(سلسلہ روز و شب – جون 2014) ( Abu Yahya ابویحییٰ )

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ 

قرآن میں گرامر کی غلطیاں  

انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ اب کم و بیش ان تمام اعتراضات سے واقف ہوتا چلا جا رہا ہے جو قدیم مستشرقین اور جدید مغربی مفکرین اللہ تعالیٰ کی ہستی، اسلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، قرآن مجید اور خود نفس مذہب پر کرتے رہے ہیں۔ اس کا ایک علاج ہماری قوم نے یہ ڈھونڈھا ہے کہ ایسی سائٹ کو بلاک کرادیا جائے۔ ہمارے نزدیک یہ کوئی علاج نہیں۔ یہ شتر مرغ  کی طرح  طوفان کی آمد پر ریت میں سر چھپانے کا عمل ہے ۔

ہمیں بہرحال اپنے دین کی تعلیمات پر یہ اعتماد ہے کہ وہ کسی بھی چیلنج کا جواب دے سکتی ہیں ۔ چنانچہ ہم یہ خدمت اپنی حقیر حیثیت میں کرتے رہتے ہیں ۔ اس ماہ میں میں Intelligent Design کے نام سے قارئین نے جو مضمون رسالے کی ابتدا میں ملاحظہ کیا ہے وہ فیس بک پر لگے ہوئے ایسے ہی کچھ اعتراضات کا جواب تھا۔ الحمدللہ قارئین اس مضمون میں دیکھ سکتے ہیں کہ کہ کس طرح اعتراض کی کمزروی کو واضح کر دیا گیا ہے ۔

آج اس کالم میں میرے پیش نظر ایسی ہی ایک خط و کتابت کو پیش کرنا ہے جس میں قرآن مجید پر اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے ۔ اس طرح کی چیزوں کو پیش کرنے کا اصل مقصد پڑھنے والوں میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہے کہ کوئی اعتراض سامنے آئے تو گھبرائیں نہیں ۔ آ پ کا مذہب اللہ کا دین ہے ۔ یہ فکری طور پر اتنا مضبوط ہے کہ اس کی کسی بات کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

اس تمہید کے بعد آپ یہ خط و کتابت ملاحظہ فرمائیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم

میں نے مستشرقین کی ایک کتاب پڑھی تھی ۔ قرآن اور اسرائیلیت۔ اس میں انہوں نے قرآن پاک کی فصاحت اور بلاغت میں ہزاروں کی تعداد میں ہوئی غلطیاں ثابت کی ہیں ۔ وہ قرآن و اسلام کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہے ؟  برائے کرم جواب عنایت فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم

میں نے اس مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب ’’قسم اس وقت کی‘‘ میں بیان کیا ہے۔ یہاں اس کا اقتباس پیش ہے۔ لیکن میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ پوری کتاب کو پڑھیے اس میں اور بھی بہت سے الزامات کے جواب ہیں ۔

’’قسم اس وقت کی ‘‘ سے اقتباس :

’’ قرآن کے ذکر پر کرن نے برا سا منہ بنا کر جواب دیا:

قرآن کا ذکر تو آپ بالکل نہ کیجیے ۔ ساری مذہبی کتابوں کی طرح اس میں بھی بڑی غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔

فاریہ جو کرن کی یہ بات پہلے بھی کئی دفعہ سن چکی تھی، وضاحت کرتے ہوئے بولی:

کرن کا کہنا ہے کہ قرآن میں زبان و بیان اور گرامر کی بہت سی غلطیاں ہیں ۔ اس لیے یہ اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا۔

فاریہ کی اس بات پر عبداللہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہنستے ہوئے کہا:

کرن صاحبہ تو اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں مانتیں ۔ اس لیے قرآن کا اللہ کی طرف سے ہونا نہ ہونا ویسے بھی ان کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے ۔ مگر میں بتاتا ہوں کہ یہ دراصل کس کا مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ درحقیقت اسلام مخالف مستشرقین کا ہے جو اللہ کو تو مانتے ہیں ، مگر قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے ۔ مگر ایسی باتوں کی کمزوری تو دو منٹ میں واضح ہو سکتی ہے ۔

وہ کیسے ؟، فاریہ نے اشتیاق کے ساتھ کہا۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to (سلسلہ روز و شب – جون 2014) ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. noshaba says:

    قرآن کریم واقعی رب تعالیٰ کی کتاب یے

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *