہو سکتا تھا، لیکن صوبائی حکومت کی اس غفلت پر کیا کہا جائے ۔

سوات اور کالام کے سفر میں ہم نے نمازوں کو جمع کر کے پڑھا یعنی ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا۔ جس وقت ہم فقہ حنفی پر عمل کے علاوہ کسی اور فقہ پر عمل کرنا گمراہی سمجھتے تھے تو مجھے یاد ہے کہ سفر میں نماز کی پریشانی پورے سفر پر چھائے رہتی تھی۔ حنفی فقہ کے مطابق نمازوں کو جمع کرنا صرف صورتًا جائز ہے۔ یعنی، مثلاً نماز ظہر کو اس کے آخر وقت میں اور نماز عصر کو اس کے شروع کے وقت میں پڑھ لیا جائے یا اس کے برعکس کر لیا جائے، لیکن ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں اکٹھا کرنا جائز نہیں۔ اس فتوے کی وجہ سے عملی دنیا میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا تجربہ ہر مسلمان مسافر کو ہوا ہو گا۔ ذاتی گاڑی وغیرہ نہ ہو تو عملًا ایسا ہونا بہت مشکل ہے کہ سفر میں اس وقت وقفہ ملے جب ایک نماز کا آخر اور دوسری نماز کا اوّل وقت قریب آ لگے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم کس طرح لوکل ٹرانسپورٹ کو بڑے احتجاج سے رکوا کر اور تمام مسافروں کو تنگی میں ڈال کر نماز کا فریضہ ادا کرتے تھے۔ ٹرین کے سفر میں یہ مشکل دو چند ہو جاتی ہے۔ نیز دنیا کے جن ممالک میں سورج جلدی غروب ہوتا ہے وہاں خصوصًا دفتری لوگوں کو ظہر اور عصر کی نماز کے لیے ہر بار دفتر سے رخصت لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلکہ اب تو بڑے شہروں کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں ایک نماز کا وقت نکل جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسے حالات میں دینِ یسر (آسان دین) کی اس سہولت سے فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔

ہم نے اپنے اس سفر میں دین کی مہیا کردہ اس سہولت کا خوب فائدہ اٹھایا۔ نماز تو پہلے ہی قصر تھی اس پر جب ہم دو دو نمازوں کو ملا کر ادا کرتے تو دل خدا کی عظمت اور رحمت کے احساس سے معمور ہو جاتے جس نے ہم کمزوروں کی جسمانی اور ذہنی بے آرامی کا اتنا خیال کیا کہ اپنے حق میں کمی فرما دی۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے سے دل میں جذبہ تشکر پیدا ہوتا ہے جس سے خدا سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کی بجائے بالفرض اگر خدا ہماری کمزوری کا خیال نہ کرتا تو نماز تو ہم پھر بھی ادا کرتے لیکن اس میں اطاعت تو ہوتی لیکن محبت کی یہ خُو نہ ہوتی، یہ احساس نہ ہوتا کہ خدا کو ہمارا کتنا خیال ہے ۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دین کی دی ہوئی رخصتوں اورسہولتوں کو لوگوں سے چھپانا چاہیے تاکہ لوگ دین پر زیادہ عمل کر سکیں، لیکن وہ یہ بات نظرانداز کر دیتے ہیں کہ اس طرح خدا کا تصور ایک پولیس مین جیسا بنتا ہے جو ہر حال میں بس قانون پر عمل کروانا چاہتا ہے، جسے انسانوں کے احساسات کا خیال نہیں۔ جب کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خدا ہماری کمزوریوں کا احساس کرتے ہوئے ہمیں آسانیاں دیتا ہے ۔ خدا کی دی ہوئی آسانیوں کو چھپانا یا ان کو بھی مشکل بنا دینا، دراصل دین سے نادان دوستی ہے، یہ اپنی غیر لچک دار فقہی نفسیات کو دین پر مسلط کرنے کا گناہ ہے۔

رات ہم نے ہوٹل میں گزاری۔ رات کا کھانا ریحان صاحب کی فرمائش پر دال ماش منگوا کر کھایا، ندیم صاحب جو گوشت خوری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، نے مروتاً کھانے میں ساتھ دیا۔ رات کو ایک چھوٹے سے چوہے نے پہلے میرے سر اور پھر میری پاؤں کا طواف کیا۔ اس کے بعد اسے ایک شاپنگ بیگ مل گیا جس سے وہ ساری رات کھیلتا رہا۔ اگلے دن ہم نے کمرہ تبدیل کروا لیا۔

صبح ہم نے گاڑی کرائے پر لی اور مہوڈنڈ کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ سڑ ک یہ بھی ویسے ہی ٹوٹی پھوٹی تھی۔ تاہم، خوبصورت پہاڑوں، آبشاروں اور گلیشئیرز کے نظاروں نے سفر کی تکلیف کو محسوس نہ ہونے دیا۔ ہر جگہ جی مچلتا کہ تصویر بنوائیں لیکن جہاں دیدہ رفیقِ سفر ندیم صاحب فرماتے کہ آگے زیادہ خوبصورت نظارے آئیں گے، اس لیے جگہ جگہ وقت ضائع نہ کیا جائے، ورنہ زیادہ اچھی جگہوں کے لیے وقت کم پڑ جائے گا۔ اس سفر میں جتنا ہم ریحان صاحب کی دینی بصیرت کے قائل ہوئے اتنا ہم ندیم صاحب کی سفری اور انتظامی صلاحیتوں کے معترف بھی ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سفر کے اتنے خوبصورت انتظامات انہیں نے کیے رکھے کہ ان کی وجہ سے سفر کا حقیقی لطف برقرار رہا۔

مہوڈنڈ پہنچے تو میں ششدر رہ گیا۔ معلوم ہوتا تھا جنت میں آ گئے ہیں ۔ علامہ اقبال کا شعر سارے سفر میرے وردِ زبان رہا:

حسن بے پروا کو اپنی بے حجابی کے لیے

ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن

اتنا حسین نظارہ ساری عمر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چاروں طرف بلند پہاڑ، درمیان میں پھیلی ہوئی وادی، ایک طرف سبزے کا قالین بچھا ہوا، اور اس کے ساتھ ساتھ ندی بہتی ہوئی، جس کا پانی شفاف سبزی مائل رنگ لیے ہوئے تھا۔ پانی کا ایسا رنگ کہیں دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ یہ پانی اوپر ایک آبشار سے آتا ہے۔ دل للچا اٹھا کہ دیکھیں یہ پانی کہا ں سے آتا ہے۔ ہم اوپر کی طرف چل پڑے۔ ریحان صاحب اور ندیم صاحب نے نیچے رک جانے میں عافیت جانی۔ میں اور بشر علوی صاحب اوپر پتھروں کو پھلانگتے ہوئے چڑھتے چلے گئے۔ جیسے جیسے بلندی بڑھتی جاتی ہے، پانی کا جوش بھی زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ ہم نے جگہ جگہ تصویریں لیں۔ ممکنہ بلندی تک جب پہنچ پائے تو دیکھا کہ آگے جانے کا راستہ نہیں تھا۔ بادلِ نخواستہ واپس آنا پڑا۔ تحقیق کا یہ سفر تشنہ رہ گیا۔ بہرحال، پھر سہی، ان شاء اللہ۔ گلیشئیر کے ٹھنڈے یخ پانی سے وضو کیا تو اعضاء سُن سے ہو گئے ۔

ندی کی طرف واپس آ کر ہم کشتی میں بھی بیٹھے اور پانی کا لطف لیا۔ نماز کی جگہ پر پکنک پر آئے کچھ مولوی حضرات نماز ظہر باجماعت ادا کر رہے تھے، ہم بھی شامل ہوگئے ۔ سلام پھیر کر مقتدیوں نے کہا کہ عصر کی نماز بھی ادا کر لی جائے ۔ امام صاحب حنفی معلوم ہوتے تھے۔ ان کو کچھ تامل ہوا لیکن کچھ تو عصر کا وقت بھی قریب آ لگا تھا اور کچھ سفر نے بھی ان کو سمجھا دیا تھا کہ شریعت کی آسانی کو آسانی سمجھ کر برتا جائے، چنانچہ وہ عصر کی نمازپڑھانے پر بھی راضی ہوگئے۔

مہوڈنڈ سے واپسی پر راستے میں دیکھا کہ کسی شخص نے کے پی کے کی حکومت کی عدم توجہی سے تنگ آ کر ایک آبشار کے پانی کی مدد سے ذاتی طور پر ٹربائن لگا کر بجلی پیدا کرنے کا انتظام کر رکھا تھا۔ معلوم ہوا کہ قریب کے لوگوں کو پچاس روپے ماہانہ پر وہ لامحدود بجلی مہیا کر رہا تھا۔ مہوڈنڈ سے کالام تک ایسے متعدد مقامات ہیں جہاں پانی کا دھارا اتنا تیز ہے کہ چھوٹی قسم کی ٹربائن چلائی جا سکتی ہے اور مفت میں بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ سننے میں آیا تھا کہ چین ایسی ٹربائن پاکستان کے چند تیز رفتار دریاؤں کے چنیدہ مقامات پر لگا کر کامیابی سے بجلی پیدا کر رہا ہے۔ کے پی کے کی حکومت بھی اگر توجہ کرتی تو ان علاقوں کو بجلی کی ضرورت میں خود کفیل کرنا کچھ مشکل نہ ہوتا۔

واپس آ کر ہم نے کھانا کھایا۔ مہوڈنڈ میں ٹراؤٹ مچھلی دستیاب تھی، لیکن مصدقہ نہیں تھا کہ وہ فارم کی ہے یا دریا سے پکڑی ہوئی۔ سارے راستے بشر علوی صاحب ٹراؤٹ مچھلی کی گردان کرتے رہے، واپس آ کر ہم مچھلی ڈھونڈنے بھی نکلے، لیکن ملی نہیں اور بشر صاحب کو رات مچھلی کے بغیر ایسے گزارنی پڑی، جیسے مچھلی پانی کے بغیر گزارا کرتی ہے۔ اگلے دن ہم ہوٹل سے باہر نکلے، ناشتہ کیا اور دریا کے کنارے بیٹھ کر علمی گفتگو کرتے رہے۔ دوپہر کا کھانا ہم نے نہیں کھایا اور رات کو ایک اور ہوٹل ہنی مون پہنچے اور نہایت لذیذ کھانا کھایا۔ یہاں ٹراؤٹ مچھلی بھی دستیاب ہوگئی تھی۔ نیت سچی ہو تو چیز مل ہی جاتی ہے، بشر صاحب کی مراد بر آئی تھی۔

کالام میں ایک جگہ یہ دکان دیکھی جس کے بورڈ پر بائیں طرف اوپر لکھا ہوا تھا۔

’’خریدا ہوا مال بخوشی واپس یا تبدیل ہو گا۔‘‘

رات اپنے ہوٹل میں گزاری اور اگلے دن صبح سویرے بعد از نمازِ فجر واپسی کی راہ لی۔

واپسی پر ایک منظر دیکھا جسے ہم نے اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔ یہ کچھ لوگ دریا کے اوپر پہاڑ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک رسی کے ذریعے لگی ہوئی خود ساختہ لفٹ کی مدد سے شادی کا سامان لے کر جا رہے تھے، جس میں انسان کی حفاظت کے لیے کوئی چیز نہیں تھی۔ آدمی کو خود ہی اپنا آپ سنبھالنا تھا۔ یہ سراسر مہلک لفٹ تھی۔ معلوم ہوا کہ اس کی وجہ سے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ شادی کا سامان اپنی جان پر کھیل کر لا رہے تھے۔ یہ حالات دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے کی پسماندگی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ سڑکیں جو 8 یا 9 برس پہلے آنے والے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھیں وہ بھی تعمیر نہیں کی گئیں ہیں۔ بجلی کا انفراسٹرکچر موجود ہونے کے باوجود بجلی سرے سے ہے ہی نہیں۔ ہوٹل بھی چند گھنٹوں کے لیے جنریٹر سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ موبائل فون کے سگنل کمزور ہیں۔ انٹرنیٹ بھی نہیں چلتا۔ اس سب کے باوجود قدرتی حسن کی بے پناہی لوگوں کو یہاں آنے پر مجبور کرتی ہے اور اس سے یہاں کے لوگوں کا روزگار سال میں تقریباً تین ماہ چلتا ہے۔ باقی سارا سال اسی جمع شدہ سرمائے سے کام چلاتے ہیں۔

میونسپل کا تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی وجود ہی پایا نہیں جاتا ان علاقوں میں۔ کوڑا کرکٹ اور تمام سیوریج دریائے سوات کے خوبصورت شفاف پانی میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف دریا کا حسن متاثر ہو رہا ہے بلکہ پانی بھی خراب ہو رہا ہے۔

بحرین پہنچ کر ہم نے اپنی گاڑی لی اور پنڈی کی طرف واپس چل پڑے۔ راستے میں ایک چھپر ہوٹل پر شاندار ناشتہ کیا۔ ناشتہ ایسا عمدہ ملا کہ آج بھی زبان کو اس کا ذائقہ یا د ہے۔ واپسی پر ہم’’حلال‘‘ موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے آئے۔ بشر صاحب کومرزا غالب کا جنون ہے۔ انہوں نے جگجیت، راحت فتح علی وغیرہ کی گائی ہوئی غالب کی غزلیں سنوائیں۔ نصرت فتح علی، رفیع اور لتا نے بھی بہت لطف دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ کی جمالیاتی حس کی مناسب نشو و نما نہ ہوئی ہو تو آپ نہ انسانی سماج کو درست طور پر سمجھ سکتے ہیں نہ ہی فرد کو۔ دین بھی جمالیاتی روپ میں نازل ہوا ہے، قرآن جمالیات کا معجزہ ہے۔ قرآن کا فہم بھی بد ذوق یا کم ذوق پر نہیں کھلتا۔

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to (سفر نامہ کالام اور جھیل مہوڈنڈ) (Dr. Irfan Shehzad ڈاکٹر عرفان شہزاد)

  1. Hafsa says:

    Very nice article. please comment on ‘halal moseeqi’. I am looking for easiness in Deen and like moseeqi.

  2. Alamzeb says:

    Great.
    Assalaam o Alaikum Wa Rahmat Ullah I Wa Barkaat u Hu.
    .Rehan Ahmad yousfi(Abu Yahya) DrShah Zad & co Had this excretion been published the u/ s would have extended some services being am resident of this area.Comments regarding negligence of the government is very.This area is suffering a lot of problems need immediate attention of the authorities.But unfortunately the leaders are busy in thugs of war. GOD HELP THE NATION & CONTRY. Ameen.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *