(سلسلہ روز و شب – جولائی 2014) ( Abu Yahya ابویحییٰ )

 سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

رمضان اور ہمارے اخلاقی معاملات

رمضان مبارک کی مقدس ساعتیں ہم پر سایہ فگن ہورہی ہیں۔ قمری اور شمسی مہینوں کے فرق کی بنا پر اب کئی برس تک رمضان کا مہینہ موسم گرما میں آیا کرے گا۔ تاہم ایک طویل عرصے سے کی جانے والی مذہبی سرگرمیوں کے نتیجے میں مسلمان عبادات کے بارے میں اب کافی حساس ہوگئے ہیں ۔ لہٰذا امید ہے کہ انشاء اللہ سخت ترین گرمی کے موسم میں بھی مسلمانوں کی غالب اکثریت موسم کی شدت اور روزے کی طوالت کے باوجود اس عظیم عبادت کو پوری ہمت اور یکسوئی کے ساتھ ادا کرے گی۔ تاہم اس کے ساتھ سابقہ تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ روزے کے ساتھ وہ ساری اخلاقی خرابیاں جوں کی توں جاری و ساری رہیں گی جنھوں نے ہمارے معاشرے کو ظلم و فساد سے بھر دیا ہے ۔

ہمارے ہاں کے ایک مذہبی انسان کا تصور

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی انسان کا جو تصور ہے وہ کچھ ظاہری چیزوں اور عبادات کے ظاہری ڈھانچے تک محدود ہے۔ عبادات بلاشبہ دین کا اہم ترین اور بنیادی دینی مطالبہ ہے ۔ لیکن جس طرح قلبی ایمان کے بغیر کلمہ پڑھ لینا ایک بے فائدہ عمل ہے ، اسی طرح اپنی اصل روح  کے بغیر یہ عبادات حقیقی فائدہ نہیں دے سکتیں ۔ یہ بات کوئی ہم نہیں کہہ رہے دین دینے والی ہستی نے اس حقیقت کو مختلف پہلوؤں سے کھولا ہے۔ خود روزہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’جس شخص نے (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔‘‘، (صحیح بخاری، رقم 1804)

یہ روایت صاف بیان کرتی ہے کہ روزہ اطاعت کی جس اسپرٹ اور تقویٰ کے جس مقصد کے لیے رکھا جاتا ہے وہ مقصد اگر پورا نہیں کیا جا رہا تو پھر صرف بھوکا پیاسا رہنا وہ عمل نہیں جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے مقصود ہو۔

قرآن کا مطلوب انسان

مزید یہ کہ عبادات کے ساتھ دین کے بہت سے اہم اخلاقی مطالبات ہیں جن سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے ۔ ان میں سے چند اہم مقامات کو میں نے اپنی کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ میں جمع کر دیا ہے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دین آخرت کی نجات اور دنیا میں اعلیٰ شخصیت کے پیدا ہونے کی ضمانت انہی مطالبات کی بنا پر دیتا ہے ۔ ان کو نظر انداز کر کے کوئی شخص کبھی بھی حقیقی دیندار نہیں بن سکتا۔ نہ ان کے بغیر آخرت کی فلاح ممکن ہے نہ دنیا ہی میں اعلیٰ انسان پیدا ہو سکتے ہیں جو کسی معاشرے کو عدل و انصاف اور نتیجے کے طور پر اللہ کی رحمتوں سے بھر دیتے ہیں ۔ مگر ہمارے ہاں یہ سانحہ ہے کہ ہمارے دینی فکر میں یہ اخلاقی مطالبات غیر اہم ہیں ۔ تاہم اگر دین کے اصل ماخذ کو پڑھا جائے تو اس معاملے میں کسی قسم کی غلط فہمی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔

خود روزے کی عبادت کی تفصیل جس طرح قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے اس سے یہ حقیقت صاف واضح ہوجاتی ہے یہ اخلاقی مطالبات عبادات جتنے ہی اہم ہیں بلکہ عبادات اور خاص کر روزے کی عبادت کے بیان کے ضمن میں اس حقیقت کو بالکل کھول دیا گیا ہے کہ اس عظیم عبادت کا مقصد ہی لوگوں کو ان اخلاقی مطالبات کی ادائیگی کے لیے تیار کرنا ہے ۔

رمضان اور اخلاقی رویے

روزہ کا حکم قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں دیا گیا ہے ۔ یہ کئی پہلوؤں سے قرآن مجید کی اہم ترین سورت ہے ۔ اس سورت کے آغاز میں بنی اسرائیل کو ان کے جرائم اور خاص کر بے خوفی (عدم تقویٰ) کی نفسیات کی بنا پر امامت عالم کے منصب سے فارغ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد ایک نئی امت یعنی امت مسلمہ کو اس منصب پر فائز کیا گیا ہے ۔ جس کے بعد نئی امت کو ایمان و اخلاق کی بہترین حالت میں لانے کے لیے ہدایات اور خاص کر اپنی سب سے بڑی نعمت یعنی شریعت عطا کی گئی ہے ۔

روزوں کا حکم شریعت کے قوانین کے اسی سلسلہ بیان میں رکھا گیا ہے ۔ مگر وہ جس طرح اور جس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے اس کا سمجھنا بہت اہم ہے ۔ روزہ سے قبل اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے قصاص کا حکم دیا (آیت 177-179)۔  یعنی قاتل کو اس جرم میں سزائے موت دی جائے ۔ اس کی طاقت اور سماجی حیثیت سے قطع نظر قاتل جو بھی ہو اسے بہرحال سزا ضرور ملنی چاہیے ۔ پھر جان کے بعد مال کی حرمت کے حوالے سے احکام شروع ہوتے ہیں (آیت 181-182)۔ عرب میں طاقتور وارث  کمزوروں کو وراثت کے مال سے محروم کر دیتے تھے ۔ چنانچہ اس ظلم کو روکنے کے لیے ایک ابتدائی حکم یہ دیا گیا کہ مرنے والا اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں جب موت قریب ہو تو یہ معاملہ طے کر کے جائے ۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (سلسلہ روز و شب – جولائی 2014) ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *