سلسلہ روز و شب – ستمبر 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

  

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

سر اور دھڑ

محترم قارئین! ایک طویل عرصے سے میں نے پاکستان کے سیاسی معاملات پر کچھ لکھنا چھوڑ رکھا ہے ۔ تاہم پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں جب کہ تبدیلی حکومت بذریعہ دھرنا کی سوچ عام ہے ، بعض احباب کا یہ تقاضہ شدت سے سامنے آیا کہ مجھے کچھ نہ کچھ اس حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کے لیے لکھنا چاہیے ۔

میرا معاملہ یہ ہے کہ میرا نشانہ فرد کی اصلاح ہے ۔ اس کے آگے بڑھ کر بس سماج میرا موضوع رہتا ہے ۔ سیاسی امور پر لکھنے کے لیے ویسے بھی بہت اچھے لوگ موجود ہیں ۔ تاہم احباب کے اصرار پر میں آج ایک اصولی بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ اس کے ذیل میں موجودہ سیاسی حالات کی کچھ جھلک بھی آپ دیکھ سکیں گے۔ حالات تو بدلتے رہتے ہیں، لیکن اصول نہیں بدلنے چاہییں ا ور اسی بات پر توجہ دلانا مقصود ہے ۔

سماج اور اقتدار

انسان ایک سماجی وجود ہے۔ وہ تنہا نہیں رہتا بلکہ لوگوں کے ساتھ مل کر رہتا ہے ۔ انسانوں نے جب افراد سے آگے بڑھ کر گروہوں کی شکل میں مل جل کر ساتھ رہنے کا چلن اختیار کیا تو اپنے باہمی تنازعات کو سلجھانے اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ریاست کی شکل اختیار کر لی۔ اس ریاست کی سربراہی کے لیے انسانیت نے اپنی تاریخ میں دو ہی طریقے اختیار کیے ہیں ۔ ایک یہ کہ جس کے پاس طاقت ہو وہ اقتدار پر قبضہ کر لے ۔ دوسرا یہ کہ جس شخص کو لوگوں کا اعتماد اور عصبیت حاصل ہو اسے اقتدار دے دیا جائے ۔

اقتدار ملنے کا ایک تیسرا طریقہ بھی رہا ہے۔ اس طریقے میں اللہ تعالیٰ خود ہی حکمران کا فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔ وہ طالوت کی طرح کوئی عام انسان بھی ہو سکتا تھا اور حضرت موسیٰ، حضرت دادؤ اور سرکار دوعالم علیھم السلام اجمعین کی طرح نبی بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن ختم نبوت کے بعد اب چونکہ اس کے ظہور میں آنے کا کوئی امکان نہیں اس لیے اس کا ذکر ہم جانے دیتے ہیں ۔

پرامن انتقال اقتدار

پاکستان کے عوام نے اپنے لیے انسانی تاریخ کے ان دو طریقوں یعنی بالجبر اقتدار پر قبضہ اور عوام کی مرضی سے حکمران کے انتخاب میں سے دوسرے طریقے کا انتخاب کیا ہے۔ اس ملک کے بانیان، سیاستدانوں ، دانشوروں اور ممتاز ترین علمائے کرام اور معاشرے کے تمام نمائندہ طبقات نے متفقہ طور پر اسی طریقے کو ریاست کا دستور بنایا ہے ۔

اس طریقے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کسی کو حکمران بنانے سے بڑھ کر اسے اقتدار سے پرامن طور پر ہٹانے کا طریقہ ہمیشہ کے لیے طے کر دیا جاتا ہے ۔ جو لوگ تاریخ کے علم سے ادنیٰ سی واقفیت بھی رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنے والے فرد، گروپ یا خاندان کو اقتدار سے ہٹانے کی ہر کوشش میں خواہ وہ کوشش کامیاب ہو یا ناکام ، ہمیشہ بہت بڑے پیمانے پر خونریزی ، بدامنی اور فساد برپا ہوتا ہے ۔ اس کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں جن کی پرسکون زندگی کو سیاست کا یہ ہنگامہ برباد کر کے رکھ دیتا ہے ۔ یہ کبھی نہ بھی ہو تب بھی زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنے والے لوگ ہر قیمت پر اپنا اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش میں معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں ۔

بدقسمتی سے پاکستان میں باربار طاقت کے زور پر اقتدار کو تبدیل کیا جاتا رہا اور اس کی قیمت معاشرہ ادا کرتا رہا ہے ۔ پچھلے کچھ عرصے سے یہ امید ہوچلی تھی کہ شاید یہ صورتحال تبدیل ہوجائے ، مگر ایک دفعہ پھر ملک میں دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے سے اقتدار پر قبضے اور حکمرانوں کی تبدیلی کی بات ہو رہی ہے ۔ یہ کام کرنے والے خواہ اپنے موقف کے حق میں کتنے ہی دلائل دے دیں، اگر ان کا طریقہ کار ہی غلط ہے تو پھر کسی صورت اس کی تائید نہیں کی جا سکتی۔

ہمارے نظام کی خرابیاں

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ نظام میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے ۔ عوامی شکایات کے ازالے اور ضروریات کو پورا کرنے کا نظام بہت کمزور ہے ۔ حکمرانوں کے حوالے سے کی جانے والی بہت سی شکایات درست ہیں ۔ پچھلے انتخابات میں کچھ نہ کچھ دھاندلی بھی ہوئی ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر کسی غیر اخلاقی، غیر دینی اور غیر قانونی طریقے سے موجودہ حکومت کوختم کرنا جائز ہے تو پھر فرض کر لیجیے کہ عمران خان صاحب یا طاہر القادری صاحب اقتدار میں آجائیں تو ان کی حکومت کو ایسی ہی شکایات کر کے اور ایسے احتجاج اور دھرنوں سے ختم کرنا کیو ں جائز نہ ہو گا؟ یہ راستہ اگر کھل گیا تو پھر کسی کے لیے حکومت کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ جو شخص دو پانچ لاکھ لوگ جمع کرسکتا ہے وہ ملک کا نظم ونسق برباد کر کے رکھ دے گا۔ اس لیے کوئی باشعور شخص اس طریقے کی تائید نہیں کرسکتا۔

مستبقل کو چھوڑیے اگر پختون خواہ کی موجودہ حکومت کو وہاں کی سابقہ حکمران پارٹی یعنی اے این پی اپنی شکست کے بعد ٹھیک ایسی ہی شکایات کر کے اور ایسے ہی دھرنوں سے ختم کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہو تو وہ کیسے غلط ہوں گے ؟

اس طرح کی بے اصولی کا جو لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں ، ان سے اس کی توقع کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر کسی اصول و ضابطے کی کوئی پروا کریں گے ۔ ہاں اگر کسی پرامن طریقے پر احتجاج کا مقصد سسٹم کو بہتر بنانا ہے، اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس ملک کے کسی انتخاب میں کوئی دھاندلی نہ ہو ، حکمرانوں پر دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر کریں تو یقینا اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے ۔ بلکہ سب لوگوں کو اس کا ساتھ دینا چاہیے ۔ لیکن احتجاج اگر سسٹم ہی کو ختم کر دے ، معاشرے کو مفلوج کر دے ، اصل مسائل سے توجہ ہٹادے ، عام لوگوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دے تو اس کی تائید کیسے کی جا سکتی ہے ۔

ہمارے نزدیک موجودہ سیاسی کشمکش میں ایک بڑا مثبت امکان یہ چھپا ہوا ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ کشمکش نظام کو مفلوج یا معطل کر دے ، یہ نظام میں بہتری لانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے ۔ اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہر طرح کی دھاندلی سے محفوظ بائیو میٹرک سسٹم کا نظام رائج کیا جائے ۔ انڈیا میں یہ ہو چکا ہے اور ہمارے ہاں نادرا جیسے ادارے کی موجودگی میں جس کے پاس ملک کے تمام لوگوں کو ڈیٹا اور فنگر پرنٹ موجود ہے ، اس کا نفاذ کوئی مشکل نہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہماری اسمبلیاں عام طو رپر پانچ برسوں کے لیے منتخب ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد منتخب لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ عوام سے کیا وعدے کر کے آئے ہیں ۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اسمبلیوں سے منتخب ہونے والو ں کو پانچ کے بجائے چار سال بعد دوبارہ عوام کے پاس جانا چاہیے ۔ فوری طوراگر یہ دو تبدیلیاں ہی کر دی جائیں تو عوامی احتساب بتدریج صورتحال کو بہتر کرتا چلا جائے گا۔

سماج کی مچھلی کا دھڑ اہم ہے

آخر میں ہم اس حقیقت پر بھی توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں خرابی کی بڑی وجہ اشرافیہ اور سیاستدانوں کا رویہ ہے ، مگر معاشرے کے دیگر طبقات بھی اپنے اپنے دائرے میں اسی نوعیت کی خرابیاں پیدا کر رہے ہیں ۔ یہ سوچنا محض ایک نادانی ہے کہ اوپر کا سسٹم بدل دیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ چینی کہاوت ہے کہ مچھلی سر سے گلتی ہے یعنی معاشرہ اشرافیہ کی خرابی سے خراب ہوتا ہے ۔ مگر ہمارے آقا نبی کریم علیہ السلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ مچھلی اگر سر سے گل جائے تو گلے ہوئے سر کو زبردستی ٹھیک کرنے کے بجائے باقی جسم کو سڑنے سے بچانے میں لگ جانا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرہ وہ مچھلی ہے جس کا دھڑ ٹھیک رہے تو گلے ہوئے سر کی جگہ نیا سر پیدا ہوجاتا ہے ، مگر دھڑ ہی سڑ جائے تو پھر مکمل تباہی کے علاوہ کوئی امکان نہیں بچتا۔

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کہ اہل دانش اپنے آقا کا یہ فرمان بھول کر گلے ہوئے سر کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں لگ گئے ۔ یہاں تک کہ اب دھڑ ہی سڑنے لگاہے ۔ مگر اب بھی وقت ہے ۔ کچھ لوگ سر کے بجائے دھڑ کو نشانہ بنالیں تو ایک نسل میں صورتحال بدل جائے گی۔ ورنہ ایسے انقلابی دھرنے ، تحریکیں اور انقلاب ہم نے بہت دیکھے ہیں ۔ ان سے تباہی زیادہ ہوتی ہے اورخیر کم نکلتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

3 Responses to سلسلہ روز و شب – ستمبر 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amir Hafeez says:

    A Good Article

  2. Amir Hafeez says:

    A good article for those who are worried about the present situation. May Allah Almighty bless our country. Aameen

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair for your input on current issues!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *