سلسلہ روز و شب – اکتوبر 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

ہم جنس پرستی (1)

محترم قارئین! انسانی تاریخ میں جس سب سے بڑی گمراہی نے انسانیت کو اپنے شکنجے میں کسے رکھا وہ شرک تھا۔ ایک زمانے میں یہ گمراہی اتنی بڑھی کہ اس نے سماج اور ریاست دونوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ تنہا ایک خدا کی عبادت کرنا، سماج سے کٹ کر اپنا مذاق بنالینے کے مترادف تھا۔ مشرکین دنیا کی ہر ریاست پر قابض تھے اپنا دین شرک بالجبر لوگوں پر نافذ کرتے ۔ اگر انبیا کی رہنمائی میں کوئی فرد یا گروہ شرک چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرتا تو موت کی سزا پاتا۔

تاہم کروڑوں اربوں درود و سلام ہوں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب پر کہ ان کی بے پناہ قربانیوں نے شرک کی گمراہی اور اس کے ظلم سے ہمیں نجات دی اور قیامت تک کے لیے دین کے نام پر جبر اور اپنا خود ساختہ دین دوسروں پر ٹھونسنے کا دور ختم کر دیا۔ 

ایک نئی گمراہی

تاہم دور جدید میں ایک اور برائی اسی طرح عالمی طور پر ہر جگہ پھیل چکی ہے جس طرح زمانہ قدیم میں شرک عام ہوا تھا۔ یہ برائی جنسی بے راہ روی کی برائی ہے ۔ دور جدید میں اب کم و بیش تمام متمدن دنیا میں یہ مان لیا گیا ہے کہ بدکاری کوئی برائی نہیں اور عفت کوئی اخلاقی قدر یا خوبی نہیں ہے ۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک دن میں نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے پچھلی کئی صدیوں کے علمی اور سماجی افکار اور صنعتی دور میں پیدا ہوجانے والا طرز معاشرت ہے ۔ تاہم انفارمیشن ایج سے قبل عفت کی موت مغربی سماج کا خاصہ تھی۔ مگر اب گلوبل ویلیج اور انفارمیشن ایج کے زمانے میں یہ برائی اب ساری دنیا میں پھیل رہی ہے۔مغربی تہذیب کے اثرات کے نتیجے میں دنیا کی دیگر اہم تہذیبیں یعنی چینی، ہندی، مسلم تہذیبیں بھی تیزی سے بدکاری کو بطور ایک قدر کے معاشرتی زندگی کا حصہ بنا رہی ہیں ۔ یہ بظاہر اب نصف صدی ہی کی بات ہے کہ مغربی دنیا کی طرح باقی دنیا میں بھی زنا عام ہوجائے گا اور عفت و عصمت کا تصور اسی طرح اجنبی ہوجائے گا جس طرح زمانہ قدیم میں توحید کا تصور ہو چکا تھا۔

جنسی بے راہ روی کے اس سیلاب کے کئی دھارے ہیں ۔ اس کا ایک نیا دھارا جسے مغرب میں بھی حال ہی میں سماجی اور قانونی قبولیت حاصل ہوئی ہے ہم جنس پرستی ہے ۔ پہلے یورپ اور اب نارتھ امریکہ میں بھی ہم جنس پرستی کو سماجی اور قانونی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے ۔ گرچہ آج بھی اس کی مخالفت کئی حلقوں کی طرف سے کی جاتی ہے ، مگر یہ تنقید اور مخالفت پوری طرح موثر نہیں رہی ہے ۔

پوسٹ ماڈرن ازم

انسانی سماج کبھی کسی برائی کو آسانی سے قبول نہیں کرتے ۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ فکری طور پر اس کے حق میں فضا ہموار ہو۔ ہم جنس پرستی کی سماجی اور قانونی سطح پر قبولیت کی اصل وجہ پوسٹ ماڈرن ازم کے وہ افکار ہیں جن کے مطابق انسانی جذبات اور خواہشات کو عقلی تصورات پر فوقیت حاصل ہو چکی ہے اور انسانی اقدارکی قدر و قیمت اضافی قرار دے دی گئی ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب اقدار اور معقولیت جیسی چیزیں اپنی قدر کھو دیتی ہیں تو پھر معاشرے میں ہر قسم کے انحراف کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ یہی ہم جنس پرستی کے معاملے میں ہوا ہے ۔

جدید دنیا میں اب یہ مان لیا گیا ہے کہ افراد اپنی ذاتی زندگی میں باہمی رضامندی سے جو کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ۔ چنانچہ اس کے بعد کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔ رہا سماج تو اس سے نمٹنے کے لیے یہ استدلال تخلیق کیا گیا ہے کہ بہت سے افراد کے لیے یہ کوئی انحراف نہیں ہوتا بلکہ ان کی جینیاتی اور نفسیاتی ساخت کی بنا پر یہ ان کے لیے عین فطر ی طریقہ ہے ۔

مخالفین کے استدلال کی ناکامی

مغرب میں اتنی آسانی سے اس فعل کو قبول عام حاصل نہیں ہوا ہے ۔ روایتی اور مذہبی حلقوں کی طرف سے اس میں بڑی مزاحمت ہوئی ہے ۔ لیکن آخرکار ان کے استدلال کو شکست ہوئی۔ مذہبی استدلال سے مراد یہ ہے کہ مذہبی کتابوں اور مذہبی قانون میں اسے ہمیشہ ایک بہت بڑا جرم سمجھا گیا ہے ۔ قوم لوط کا واقعہ چونکہ بائبل کی ابتدا ہی میں بیان ہوا ہے اور یہود و نصاریٰ کی مذہبی روایت میں ہم جنس پرستی کو ایک بڑا جرم سمجھا جاتا تھا اس لیے اس کا گناہ ہونا ایک مسلمہ تھا۔ تاہم اہل مذہب کی اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے مذہبی اعتقادات اور معیارات کو مغرب میں بہت پہلے ہی شکست ہو چکی تھی۔ اس لیے جب اس بنیاد پر ہم جنس پرستی کی مخالفت کی گئی تو اس کی کوئی خاص شنوائی نہیں ہوئی۔

مغربی سماج میں اصل رکاوٹ فطری استدلال تھا۔ یعنی انسانی فطرت اس چیز کو قبول نہیں کرتی اور اسے ہر حال میں ایک انحراف خیال کرتی ہے ۔ پھر انسان کے سامنے جنسی تعلق کی اصل بنیاد یعنی مرد و عورت کا نکاح کے ذریعے اپنے جذبات کی تسکین کا راستہ اس قدر واضح طور پر کھلا ہوا ہے کہ عام حالات میں لوگ خود ہی ایسے انحرافات سے دور رہتے ہیں ۔ مگریہ ایک حقیقت ہے کہ جن معاشروں میں مردو زن کو ہر طرح کی جنسی آزادی بے روک وٹوک دے دی جائے تو وہاں یہ انحراف خود بخود جگہ پالیتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا جنسی جذبہ لامحدود طور پر طاقتور ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا تکمیل لذت کے نہیں بلکہ تعارف لذت کے اصول پر بنائی ہے ۔ چنانچہ مذہب نے نکاح کے قانون اور دیگر کئی ذرائع سے انسانوں کے اس جذبے پر پابندیاں لگا کر ان کی یہ تربیت کی ہے کہ وہ اسے خود پر سوار نہ ہونے دیں ۔

مگر جن معاشروں میں جنسی جذبہ کو ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد کر دیا جائے تو اس کے نتیجے میں پھر انحرافات جنم لیتے ہیں ۔ تکمیل لذت کی خواہش میں انسان اندھا ہوکر ہر بند دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ہم جنس پرستی بھی ایسا ہی ایک بند دورازہ ہے جسے کھولنا بہت سے لوگوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے ۔ یہی مغرب میں بھی ہوا۔ وہاں لوگوں نے تکمیل لذت کی خاطر اس بند دروازے کو بھی کھول ڈالا۔

تاہم پھر فطرت سے لڑ نے کے لیے انھیں اس کی اخلاقی اور عقلی توجیہ کرنی پڑی۔ وہ توجیہ یہ تھی کہ بہت سے لوگوں کے لیے اپنی جینیاتی اور نفسیاتی ساخت کی بنا پر ہم جنس پرستی ہی عین فطرت ہے اور یہ کسی قسم کی کوئی بیماری یا انحراف نہیں ۔ مزید یہ کہ معاشرے کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر اسے سماجی سطح پر کوئی برائی سمجھا گیا تو اس کا بہت برا اثر ان لوگوں کی نفسیات پر پڑ ے گا۔ سب سے بڑا اور مضبوط استدلال یہ کیا گیا کہ ہم جنس پرستی بعض جینیاتی وجوہات کی بنا پر کچھ لوگوں کے لیے عین فطرت ہے ۔ یہ اگر ان کی فطرت ہے تو انھیں اس سے ہٹانا ان پر بدترین ظلم ہے ۔ پھر مزید یہ بھی بار بار بیان کیا گیا کہ ہم جنس پرست دوسروں سے زیادہ اچھے انسان ، قانون پسند، پرامن شہری ہوتے ہیں ۔ یہ تمام چیزیں اس تواتر کے ساتھ دہرائی جاتی رہیں کہ آخر کار مغربی سماج قانون اور اقدار کی سطح پر یہ مان لیا کہ ہم جنس پرستی ایک نارمل رویہ ہے ۔ چنانچہ 1990میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزئش (WHO) نے اسے ذہنی امراض کی فہرست سے نکال دیا۔ جس کے بعد ایک ایک کر کے تمام مغربی ممالک، جنوبی امریکہ ممالک ، کینیڈا اور امریکہ میں انفرادی ریاستیں ہم جنس شادی کو باقاعدہ قانونی قبولیت دیتے چلے جا رہے ہیں ۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to سلسلہ روز و شب – اکتوبر 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. abida says:

    As a muslim community we need articals like this to create awareness and right attitude toward these issues .jazakallah

  2. Naveed says:

    Assalamoalaikum,
    MashaAllah, is se zyada reasonable writing is subject pe main ne aaj tak nahi parhi. bohat khoob.

  3. Asif says:

    بدکاری کوئی برائی نہیں اور عفت کوئی اخلاقی قدر نہیں…اس گناہ کے سارے سوتے ہیہں سےپھوٹتے ہیں. انفرادی طور پر ان لوگوں کی تربیت کرنے کی بجائے انکی نفسیاتی کمزوری کو پورے معاشرے کو کمزور کردیاگیا.

  4. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *