سلسلہٴ روز و شب ۔ اسلام اور لونڈیاں (Abu Yahya ابویحییٰ)

اسلام اور لونڈیاں

مجھ  سے مختلف حوالوں سے بار بار یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام میں لونڈیوں کا کیا تصور ہے۔ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اگر ان کا ذکر آگیا ہے تو قرآن مجید کے احکام کی ابدی نوعیت کے پیش نظر ان سے تمتع کرنا (جنسی تعلق قائم کرنا) ابھی بھی جائز ہونا چاہیے۔ بلکہ عملی طور پر بہت سے لوگ آج بھی گھریلو خادماؤں سے یا بے سہارا لڑکیوں کو اپنے پاس رکھ کر اسی بنیاد پر ان سے تعلق قائم کرتے ہیں۔ اس کے ردعمل میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ استدلا ل پیش کیا جاتا ہے کہ لونڈیاں بھی منکوحہ بیویاں ہی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ قران مجید کے کئی بیانات اس بات کی باصراحت نفی کرتے ہیں اس لیے یہ استدلال بالکلیہ رد کردیا جاتا ہے۔ آج انشاء اللہ میں اسی نوعیت کے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

دو قسم کے احکام

اس معاملے میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس حوالے سے بیان ہونے والے احکامات کی نوعیت کو درست طور پر سمجھا جاتا ہے نہ بیان کیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن مجید میں مرد و زن کے تعلق کے حوالے سے دو طرح کے احکام پائے جاتے ہیں۔ ایک احکام وہ ہیں جو نزول قرآن کے وقت رائج حالات کے پس منظر میں ہیں۔ دوسرے احکام وہ ہیں جو بطور ابدی شریعت کے دیئے گئے ہیں۔

پہلی قسم کے احکام وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے معاشرے میں لونڈیوں کی موجودگی کے باوجود ان سے تمتع کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ نزول قرآن کے وقت گھر گھر لونڈیاں موجود تھیں۔ مگر اس کے باوجود قرآن مجید جب نازل ہوا تو اس نے لوگوں کو میاں بیوی کا تعلق قائم کرنے سے نہیں روکا اور اس حوالے سے کوئی قانونی ممانعت ہمیں نظر نہیں آتی۔ان قرآنی بیانات کی مثالیں درج ذیل ہیں۔

مکی دور کی دو سورتوں ( معارج ۳۰ : ۷۰  ، مومنون ۶ :  ۲۳) میں ارشاد ہوتا ہے۔

’’ اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں۔‘‘

یہ اس ضمن کی صریح ترین آیت ہے کہ بیویوں کے علاوہ لونڈیوں سے تعلق قائم رکھنے کو قرآن نے اپنے نزول کے وقت ہرگز نہیں روکا تھا۔ یہی صورتحال ہجرت مدینہ کے بعد رہی۔ جنگ احد میں جب بہت سے مسلمانوں کی شہادت ہوگئی اور ہر دوسرے گھر میں بیواؤں اور یتیموں کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرآن مجید نے اس موقع پر عرب کے ایک اور رواج یعنی دوسری شادی کو بطور حل پیش کیا۔ مگر ایک سے زیادہ شادیوں میں یہ شرط لگادی کہ چار سے زیادہ شادیاں نہ ہوں۔ ساتھ ہی تعدد ازواج کو عدل سے مشروط کردیا۔ پھر فرمایا کہ اگر بیویوں میں عدل نہ کرسکو تو پھر ایک سے زیادہ بیوی نہیں کرسکتے، ہاں لونڈیوں سے تمتع البتہ جائز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اور اگر ڈر ہو کہ ان (بیویوں)کے درمیان عدل نہ کرسکوگے تو ایک ہی بیوی رکھو، یا پھر لونڈیاں جو تمھاری ملک میں ہوں‘‘،(النساء ۳ : ۴)

پچھلی آیات کی طرح یہاں بھی بیوی کے ساتھ علیحدہ سے لونڈی کا ذکر یہ واضح کرتا ہے کہ جو لونڈیاں اس وقت موجود تھیں قرآن نے ان سے مقاربت کو جائز قرار دیا تھا اور بیویوں کی طرح اس کے لیے نکاح کے کسی تعلق کو لازم قرار نہیں دیا تھا۔

اس ضمن میں قرآن مجید میں آخری آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے جس میں آپ کو تعداد ازواج اور عدل کی مذکورہ بالا شرائط سے آزاد قرار دیا گیا ہے جن کی پابندی عام مسلمانوں کے لیے ضروری تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اے پیغمبر ہم نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو اللہ نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لیے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم کو معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے باب میں فرض کیا ہے۔ (یہ) اس لیے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لیے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور بردبار ہے۔

(اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو(کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہاری مملوکہ ہوں۔ اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے ۔‘‘، (الاحزاب ۵۲۔۵۰: ۳۳)

اس آخری آیت میں جو پابندی لگائی ہے کہ اس متعین دائرے سے باہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی عورت حلال نہیں، اس میں بھی استثنا صرف لونڈیوں کا ہے کہ نکاح کے بغیر بھی آپ ان کو رکھ سکتے تھے۔

ان احکام و بیانات میں یہ بات واضح ہے کہ لونڈیوں سے تمتع کرنے کی اجازت علی الاطلاق بغیر کسی نکاح کے معاہدے کے صرف اس دور کے رواج کی بنا پر دی گئی ہے جس کے تحت ایک مرد کے لیے یہ جائز تھا کہ وہ محض حق ملکیت کی بنا پر لونڈی سے تعلق قائم کرے، جس طرح وہ نکاح کرکے ایک آزاد عورت سے تعلق قائم کرسکتا تھا۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

9 Responses to سلسلہٴ روز و شب ۔ اسلام اور لونڈیاں (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. M.Kamran Usmani says:

    Most difficult topic you have touched , and Jazak allah o Khairuk you explained it very wisely and correct.
    Please also upload this in english if possible.

  2. Ainee says:

    Jazaka Allah… Allah bless you.
    You have cleared this topic very nicely.Its very informative for us.I was confused but NOT now…

    Many thanks for clearing these confusions.

  3. tehmina ejaz says:

    maashaaAllah sir u have explained this most difficult topic in a very easy way….jazakAllah

  4. Mohammad Ashraf bhattias says:

    Jazak Allah khair you have explained very welll.
    Kind regards

  5. zainab says:

    Jzakillah for solving the confusion of so many muslims , stay blessed

  6. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  7. R Khan says:

    I was so confused about this slavery subject. You explained it to us so nicely and so easily . Jazakallah Khair. May Allah bless you and your team with His utmost blessings.

  8. ameer ali says:

    اگر اس زمانے کے پس منظر میں جائز تھا تو قرآن میں کیوں شامل کیا کیا؟ خدا کو کیا نہیں معلوم تھا کہ مستقبل میں‌حالات تبدیل ہو گا اور یہ چیز لاگو نہیں ھو سکتا۔

  9. عاطف says:

    جزاک اللہ خیرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *